اسرائیل جامع معاہدے، جنگ کے خاتمے، مغویوں کی واپسی اور آگے بڑھنے کیلئے تیار ہے، اسرائیلی صدر
اشاعت کی تاریخ: 11th, September 2025 GMT
اسرائیل کے صدر اسحٰق ہرزوگ نے کہا ہے کہ اسرائیل مکمل معاہدے، جنگ کے خاتمے، مغویوں کی واپسی اور آگے بڑھنے کے لیے تیار ہے۔
قطر کے نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق لندن میں چیتھم ہاؤس تھنک ٹینک میں ایک صحافی کے سوال کے جواب میں اسرائیلی صدر اسحٰق ہرزوگ نے کہا کہ ’اسرائیل یہی کچھ کرنے کو تیار ہے، اور وہ انتظار پر انتظار کر رہا ہے، اور ہم ہر وقت دیکھتے ہیں کہ وہ (حماس) تجاویز کے ساتھ کس طرح جوڑ توڑ کرتے ہیں‘۔
اسحٰق ہرزوگ کے یہ ریمارکس ایسے ایک روز بعد سامنے آئے جب اسرائیل نے دوحہ میں حماس کے وفد پر حملہ کیا، جو مبینہ طور پر امریکا کی جانب سے پیش کی گئی جنگ بندی کی تجویز پر بات چیت کے لیے وہاں موجود تھا، اس حملے کی عالمی سطح پر سخت مذمت کی گئی ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے قطر میں حماس کی قیادت پر حملے کو پاکستان میں اسامہ بن لادن کو نشانہ بنانے کے لیے کیے گئے امریکی آپریشن سے تشبیہ دیتے ہوئے ہرزہ سرائی کی تھی کہ ’میں قطر اور دہشت گردوں کو پناہ دینے والی تمام اقوام سے کہتا ہوں کہ یا انہیں بے دخل کریں، یا انہیں کٹہرے میں لائیں، کیونکہ اگر آپ نے ایسا نہیں کیا تو ہم ایسا کریں گے‘۔
Post Views: 5.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان
اسلام آباد: بجلی کی قیمت میں اضافہ ایک بار پھر زیر غور آ گیا ہے، کیونکہ اپریل 2026 کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست نیپرا میں جمع کرا دی گئی ہے۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں ہونے والی سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے دوران خطے میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث توانائی کے شعبے کو متعدد چیلنجز کا سامنا رہا، جس کے اثرات بجلی کی پیداوار پر بھی مرتب ہوئے۔
سی پی پی اے کے مطابق اپریل میں درآمدی ایل این جی کی دستیابی نہ ہونے کے برابر تھی، تاہم مئی کے آغاز میں ایل این جی کے معاہدہ شدہ اور اسپاٹ کارگوز موصول ہونے کے بعد ایل این جی سے چلنے والے بجلی گھروں کو دوبارہ فعال کیا گیا، جس سے نظام میں بہتری آئی۔
حکام نے نیپرا کو آگاہ کیا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تقریباً تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ آئندہ دو ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر منصوبہ بندی مکمل کر لی گئی ہے تاکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
سی پی پی اے حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ بجلی کی قیمت میں اضافہ تجویز کیا گیا ہے، تاہم مئی، جون اور جولائی کی فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو بڑے اضافی بوجھ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ضروری انتظامات اور ایندھن کی دستیابی کو یقینی بنایا جا چکا ہے۔
اب نیپرا درخواست پر تمام فریقین کا مؤقف سننے کے بعد حتمی فیصلہ جاری کرے گا، جس کے بعد یہ طے ہوگا کہ صارفین کو بجلی کے بلوں میں کتنا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔