کراچی پولیس چیف نے دعویٰ کیا ہے گزشتہ سال 2024 کی نسبت رواں سال 8 ماہ کے دوران شہر میں مختلف جرائم کی وارداتوں میں کمی واقع ہوئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق کراچی پولیس چیف جاوید عالم اوڈھو نے گزشتہ روز اپنے کراچی پولیس آفس میں ایک پریس بریفنگ کے دوران دعویٰ کیا ہے کہ رواں سال 2025 میں 8 ماہ کے دوران گزشتہ 2024 کے مقابلے میں ڈکیتی مزاحمت پر ہلاکت کے واقعات میں 32 فیصد کی کمی آئی ہے جبکہ ڈکیتی کے دوران زخمی ہونے کے واقعات میں 30 فیصد کمی ہوئی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ موبائل فون چھیننے کے واقعات میں 16 فیصد، گاڑیاں چھیننے کے واقعات میں 20 فیصد جبکہ گاڑیاں چوری کرنے کی واردات میں 9 فیصد کمی ہوئی ہے۔

جاوید عالم اوڈھو نے بتایا کہ ڈکیتی مزاحمت میں جاں بحق ہونے کے 53 مقدمات میں سے 70 فیصد مقدمات میں ملزمان کا سراغ لگایا گیا اور ان مقدمات میں ملوث 11 ڈاکو گرفتاری کے دوران پولیس سے مقابلہ کرتے ہوئے ہلاک جبکہ 52 کو گرفتار کرلیا گیا۔

 انھوں نے بتایا کہ ڈکیتی مزاحمت میں زخمی ہونے والے 189 مقدمات میں سے 65 فیصد مقدمات کے ملزمان کا سراغ لگایا گیا اور ان مقدمات میں ملوث 5 ڈاکو گرفتاری کے دوران پولیس سے مقابلہ کرتے ہوئے مارے گئے جبکہ 158 کو گرفتار کرلیا گیا۔

جاوید عالم اوڈھو نے بتایا کہ سرے  عام راہزنی کے 49 فیصد، گھروں کی ڈکیتی کے 55 فیصد اور دیگر ڈکیتیوں کے 58 فیصد مقامات کے ملزمان کو گرفتار کیا گیا جبکہ مجموعی طور پر راہزنی کے مقدمات میں 2 ہزار 452 ملزمان گرفتار ہوئے جبکہ 62 ملزمان دوران گرفتاری پولیس مقابلے میں مارے گئے۔

کراچی پولیس چیف نے بتایا کہ انسداد جرائم کے دوران 611 بار ڈاکوؤں سے پولیس پارٹی کا ٹکراؤ ہو جس کے نتیجے میں 94 ڈاکو مارے گئے، 626 کو زخمی حالت میں گرفتار اور 2 ہزار 732 ملزمان کو رنگے ہاتھوں گرفتار کیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ کراچی پولیس نے رواں سال میں اب تک مجموعی طور پر 3 ہزار 948 مختلف اقسام کا اسلحہ برآمد کیا جس میں 16 ایس ایم جیز ، 3 ہزار 834 پستول ، 74 رائفل ، 24 شاٹ گنز اور 17 دستی بم بھی برآمد کیے۔

جاوید عالم اوڈھو نے بتایا کہ اینٹی وہیکل لفٹنگ سیل پولیس نے 212 کار لفٹرز اور 1859 موٹر سائیکل لفٹرز کو گرفتار کیا جبکہ دوران گرفتاری اے وی ایل سی پولیس کا مقابلہ کرتے ہوئے 6 کار لفٹرز ہلاک جبکہ 23 کو زخمی حالت  میں گرفتار کیا۔

اُن کے مطابق اے وی ایل سی پولیس نے بین الصوبائی کار لفٹنگ گینگ کے سرغنہ سمیت 8 انتہائی شاطر ملزمان کو گرفتار کیا جو کہ روز کی بنیاد پر شہر کے مختلف علاقوں میں 3 سے 4 گاڑیاں چوری یا چھیننے میں ملوث تھے جبکہ ملزمان ان گاڑیوں کو بلدیہ میں قائم ایک ورکشاپ میں لیجاتے جہاں ان گاڑیوں کو کٹ اینڈ ویلڈ اور پنچ کر کے نان کسٹم ظاہر کر کے کراچی کے علاوہ کے پی کے اور بلوچستان میں فروخت کرتے تھے جبکہ گرفتار 8 ملزمان میں شامل مدد گار 15 پولیس کا اہلکار ایاز جمیل ملزمان کی معاونت میں ملوث تھا جو ان گاڑیوں کو شہر سے باہر نکلوانے اور فروخت میں سہولت فراہم کرتا تھا۔

انھوں نے بتایا کہ منشیات فروشی کے خلاف کریک ڈاؤن میں اسپیشل برانچ کی اطلاع پر پولیس نے 1213 منشیات فروشوں کو گرفتار کیا جبکہ رواں کے دوران پولیس نے مجموعی طور پر 6 ہزار 346 منشیات فروشوں کو گرفتار کر کے 5 ہزار 149 مقدمات بھی درج کیے ہیں۔

جاوید عالم اوڈھو نے مزید بتایا کہ رواں سال ٹریفک قوانین کے خلاف ورزی پر 11 لاکھ 45 ہزار 706 گاڑیوں کے چالان کیے گئے جس میں 66 ہزار 394 ہیوی گاڑیاں بھی شامل ہیں، ٹریفک قوانین کے خلاف سخت کارروائی ناگریز ہے اور انہی کارروائیوں کے نتیجے میں اگست کے دوران ٹریفک حادثات میں ہلاکت و زخمی ہونے کے واقعات میں 39 فیصد کمی آئی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کے واقعات میں کو گرفتار کیا کراچی پولیس نے بتایا کہ مقدمات میں پولیس چیف فیصد کمی میں ملوث پولیس نے رواں سال کے دوران

پڑھیں:

ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ

امریکا آج سے پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین اور دنیا کے دیگر 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی متعدد اشیا پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے درآمدی محصولات(tarrif) نافذ کر رہا ہے۔
امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ متعلقہ ممالک اپنی سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے میں ناکام رہے ہیں۔

نئے ٹیرف کا اعلان امریکی فیڈرل رجسٹر میں جاری نوٹس کے ذریعے کیا گیا، یہ محصولات اس عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف کی جگہ لیں گے جو امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد 150 روز کے لیے نافذ کیا گیا تھا اور جس کی مدت آج ختم ہو رہی ہے۔

امریکی سپریم کورٹ نے رواں برس فروری میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ سال قومی ہنگامی اختیارات کے تحت عائد کیے گئے 10 سے 50 فیصد تک کے باہمی ٹیرف غیر مؤثر قرار دے دیے تھے، ان ٹیرف کا مقصد امریکا کے تجارتی خسارے کو کم کرنا تھا، تاہم عدالت کے فیصلے کے بعد انتظامیہ نے اب 1974ء کے ٹریڈ ایکٹ کی سیکشن 301 کے تحت نئے محصولات نافذ کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے، جسے قانونی طور پر زیادہ مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق نئے محصولات امریکا کی تقریباً 99.4 فیصد درآمدات پر لاگو ہوں گے، تاہم متعدد اہم اشیا کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے، ان میں خام تیل، قدرتی گیس، کھاد، بعض غذائی اجناس، جبکہ قومی سلامتی کے تحت پہلے سے سیکشن 232 کے محصولات کی زد میں آنے والی گاڑیاں، اسٹیل، ایلومینیم اور تانبا شامل ہیں۔ اسی طرح امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کے آزاد تجارتی معاہدے کے تحت آنے والی متعدد مصنوعات بھی ان نئے محصولات سے مستثنیٰ ہوں گی۔

امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور ان قوانین پر سختی سے عمل کرتا ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی اسی معیار پر عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ ہو اور عالمی تجارت میں غیر منصفانہ مقابلے کا سدباب کیا جا سکے۔

انہوں نے واضح کیا کہ جن ممالک نے امریکا کے ساتھ پہلے ہی تجارتی معاہدے کر رکھے ہیں اور جن کے لیے زیادہ سے زیادہ ٹیرف کی حد مقرر ہے، ان پر نئے محصولات اس حد سے تجاوز نہیں کریں گے۔

مزیدپڑھیں:میٹھے پر سجاوٹ کیلئے چیونٹیوں کا استعمال ریسٹورنٹ مالک کو مہنگا پڑگیا

امریکا کے حتمی فیصلے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا، میکسیکو، ملائیشیا، انڈونیشیا، کمبوڈیا، سری لنکا، ارجنٹینا، ایکواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، اردن، ایل سلواڈور، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو اور دیگر کئی ممالک سے آنے والی متعلقہ مصنوعات پر 10 فیصد کا نیا ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ بعض دیگر تجارتی شراکت داروں پر 12.5 فیصد شرح بھی نافذ ہوگی۔

آسٹریلیا اور برازیل نے امریکی اقدام کو غیر ضروری اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں کریں گے۔

کینیڈا نے، جس پر چند روز قبل ہی تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر نئے امریکی ٹیرف عائد کیے گئے تھے، محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر امریکا کے ساتھ تعمیری مذاکرات جاری رکھے گا۔

کینیڈا کے وزیر برائے امریکا تجارت ڈومینک لی بلانک نے کہا کہ دونوں ممالک آنے والے ہفتوں میں اس مسئلے سمیت دیگر تجارتی معاملات پر بات چیت جاری رکھیں گے تاکہ دونوں ملکوں کے شہریوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

ادھر امریکی ریاست میساچوسٹس کی ڈیموکریٹک گورنر مورا ہیلی نے نئے محصولات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے اشیا مہنگی ہوں گی، کاروباری اداروں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور امریکی معیشت کی مسابقتی صلاحیت بھی متاثر ہوگی۔

تجارتی قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ نئے محصولات کی شرح بڑی حد تک ان عارضی ٹیرف سے ملتی جلتی ہے جو اب ختم ہو رہے ہیں، تاہم چونکہ انہیں سیکشن 301 کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے، اس لیے عدالت میں ان کے خلاف قانونی چیلنج پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوگا۔

ماہرین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اس قانونی راستے کے ذریعے نہ صرف تقریباً تمام درآمدات پر کم از کم 10 فیصد ٹیرف برقرار رکھنا چاہتی ہے بلکہ مستقبل میں ضرورت پڑنے پر ان کی شرح میں ردوبدل کرنے کا اختیار بھی اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • کراچی، رینجرز اور ایس آئی یولیس کے ساتھ مقابلے میں 3 بھتہ خور ہلاک، ایک زخمی گرفتار
  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 5 ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار
  • کراچی، فیڈرل بی انڈسٹریل ایریا میں پولیس مقابلہ، 2 زخمی ڈاکو گرفتار، چھینی گئی موٹر سائیکل برآمد
  • گھوٹکی: سابق ایم پی اے شہریار شر کے بیٹے کو بازیاب کروالیا: ایس ایس پی
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • کراچی میں موٹر سائيکل چوری میں ملوث خاتون گرفتار