کراچی کی سڑکیں دریا بن گئیں، نالوں کا پانی باہر آگیا، بجلی کا نظام درہم برہم
اشاعت کی تاریخ: 9th, September 2025 GMT
کراچی:
شہر قائد میں منگل کو بارش کے بعد شہر کی مختلف سڑکوں پر پانی جمع ہوگیا، برساتی نالوں سے پانی باہر آگیا جبکہ شہر کی اندرونی گلیوں کا حشر نشر اور جگہ جگہ پانی جمع ہوگیا، کھنڈرات نما سڑکوں پر شہریوں کی آمد ورفت انتہائی مشکل ہوگئی، بلدیاتی اداروں کی جانب سے کئے گئے دعوے بارش کے پانی میں بہہ گئے اور بجلی کا نظام درہم برہم ہوگیا 600 سے زائد فیڈرز متاثر ہوئے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق کراچی میں منگل کو ہوئی بارش کے بعد حسب روایت ان سڑکوں پر پانی جمع ہوا جہاں ماضی میں ہمیشہ جمع ہوتا ہے، بلدیاتی اداروں کی جانب سے دعوے کئے گئے تھے کہ انتظامات مکمل کرلیے گئے ہے لیکن عملی طور پر ان پر عمل درآمد نا ہوسکا۔
ماضی کی طرح شارع فیصل، حسن اسکوائر، نیپا چورنگی، گرومندر، لیاقت آباد 10، اُردو بازار، ایوان صدر روڈ، کارساز، پر برساتی پانی جمع ہوا جس کی وجہ سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا اور ٹریفک کی روانی بری طرح متاثر ہوئی۔
کورنگی روڈ پر بھی بارش کا پانی جمع ہوگیا، چھوٹے بڑے برساتی نالوں سے پانی باہر کی جانب خارج ہونا شروع ہوگیا، یونی ورسٹی روڈ پر ٹریفک کی آمد ورفت نہ ہونے کے برابر ہوگئی، برساتی پانی جمع ہونے سے دوسری جانب کراچی کے تمام ہی علاقوں کی اندرونی گلیوں میں پانی جمع ہوگیا جس کی وجہ سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں جس کی وجہ موٹرسائیکل سواروں کے گرنے کی بھی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، سیکڑوں کی تعداد میں گاڑیاں سڑکوں پر خراب ہوگئیں۔
بجلی کا نظام درہم برہم، 600 سے زائد فیڈرز متاثر
بارش کے بعد شہر میں بجلی کا نظام بھی درہم برہم ہوگیا، کے الیکٹرک کے 600 سے زائد فیڈرز متاثر ہوئے، مختلف علاقوں میں رات گئے تک بجلی بحال نہیں ہوسکی جن میں کورنگی لانڈھی لیاقت آباد بلدیہ ٹاون محمود آباد منظور کالونی گلشن اقبال گلستان جوہر فیڈرل بی ایریا سرجانی ٹاون پی آئی بی کالونی اولڈ سٹی ایریا گولیمار ناظم آباد صدر ڈیفنس کلفٹن کے مختلف علاقوں شامل ہیں۔
بارش کے بعد بلدیاتی اداروں اور کے الیکٹرک کے دعوے برساتی پانی میں بہہ گئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پانی جمع ہوگیا بجلی کا نظام بارش کے بعد سڑکوں پر
پڑھیں:
رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
رواں مالی سال26-2025 کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد رہی اور قابل کاشت رقبہ 3.6 فیصد کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی اور اہم فصلوں کی مجموعی پیداوار میں 0.6 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
قومی اقتصادی سروے 26-2025 کے اہم نکات کے مطابق گندم کاشت رقبہ 4.4 فیصد اور پیداوار4.3 فیصد بڑھ کر 2 کروڑ 96 لاکھ ٹن رہی۔
مالی سال 26-2025 کے دوران چاول کی پیداوار میں 2.8 فیصد اضافہ ہوگیا، گنے کی پیداوار میں 6.2 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی پیداوار8 کروڑ 94 لاکھ ٹن ریکارڈ کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق مکئی کی پیداوار میں 2.7 فیصد کمی آئی تاہم کاشت کا رقبہ گزشتہ سال کے برابر رہا، کپاس کی پیداوار میں بھی 0.5 فیصد کمی رہی اور کاشت کا رقبہ بھی 1.5 فیصد کم ہوگیا۔
دیگر فصلوں میں 2.4 فیصد نمواور پیداوار میں ریکارڈ 50.4 فیصد اضافہ ہوگیا، آلو کی پیداوار 27.6 فیصد، آم 11.6 فیصد اور کیلے کی پیداوار 30.8 فیصد بڑھ گئی۔
اسی طرح ہلدی کی پیداوار میں 25.1 فیصد مرچوں کی پیداوار میں 9.2 فیصد، کاٹن جننگ اور متفرق زرعی شعبوں کی شرح نمو صرف 0.1 فیصد رہی اور لائیو اسٹاک شعبے کی شرح نمو 3.8 فیصد رہی۔