کھیل جاری رہنا چاہیے، بھارتی سپریم کورٹ نے پاک بھارت کرکٹ میچ رکوانے کی درخواست مسترد کردی
اشاعت کی تاریخ: 11th, September 2025 GMT
بھارت کی سپریم کورٹ نے جمعرات کے روز ایشیا کپ ٹی ٹوئنٹی میں 14 ستمبر کو شیڈول انڈیا پاکستان میچ کو منسوخ کرنے کی پبلک انٹرسٹ لٹیگیشن (PIL) فوری طور پر سننے سے انکار کردیا۔ عدالت نے مختصر سماعت کے دوران واضح کیا کہ میچ جاری رہنا چاہیے‘۔
درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ پہلگام دہشتگرد حملے کے فوراً بعد پاکستان کے ساتھ کرکٹ کھیلنا ’قومی مفاد کے خلاف‘ ہے اور اس سے فوجی و عام شہریوں کی قربانیوں پر حرف آئے گا۔
وکیل نے کیس جمعہ کو سننے کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ میچ اتوار کو ہے، براہ کرم اس کی کل سماعت کریں۔ تاہم جسٹس جے کے مہیشوری نے درخواست کو رد کرتے ہوئے کہا کہ میچ جاری رہنا چاہیے۔ مزید دباؤ کے باوجود عدالت نے مداخلت سے انکار کردیا۔
یہ PIL آئین کے آرٹیکل 32 کے تحت دائر کی گئی تھی جس میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا تھا کہ بھارتی کرکٹ بورڈ (BCCI) کو وزارت کھیل کے ماتحت لایا جائے اور نیشنل اسپورٹس گورننس ایکٹ 2025 پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے تاکہ کرکٹ فیصلوں میں جواب دہی یقینی بنائی جا سکے۔
یاد رہے کہ انڈیا اور پاکستان نے 2012-13 کے بعد سے کوئی دوطرفہ سیریز نہیں کھیلی۔ اس کے بعد دونوں ٹیمیں صرف ایشیا کپ، آئی سی سی ورلڈ کپ یا ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ جیسے ٹورنامنٹس میں کسی تیسرے مقام پر آمنے سامنے آتی ہیں۔
باوجود اس درخواست کے، ایشیا کپ کا یہ ہائی پروفائل مقابلہ شیڈول کے مطابق 14 ستمبر بروز اتوار کو ہوگا اور توقع ہے کہ گزشتہ سال انڈیا کی ایشیا کپ جیت کے بعد یہ پہلی ٹکر ہونے کے باعث ریکارڈ ناظرین کو اپنی طرف متوجہ کرے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایشیا کپ
پڑھیں:
دنیا شدید گرمی اور تباہ کن موسم کے لیے تیار ہوجائے، اقوام متحدہ نے بڑی وارننگ جاری کردی
اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے اور عالمی موسمیاتی تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ جون سے اگست 2026 کے دوران ال نینو کے پیدا ہونے کا امکان 80 فیصد تک پہنچ گیا ہے، جس کے باعث دنیا بھر میں شدید گرمی، خشک سالی، غیر معمولی بارشوں اور دیگر موسمی شدت کے واقعات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
عالمی موسمیاتی تنظیم کے مطابق بحرالکاہل کے وسطی اور مشرقی استوائی علاقوں میں سمندر کے پانی کا درجہ حرارت معمول سے غیر معمولی حد تک بڑھ رہا ہے، جس کے نتیجے میں ال نینو کی صورتحال تیزی سے تشکیل پا رہی ہے۔
ادارے نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ عالمی پیش گوئیوں کے مطابق جون تا اگست کے دوران ال نینو کے بننے کا امکان 80 فیصد جبکہ نومبر تک یہ امکان 90 فیصد یا اس سے بھی زیادہ ہوسکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ال نینو کم از کم درمیانی شدت کا اور ممکنہ طور پر طاقتور بھی ثابت ہوسکتا ہے۔
ال نینو ایک قدرتی موسمیاتی عمل ہے جو ہر دو سے سات سال بعد رونما ہوتا ہے اور عموماً 9 سے 12 ماہ تک برقرار رہتا ہے۔ اس دوران بحرالکاہل کے پانی گرم ہوجاتے ہیں، جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں ہواؤں، بارشوں اور درجہ حرارت کے نظام میں نمایاں تبدیلیاں آتی ہیں۔
عالمی موسمیاتی تنظیم کی سربراہ نے کہا کہ دنیا کو ال نینو کے اثرات کے لیے ابھی سے تیاری شروع کر دینی چاہیے کیونکہ یہ خشک سالی، موسلا دھار بارشوں، زمینی اور سمندری ہیٹ ویوز کے خطرات کو مزید بڑھا سکتا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ال نینو ہمارے دروازے پر دستک دے رہا ہے اور اسے ایک ہنگامی موسمیاتی انتباہ کے طور پر لینا چاہیے۔ ان کے مطابق بڑھتی ہوئی عالمی حدت کے ساتھ ال نینو کے اثرات مزید شدید ہوسکتے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جون سے اگست کے دوران دنیا کے بیشتر حصوں میں معمول سے زیادہ درجہ حرارت ریکارڈ کیے جانے کا امکان ہے۔ مشرقی افریقہ کے بعض علاقوں میں بارشیں کم ہوسکتی ہیں، جنوبی ایشیا میں مون سون معمول سے کم رہنے کا خدشہ ہے جبکہ وسطی امریکہ میں بھی خشک اور گرم موسم متوقع ہے۔
ماہرین کے مطابق ال نینو کے باعث زراعت، پانی کے ذخائر، توانائی کے شعبے اور صحت عامہ پر گہرے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں، اسی لیے حکومتوں اور متعلقہ اداروں کو پیشگی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔