سونا، تانبہ و دیگر نایاب دھاتیں نکالنے کیلئے حکومت اور امریکی کمپنیوں کے درمیان ایم او یو پر دستخط WhatsAppFacebookTwitter 0 8 September, 2025 سب نیوز

اسلام آباد(سب نیوز)امریکا کی معدنیات نکالنے والی تین معروف فرمز کے اعلی سطح وفد نے پاکستان کا دورہ کیا، یہاں موجود سونا، تانبہ اور دیگر نایاب معدنیات نکالنے سے متعلق وزیراعظم اور آرمی چیف کی موجودگی میں حکومت اور امریکی فرمز کے درمیان دو ایم او یو سائن ہوگئے۔
تفصیلات کے مطابق معدنیات، کان کنی اور انفرااسٹرکچر سیکٹر کی معروف عالمی کمپنیوں یونائیٹڈ اسٹیس، اسٹریٹجک میٹلز اور موٹہ اینگل کے اراکین پر مشتمل ایک اعلی سطح امریکی وفد نے 7 سے 9 ستمبر تک پاکستان میں کان کنی کے آپریشنز کو وسعت دینے کے مواقع تلاش کرنے اور معدنی وسائل اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں معاونت اور ان کی قدر میں اضافے کے امکانات کا جائزہ لینے کے لیے پاکستان کا دورہ کیا۔وفد نے وزیر اعظم پاکستان، چیف آف آرمی اسٹاف، وزیر پٹرولیم اور وفاقی وزیر تجارت سے اعلی سطح ملاقاتیں کیں اور انہیں پاکستان کے وسیع معدنی ذخائر بشمول تانبے، سونا اور نایاب زمینی عناصر کے بارے میں بریفنگ دی۔
یہ دورہ پاکستان میں امریکی سفارت خانے کی مدد سے ہوا جس سے اقتصادی اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں مضبوط دوطرفہ روابط اجاگر ہوئے۔ دورہ کرنے والی کمپنیوں نے ملک کے اندر ویلیو ایڈیشن کی سہولیات کے قیام، معدنیات کی پروسیسنگ کی صلاحیت کو بڑھانے اور کان کنی کے شعبے سے منسلک بڑے پیمانے پر بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کی ترقی میں سرمایہ کاری کے لیے آمادگی ظاہر کی۔
دورے میں دونوں حکومتوں کے مابین نایاب زمینی عناصر اور لاجسٹک خدمات سمیت اہم معدنیات کی ترقی اور پروسیسنگ پر توجہ مرکوز کرنے کے حوالے سے دو مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔یہ دورہ کان کنی اور لاجسٹکس کے شعبوں میں عالمی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے پاکستان کی کوششوں میں ایک سنگ میل ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرعمران خان کیخلاف ہرجانے کا کیس، وزیراعظم ویڈیو لنک پر جرح کیلئے طلب عمران خان کیخلاف ہرجانے کا کیس، وزیراعظم ویڈیو لنک پر جرح کیلئے طلب قازقستان کے نائب وزیراعظم وفد کے ہمراہ 2 روزہ دورے پر اسلام آباد پہنچ گئے خیبرپختونخوا اسمبلی، گستاخ صحابہ کو انٹرپول کے ذریعے گرفتار کرکے وطن واپس لانے کی قرارداد منظور کچے کے ڈاکو سیلابی صورتحال کے پیش نظر ہتھیار ڈالنا چاہیں تو قانون پر عمل کیا جائے، وزیرداخلہ سندھ ضیا لنجار اسرائیل کیخلاف جنگ جیتنے پر ایرانی بھائیوں کوگلے لگا کر مبارکباد دیتے ہیں، نواز شریف پیمرا نے میسرز حمزہ صادق نیوز نیٹ ورک پرائیویٹ لمیٹڈ لاہور کیخلاف قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

پڑھیں:

ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی

امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔

میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔

ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔

تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔

اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔

ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔

گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔

مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • حکومت کاچینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • 24 جولائی کیلئے بھی ڈیزل اور پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا گیا
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی