اداکارہ حمیرا اصغر کی موت معمہ، میڈیکولیگل رپورٹ میں انکشافات
اشاعت کی تاریخ: 10th, September 2025 GMT
ڈیفنس فیز 6 کے ایک فلیٹ سے ملنے والی اداکارہ و ماڈل حمیرا اصغر کی فائنل میڈیکولیگل رپورٹ نے ان کی موت پر مزید شکوک و شبہات پیدا کر دیے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حمیرا کے کپڑوں پر خون کے نشانات اور ڈی این اے کے آثار پائے گئے، جبکہ ان کی لاش مکمل طور پر ڈی کمپوز ہو چکی تھی اور صرف ہڈیاں باقی تھیں، جس کے باعث موت کی وجہ کا تعین ممکن نہیں ہو سکا۔
ذرائع کے مطابق اداکارہ کا ایک موبائل فون تاحال لاپتہ ہے جو تفتیش میں اہم کردار ادا کر سکتا تھا، جبکہ ڈی این اے ڈیٹا بینک نہ ہونے کے باعث خون یا جینیاتی مواد کی شناخت بھی ممکن نہیں ہو سکی۔
واضح رہے کہ حمیرا اصغر کی لاش 8 جولائی کو فلیٹ سے اس وقت ملی جب کرایہ ادا نہ کرنے پر مالک مکان کی درخواست پر عدالتی بیلف نے فلیٹ کا دروازہ توڑا۔ ابتدائی رپورٹ میں بتایا گیا کہ موت کو تقریباً 8 سے 10 ماہ گزر چکے ہیں۔پولیس تفتیش جاری ہے جبکہ کیس کئی پہلوؤں سے معمہ بنا ہوا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار مقرر کرنے کی سفارش
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے آئندہ مالی سال کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش کر دی۔
نجی ٹی وی چینل ہم نیوز کے مطابق پائیڈ نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شواہد پر مبنی فریم ورک رپورٹ تیار کرلی، کم از کم اجرت 40 ہزار سے بڑھا کر 45 ہزار روپے کرنے کی تجویز دی گئی ہے، اس طرح تنخواہوں میں 12.5 فیصد اضافہ ممکن ہوگا۔
رپورٹ کے مطابق کم از کم ماہانہ تنخواہ میں 12.5 فیصد اضافے سے کم آمدنی والے طبقے کی قوتِ خرید بہتر ہوگی اور انہیں مہنگائی کے اثرات سے تحفظ مل سکے گا۔ پائیڈ کا کہنا ہے کہ اجرتی پالیسی کا اثر غربت، روزگار، گھریلو طلب اور مقامی معیشت پر براہِ راست پڑتا ہے، اس لیے کم از کم اجرت کا معاملہ اب صرف لیبر ڈیپارٹمنٹ تک محدود نہیں رہا۔
اے این پی نے سوشل میڈیا پر مذہبی اشتعال انگیز مہم کیخلاف این سی سی آئی اے میں درخواست جمع کرادی
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جولائی تا اپریل مالی سال 2025-26 کے دوران اوسط افراطِ زر 6.19 فیصد رہی، جبکہ اپریل 2026 میں سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح 10.9 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
پائیڈ نے زور دیا ہے کہ اجرتوں کو مہنگائی اور موجودہ معاشی حقائق کے مطابق بنایا جائے تاکہ سماجی استحکام، غربت میں کمی اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ کو یقینی بنایا جا سکے۔