نادرا نے کراچی میں تین نئے میگا سینٹرز کھولنے کا اعلان کردیا
اشاعت کی تاریخ: 19th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) نیشنل ڈیٹابیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے کراچی میں شہریوں کی سہولت کیلیے نئے میگا سینٹرز کھولنے کا اعلان کر دیا ہے۔ نادرا کی جانب سے کراچی میں مارچ 2026 تک تین نئے میگا سینٹرز کھولے جائیں گے، یہ اعلان اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل سندھ عامر علی خان نے کراچی یونیورسٹی میں ایک تقریب کے دوران کیا۔عامر علی خان نے بتایا کہ نئے میگا سینٹرز گلشن اقبال، گلبرگ اور سرجانی ٹاؤن کے علاقوں میں قائم کیے جائیں گے تاکہ عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ نادرا نے ہمیشہ عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کرنے اور ٹیکنالوجی کے ذریعے ان کے مسائل حل کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب شہری اپنے موبائل فونز کے ذریعے پاک آئی ڈی ایپ کے تحت گھر بیٹھے مختلف سہولیات حاصل کر سکتے ہیں جس سے وقت اور محنت دونوں کی بچت ہوگی۔ ڈائریکٹر جنرل سندھ کے مطابق طلبہ اور نوجوان نادرا کی نئی خدمات کے بارے میں شعور اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: نئے میگا سینٹرز
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔