WE News:
2026-06-03@08:09:44 GMT

قطر پر حملہ، چین کہاں ہے؟

اشاعت کی تاریخ: 10th, September 2025 GMT

قطر پر اسرائیلی حملے سے پیدا ہونے والے سوالات میں ، سب سے اہم سوال یہ ہے کہ چین کہاں ہے؟  آپ کہہ سکتے ہیں کہ چین کا تو قطر کے ساتھ کوئی دفاعی معاہدہ نہیں کہ اس سے کوئی امید باندھی جائے، آپ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ قطر  نے تو دفاعی معاملات امریکا کے ساتھ طے کر رکھے ہیں تو پھر سوال  امریکا کی بجائے چین سے کیوں؟  آپ یہ رہنمائی بھی فرما سکتے ہیں کہ چین کسی دوسرے کی لڑائی کیوں لڑے؟  ۔۔۔۔۔۔۔۔  لیکن اس سب کے باوجود یہ سوال اہم ہےاور ایس سی او کے حالیہ اعلامیہ کے بعد تو مجھےاس سوال  پر اصرار بھی  ہے؟

سوالات اور بھی بہت سارے ہیں لیکن وہ اب غیر اہم ہو چکے ہیں، ان پر تکرار لاحاصل ہے۔

مثلاً، سوال یہ بھی ہیں کہ کیا اقوام متحدہ کی کوئی افادیت باقی رہ گئی ہے؟ کیا  یہ حملہ اقوام متحدہ کے  چارٹر کے آرٹیکل 2 کی پامالی نہیں؟ کیا اس چارٹر کا کوئی تقدس باقی ہے؟ کیا عالمی عدالت انصاف میں اتنا دم خم ہے کہ جارحیت کے مرتکب اسرائیل کو کٹہرے میں کھڑا کر سکے  اور کہیں ایسا تو نہیں کہ لیگ آف نیشنز کی طرح اقوام متحدہ  بھی اپنی طبعی عمر مکمل کر چکی ہو اور اب وقت آ گیا ہو کہ دنیا کسی نئے متبادل پر غور کرنا شروع کر دے؟  کیا انٹر نیشنل لا کی اس مرتی مارتی دنیا میں کوئی حیثیت باقی رہ گئی ہے؟

یہ فہرست مزید طویل بھی ہو سکتی ہے لیکن اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ یہ سوالات اپنی معنویت کھو چکے ہیں۔ اسرائیل آئے روز ان  کے جوابات دے رہا ہے۔ یہ بات اب دیوار پر لکھی ہے کہ معاملہ اسرائیل کا ہو تو اقوام متحدہ بھی بے معنی ہے اور اس کا چارٹر بھی۔ اس صورت میں انٹر نیشنل لا بھی کوئی حیثیت نہیں رکھتا اور عالمی انصاف بھی بے بس ہو جاتی ہے۔ ان سوالات پر جتنی بحث ہو سکتی تھی، میں نے اپنی کتاب ’فلسطین: بین الاقوامی قانون کے تناظر میں‘ میں کر دی ہے۔ اب ان سوالات پر مزید گفتگو کار لاحاصل ہے۔

جو سوال اس وقت اہم ہے، اور جس کی معنویت بھی ہے وہ اقوام متحدہ، انٹر نیشنل لا یا او آئی سی کا نہیں، وہ چین کا ہے۔ سوال وہی ہے: چین کہاں ہے؟

اسرائیل کے معاملے میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بھی اتنے ہی بے بس ہیں جتنی رملہ میں بیٹھی فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس۔ مسلم دنیا کا حال بھی ہمارے سامنے ہے۔ امریکا ہے تو اس نے اسرائیل کی خاطر اتنی قرار دادیں ویٹو کی ہیں جتنی باقی سب نے مل کر بھی نہیں کیں۔ اس سے اسرائیل کی شکایت ایسے ہی ہے جیسے مجنوں سے لیلیٰ کی شکایت کی جائے۔ پاکستان کو بھارت نے انگیج کر رکھا ہے، اور اب دہشتگردی کا چیلنج اس کے سوا ہے۔ روس یوکرین میں الجھا ہے۔ باقی صرف چین ہے۔ یہ صرف چین ہے جس میں دم خم  اور صلاحیت ہے کہ اسرائیل کی گرفت کرے تو اس کی بات اسرائیل کو بھی سننا پڑے گی اور امریکا کو بھی۔

 معامہ یہ نہیں کہ چین فلسطین یا قطر کے لیے کیوں بولے؟ بات یہ ہے کہ چین خاموش کیسے رہے گا؟  سوال غزہ یا قطر کا نہیں، سوال چین کا ہے۔

دنیا بدل رہی ہے۔ چین ایک قوت کے طور پر ابھر رہا ہے۔ اگرچہ چین کی یہ پالیسی نہیں کہ وہ کسی تصادم کا حصہ بنے لیکن ابھرتی قوت کے طور پر چین تصادم کو نظر انداز بھی نہیں کر سکتا۔ تصادم  اور لاتعلقی کے بیچ میں بھی ایک دنیا ہوتی ہے۔ صرف معاشی قوت بننا کافی نہیں ہوتا۔ اگر آپ دنیا کے تزویراتی معاملات سے لاتعلق ہو بیٹھیں، اگر آپ ایک قوت کے طور پر بروئے کار نہ آ سکیں، اگر آپ دنیا میں ایک متبادل تزویراتی بیانیہ نہ دے سکیں تو پھر معاشی قوت ہونا کافی نہیں۔

اس ساری بحث میں ایس سی او کے اعلامیے کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ یہ اعلامیہ غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے، یہ  بتا رہا ہے کہ چین اب دنیا کے معاملات سےلاتعلق نہیں رہنا چاہتا۔ چین نے البتہ اپنی سمت واضح کر دی ہے کہ وہ اقوام متحدہ اور اس کے چارٹر سے جڑا ہوا ہے۔ اس اعلامیے میں جتنی بار اقوام متحدہ  اور اس کے چارٹر کا حوالہ دیا گیا ہے وہ حیران کن ہے۔

 چین نے شاید مغربی دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ ہم آپ سے الگ  ہو کر کچھ نیا نہیں کرنے جا رہے، کوئی نیا بلاک نہیں بنا رہے، آپ کے لیے کوئی خطرہ پیدا نہیں کر رہے،  بلکہ ہم اقوام متحدہ ہی سے وابستہ ہیں اور اسی کے اصولوں کو لے کر آگے بڑھ رہے ہیں۔ یہ پیغام اس وقت دیا گیا جب امریکا اقوام متحدہ کو مکمل نظر انداز اور بے توقیر کر چکا ہے اور اسرائیل غزہ میں اقوام متحدہ کے دفاتراور عملےکو نشانہ بناتا ہے تو اسے معمول سمجھا جاتا ہے۔

ایس سی او کا اعلامیہ بتاتا ہے کہ اقوام متحدہ کے جس پرچم کو امریکا نے پرے پھینک دیا ہے، اسے چین نے تھام لیا ہے اور دنیا کو پیغام دے رہا ہے کہ آؤ! اقوام متحدہ کے قوانین کے تحت ایک پرامن دنیا تخلیق کریں یعنی  چین کو اب غزہ  اور قطر کے لیے نہیں، اقوام متحدہ کے ان اصولوں کی حرمت کی خاطر بولنا ہے جنہیں امریکا اور اسرائیل بے رحمی سے پامال کر چکے۔

ایک طرف اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس ہونے جا رہا ہےاور دوسری جانب اس اجلاس سے پہلے، صرف 24 گھنٹوں کے اندر،  اسرائیل 4 ممالک پر حملے کر چکا ہے اور ٹھونک بجا کرا س کی ذمہ داری بھی قبول کر رہا ہے۔ یہ صرف پڑوسیوں کے لیے پیغام نہیں، یہ ایس سی او اعلامیے میں اقوام متحدہ کے لیے کہے گئے سہروں کا جواب آں غزل بھی ہے کہ اقوام متحدہ، اس کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون سے اخذکردہ کوئی دلیل طاقت نہیں بلکہ  امریکا اور اسرائیل کی طاقت ہی سب سے بڑی دلیل ہے۔

اقوام متحدہ اور انٹر نیشنل لا سے بے نیاز ہو کر اگر امریکا یا اسرائیل اسی طرح جارحیت کا ارتکاب کرتے رہے اور ان کے آگے دنیا اسی طرح بے بسی کی تصویر بنی رہی تو یہ رویہ ان سارے امکانات کو پامال کر دے گا جو چین دنیا کے سامنے رکھ رہا ہے۔

 چین کی اتنی طاقت کافی نہیں کہ کوئی اس سے نہ الجھے۔ چین کے لیے اس طاقت کا اظہار بھی اب ضروری ہے کہ کوئی اقوام متحدہ کے چارٹر کو پامال کر کے کسی پر چڑھ دوڑے تو چین اس پر بات کرے اور دنیا کو سننا پڑے کہ چین کیا کہہ رہا ہے۔

گر یہ نہیں تو بابا، باقی کہانیاں ہیں۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آصف محمود

آصف محمود انگریزی ادب اور قانون کے طالب علم ہیں۔ پیشے سے وکیل ہیں اور قانون پڑھاتے بھی ہیں۔ انٹر نیشنل لا، بین الاقوامی امور، سیاست اور سماج پر ان کی متعدد کتب شائع ہوچکی ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اقوام متحدہ کے انٹر نیشنل لا اسرائیل کی ایس سی او کے چارٹر نہیں کہ کہ چین اور اس کے لیے ہیں کہ رہا ہے ہے اور

پڑھیں:

دنیا بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم بھارتی شہری مختلف ممالک کیلیے وبال جان بن گئے

امریکا میں آپریشن چیک میٹ(Operation Checkmate) کے تحت غیر قانونی طور پر مقیم بھارتی شہری سخت کریک ڈاؤن کی لپیٹ میں ہیں۔

دنیا بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم بھارتی شہری مختلف ممالک کے لیے وبال جان بن چکے ہیں، جس کے نتیجے میں امریکا نے وفاقی امیگریشن نافذ کرنے کی مہم ’آپریشن چیک میٹ‘ کے تحت سخت کریک ڈاؤن کا آغاز کردیا ہے۔

امریکی کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن کے مطابق آپریشن چیک میٹ کے تحت گرفتار کیے گئے 36 ٹرک ڈرائیوروں میں سے کم از کم 30 بھارتی شہری تھے۔

خود بھارتی جریدے ٹائمز آف انڈیا کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ متعدد افراد کے پاس درست ڈرائیونگ لائسنس تک موجود نہیں تھے ۔ تمام افراد کیخلاف امریکی قانون کے تحت کارروائی کر کے امریکا سے نکالنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔

یوما سیکٹر کے قائم مقام چیف پٹرول ایجنٹ ڈسٹن کاڈل نے کہا ہے کہ غیر قانونی طور پر موجود بھارتی ڈرائیورعوامی سلامتی کے لیے سنگین خطرات کا باعث بن سکتے ہیں ۔

مزیدپڑھیں:مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو ہونے کا اندیشہ

سعودی عرب، کینیڈا اور امریکا سمیت بیشتر ممالک جعلی دستاویزات اورفراڈ سمیت متعدد وجوہات کی بنیاد پر بڑی تعداد میں بھارتی شہریوں کو ملک بدر کر چکے ہیں ۔ بھارتی حکام کے اعداد و شمار کے مطابق2021 سے 2025 کے دوران 52 مختلف ممالک سے 171,150 بھارتی شہریوں کو ملک بدر کیا گیا ہے۔

عالمی ماہرین کے مطابق مودی کے نام نہاد شائننگ انڈیا کے دعووں کے باوجود بھارتی شہریوں نےغیر قانونی طور پر ملک سے بھاگ کر بھارت کا پول کھول دیا ہے۔ مختلف ممالک میں ریاست مخالف سرگرمیوں اور سنگین جرائم میں ملوث بھارتی تارکین عوامی سلامتی کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • محبوبہ مفتی کا نئی دلی سے مذاکرات کیلئے متحدہ سیاسی محاذ بنانے پر زور
  • دنیا بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم بھارتی شہری مختلف ممالک کیلیے وبال جان بن گئے
  • 99 ووٹ لے کر بنگلہ دیش نے دنیا کو حیران کردیا، اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی صدارت جیت لی
  • جنگ کا قیدی، اسرائیل امریکہ کو کہاں لے آیا؟
  • دنیا شدید گرمی اور تباہ کن موسم کے لیے تیار ہوجائے، اقوام متحدہ نے بڑی وارننگ جاری کردی 
  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت