دوحا حملہ حماس قیادت پر نہیں، پوری عرب و مسلم دنیا پر یلغار ہے، مولانا فضل الرحمان
اشاعت کی تاریخ: 10th, September 2025 GMT
اسلام آباد: جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے قطر کے دارالحکومت دوحا میں حماس کی قیادت پر ہونے والے اسرائیلی حملے کو مسلم دنیا پر براہِ راست حملہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پوری امت مسلمہ حماس اور فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑی ہے۔
انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان کے عوام، جے یو آئی کی قیادت اور تمام کارکنان اس بزدلانہ کارروائی کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ یہ حملہ اس وقت کیا گیا جب حماس کی قیادت امریکی صدر کی پیش کردہ جنگ بندی کی تجویز پر مشاورت کے لیے جمع تھی۔ اس کارروائی میں مغربی فضائیہ کے جاسوسی اور ایندھن بردار طیارے بھی شریک تھے، تاہم حماس کے رہنما خالد مشعل سمیت قیادت کو نشانہ بنانے کی کوشش ناکام رہی۔
انہوں نے دعا کی کہ حماس کی قیادت ہمیشہ محفوظ رہے اور او آئی سی سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر فلسطینی رہنماؤں کو مکمل تحفظ فراہم کرے تاکہ وہ آزادیِ فلسطین اور مسجد اقصیٰ کی بازیابی کی تحریک جاری رکھ سکیں۔
جے یو آئی سربراہ نے واضح کیا کہ ہزاروں فلسطینی اپنی جانوں کی قربانیاں دے چکے ہیں، مگر غزہ اور مغربی کنارے کے مجاہدین آج بھی قابض اسرائیلی فوج کو زمینی محاذ پر ناکام بنا رہے ہیں۔ اسرائیلی فوج اپنی کمزوری کے باعث صرف فضائی بمباری پر انحصار کرتی ہے اور اس کا نشانہ زیادہ تر نہتے شہری، خواتین اور بچے بنتے ہیں۔
انہوں نے اس بات پر بھی گہری تشویش ظاہر کی کہ غزہ کے عوام کئی ماہ سے خوراک اور پانی کی شدید ناکہ بندی اور محاصرے میں ہیں، جس کی وجہ سے بھوک اور پیاس سے اموات بڑھتی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلمان ممالک کی خاموشی اور بے عملی صورتحال کو مزید خطرناک بنا رہی ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے گلوبل صمود فلوٹیلا کے کارکنان کی بھی مکمل حمایت کا اعلان کیا جو تیونس میں جمع ہو کر پچاس سے زائد جہازوں کے ذریعے غزہ کا محاصرہ توڑنے اور امداد پہنچانے کی تیاری کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ شب اسرائیل نے ان پر ڈرون حملہ کر کے حوصلہ شکنی کی کوشش کی، مگر ہم اعلان کرتے ہیں کہ خوراک اور پانی پر پابندی ایک کھلا جنگی جرم ہے اور اسے ہر صورت ختم کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ فلسطینی عوام کی قربانیاں کبھی رائیگاں نہیں جائیں گی اور امت مسلمہ حماس کے شانہ بشانہ کھڑی رہے گی۔ ان کے مطابق ہماری جدوجہد مسجد اقصیٰ اور فلسطین کو اسرائیل کے ناجائز قبضے سے آزاد کرانے تک جاری رہے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: مولانا فضل الرحمان کی قیادت انہوں نے کہا کہ
پڑھیں:
جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
تقریب سے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی، معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی، معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد، مولانا سید عروج زیدی اور مولانا سید فرخ عباس سمیت دیگر نے خطاب کیا۔ اس موقع پر شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ متعلقہ فائیلیںرپورٹ: میثم عابدی
جامعہ کراچی میں آئی ایس او ڈسٹرکٹ پروفیشنل اور دفترِ مشیر امورِ طلبہ کے زیر اہتمام سالانہ یومِ حسینؑ نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا، جس میں جامعہ کے اساتذہ، طلبہ، علمائے کرام اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ حضرت امام حسینؑ کی عظیم قربانی رہتی دنیا تک حق و باطل کے درمیان امتیاز کی علامت بنی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی کا مقصد انسانیت کو گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر ہدایت کی روشنی سے آشنا کرنا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج جمہوری اسلامی ایران امریکا اور اسرائیل کے خلاف جس استقامت اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کر رہا ہے، وہ تعلیماتِ حسینی کا عملی مظہر ہے۔ تقریب کے مقررین میں معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی نے کہا کہ کربلا شعور، بصیرت اور حق شناسی کا راستہ ہے، حضرت امام حسینؑ نے اپنی لازوال قربانی سے دینِ اسلام کو نئی حیات عطا کی جبکہ سیدالشہداءؑ سے محبت درحقیقت رسولِ اکرم ﷺ سے محبت کا اظہار ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی تاریخِ انسانیت کی عظیم ترین قربانی ہے۔
معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد نے اپنے خطاب میں کہا کہ حضرت امام حسینؑ نے دینِ اسلام کی سربلندی اور حق کی بقا کے لیے عظیم قربانی پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ حسینیت کا راستہ ہی پاکستان میں امن، اتحاد اور باہمی ہم آہنگی کو فروغ دے سکتا ہے۔ اسی موقع پر مولانا سید عروج زیدی نے کہا کہ واقعۂ کربلا پوری انسانیت کے لیے ایک ہمہ گیر نمونۂ عمل ہے، جو انسان کو بیداری، حق شناسی اور ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کا درس دیتا ہے۔ تقریب کے درمیان شیعہ اور سنی شرکاء نے مولانا سید فرخ عباس کی اقتدا میں باجماعت نمازِ ظہرین ادا کی۔ شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ یوم حسینؑ میں مختلف طلبہ تنظیموں کے رہنما بھی شریک تھے۔