خیبرپختونخوا اسمبلی، گستاخ صحابہ کو انٹرپول کے ذریعے گرفتار کرکے وطن واپس لانے کی قرارداد منظور WhatsAppFacebookTwitter 0 8 September, 2025 سب نیوز

پشاور (سب نیوز)خیبرپختونخوا اسمبلی نے اصحاب رسول ۖ کی گستاخی میں ملوث افراد کو انٹرپول کے ذریعے گرفتار کر کے وطن واپس لانے کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی۔
تفصیلات کے مطابق صوبائی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر بابر سواتی کی سربراہی میں ہوا، جے یو آئی (ف)کے رکن اسمبلی عدنان وزیر نے سوشل میڈیا پر گستاخانہ الفاظ استعمال کرنے کے معاملے پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا پر گستاخانہ الفاظ استعمال کرنے والے کے خلاف کارروائی کی جائے۔ان کا کہنا تھا کہ ملزم نے مدینہ منورہ کی سرزمین پر غلیظ الفاظ استعمال کیے، معاملہ وفاقی حکومت، محکمہ داخلہ اور وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے)کو بھیجا جائے،جب کہ اسمبلی کی جانب سے جوائنٹ انویسٹیگیشن کی جائے۔
عدنان وزیر نے مزید کہا کہ اسمبلی سیکریٹریٹ اور ہوم ڈیپارٹمنٹ مشترکہ درخواست دیں، ملزم کو قانونی طور پر کیفر کردار تک پہنچانا ہوگا، اس حوالے سے سعودی عرب میں بھی قانونی کارروائی کی سفارش کی جائے، جس کے لیے وفاقی حکومت کو باضابطہ خط لکھنے کی ضرورت ہے۔ جے یو آئی(ف)کے رکن کا کہنا تھا کہ گستاخانہ بیان پر ہاوس کی سطح پر سخت ردعمل دینا ہوگا، وفاقی اداروں کو شامل کرکے بین الاقوامی کارروائی کی جائے اور ملزم کے خلاف ایکسٹریڈیشن یا قانونی کارروائی کی جائے کیوں کہ یہ معاملہ پوری قوم کے جذبات کا ہے، گستاخانہ رویہ کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔
بعد ازاں، اسپیکر صوبائی اسمبلی بابر سواتی نے کہا کہ اس معاملے پر جوائنٹ قرارداد لائی جائے، صوبائی وزیر قانون نے جوائنٹ قرارداد لانے کی حمایت کردی۔اسپیکر صوبائی اسمبلی کا کہنا تھا کہ یہ اہم نوعیت کا مسئلہ ہے، کروڑوں مسلمانوں کے جذبات اس معاملہ سے جڑے ہیں اس پر متفقہ قراداد پیش کی جائے۔بعد ازاں، جمعیت علما اسلام (ف)کے رکن اسمبلی محمد ریاض نے مشترکہ قرارداد پیش کی۔قرارداد میں کہا گیا کہ سعودی عرب میں مقیم پاکستانی شہری نے سوشل میڈیا پر صحابہ کرام کی شان میں گستاخی کی، صحابہ کرام کی شان میں گستاخی سے تمام مسلمانوں کی دل آزاری ہوئی ہے۔قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ ملزم کو انٹرپول کے ذریعے گرفتار کرکے قرار واقعی سزا دی جائے، بعد ازاں ایوان نے قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرکچے کے ڈاکو سیلابی صورتحال کے پیش نظر ہتھیار ڈالنا چاہیں تو قانون پر عمل کیا جائے، وزیرداخلہ سندھ ضیا لنجار کچے کے ڈاکو سیلابی صورتحال کے پیش نظر ہتھیار ڈالنا چاہیں تو قانون پر عمل کیا جائے، وزیرداخلہ سندھ ضیا لنجار اسرائیل کیخلاف جنگ جیتنے پر ایرانی بھائیوں کوگلے لگا کر مبارکباد دیتے ہیں، نواز شریف پیمرا نے میسرز حمزہ صادق نیوز نیٹ ورک پرائیویٹ لمیٹڈ لاہور کیخلاف قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کے سیلاب متاثرین کیلئے امدادی سامان کے 5 ٹرک پہنچادیئے گئے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد سے اماراتی بحریہ کے کمانڈر کی ملاقات پنجاب میں سیلاب متاثرین کیلئے بحالی کا آغاز، 12ستمبر سے جامع سروے ہوگا TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: کی قرارداد لانے کی

پڑھیں:

گل پلازہ انکوائری رپورٹ منظرِ عام پر نہ لانے کا فیصلہ، شفافیت اور تفتیشی عمل پر نئی بحث

گل پلازہ آتشزدگی کیس کی انکوائری رپورٹ منظرِ عام پر لانے کے لیے ایم کیو ایم پاکستان کی جانب سے دائر درخواست مسترد ہونے کے بعد عوام کے حقِ معلومات اور جاری فوجداری تحقیقات کے درمیان توازن ایک بار پھر بحث کا موضوع بن گیا ہے۔ سندھ انفارمیشن کمیشن نے قرار دیا ہے کہ چونکہ مقدمہ ابھی زیرِ تفتیش ہے، اس لیے اس مرحلے پر انکوائری رپورٹ جاری کرنا مناسب نہیں ہوگا۔

کمیشن نے اپنے فیصلے میں کہا کہ تحقیقات مکمل ہونے اور تفتیشی افسر کی جانب سے چالان عدالت میں پیش کیے جانے کے بعد متعلقہ دستاویزات عدالتی ریکارڈ کا حصہ بن جائیں گی، جس کے بعد ان تک رسائی قانونی طریقۂ کار کے مطابق ممکن ہوگی۔ کمیشن کے مطابق جاری تحقیقات کے دوران معلومات کی فراہمی سے تفتیشی عمل متاثر ہونے کا خدشہ موجود ہے، اس لیے ضروری ہے کہ تحقیقات بلا رکاوٹ اپنے منطقی انجام تک پہنچیں۔

ایم کیو ایم پاکستان نے اپنی درخواست میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ گل پلازہ سانحہ عوامی مفاد، شہریوں کے حقِ زندگی اور سرکاری اداروں کی کارکردگی سے جڑا معاملہ ہے۔ پارٹی کے مطابق انکوائری رپورٹ منظرِ عام پر آنے سے ذمہ داریوں کے تعین، شفافیت اور احتساب کے عمل کو تقویت ملے گی، جبکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے بھی رہنمائی حاصل ہو سکے گی۔

سماعت کے دوران یہ پہلو بھی سامنے آیا کہ کیس کی تفتیش کرنے والے افسران نے بتایا کہ انہیں انکوائری رپورٹ دستیاب نہیں تھی، جبکہ مختلف سرکاری اداروں نے مؤقف اختیار کیا کہ مطلوبہ ریکارڈ ان کے پاس موجود نہیں۔ اس صورتحال نے انکوائری، انتظامی کارروائی اور فوجداری تحقیقات کے باہمی تعلق پر بھی کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

گل پلازہ کیس نے دراصل 2 اہم قانونی اصولوں کو ایک دوسرے کے مقابل لا کھڑا کیا ہے۔ ایک طرف عوام کا مطالبہ ہے کہ ایسے بڑے سانحات سے متعلق حقائق منظرِ عام پر آنے چاہییں تاکہ ذمہ داروں کا تعین ہو اور ادارہ جاتی خامیوں کی نشاندہی کی جا سکے۔ دوسری جانب ریاستی اداروں کا مؤقف ہے کہ اگر کسی مرحلے پر معلومات کی فراہمی سے تحقیقات یا عدالتی کارروائی متاثر ہونے کا خدشہ ہو تو تفتیش کو ترجیح دینا قانونی تقاضا ہے۔

حقِ معلومات سے متعلق قوانین کا مقصد سرکاری معاملات میں شفافیت کو فروغ دینا ہے، تاہم ان میں یہ گنجائش بھی رکھی گئی ہے کہ حساس نوعیت کے معاملات میں معلومات کی فراہمی اس وقت تک مؤخر رکھی جا سکتی ہے، جب تک تحقیقات اپنے منطقی انجام تک نہ پہنچ جائیں۔ یہی وجہ ہے کہ گل پلازہ کیس میں اصل سوال صرف رپورٹ کی اشاعت کا نہیں بلکہ اس مناسب وقت کا بھی ہے، جب ایسی معلومات عوامی دسترس میں لائی جانی چاہییں۔

یہ بھی پڑھیے سانحہ گل پلازا: جوڈیشل کمیشن نے انکوائری رپورٹ مکمل کرکے سندھ حکومت کے حوالے کردی

یہ مقدمہ شہری سلامتی کے وسیع تر تناظر میں بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ گل پلازہ آتشزدگی نے عمارتوں کے حفاظتی انتظامات، فائر سیفٹی کے نظام، تعمیراتی ضوابط پر عمل درآمد اور متعلقہ اداروں کی نگرانی سے متعلق کئی سوالات کو جنم دیا تھا۔ ایسے میں انکوائری رپورٹ کو صرف ذمہ داریوں کے تعین کی دستاویز نہیں بلکہ مستقبل کی اصلاحات کے لیے ایک اہم حوالہ بھی تصور کیا جا رہا ہے۔

اب توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ جاری تحقیقات کب مکمل ہوتی ہیں اور عدالتی کارروائی کس مرحلے تک پہنچتی ہے۔ اگر تحقیقات اپنے منطقی انجام تک پہنچنے کے بعد انکوائری رپورٹ یا اس کے نتائج عوامی ریکارڈ کا حصہ بنتے ہیں تو اس سے نہ صرف اس مقدمے سے متعلق کئی سوالات کے جواب مل سکیں گے بلکہ یہ بھی واضح ہوگا کہ اس سانحے سے حاصل ہونے والے اسباق کو ادارہ جاتی اصلاحات میں کس حد تک ڈھالا جا سکا۔

یوں گل پلازہ کیس محض ایک انکوائری رپورٹ تک محدود نہیں رہا بلکہ پاکستان میں شفافیت، مؤثر تحقیقات اور ادارہ جاتی احتساب کے درمیان توازن کا ایک اہم امتحان بن چکا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • گل پلازہ انکوائری رپورٹ منظرِ عام پر نہ لانے کا فیصلہ، شفافیت اور تفتیشی عمل پر نئی بحث
  • کراچی: ملیر 15 میں رینجرز اور ایس آئی یو کی کارروائی، 3 بھتہ خور ہلاک
  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 5 ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن