دفاعی معاہدے میں شامل ہونے کیلئے دیگر عرب ممالک پر دروازے بند نہیں، خواجہ آصف
اشاعت کی تاریخ: 19th, September 2025 GMT
وزیر دفاع خواجہ آصف نے واضح کیا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے مابین طے پانے والے اہم معاہدے میں شامل ہونے کیلئے دیگر عرب ممالک پر ’دروازے بند نہیں ہیں۔’
نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’میں قبل از وقت اس پر جواب نہیں دے سکتا، لیکن یہ ضرور کہوں گا کہ دروازے بند نہیں ہیں۔‘معاہدے میں دیگر عرب ممالک کی شمولیت پر مزید بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ ہمیشہ نیٹو جیسے سسٹم کی بات کرتے رہے ہیں۔ ’میرے خیال میں مسلمان آبادی کا بنیادی حق ہے کہ وہ مل کر اپنے خطے، ممالک اور قوموں کا دفاع کریں۔واضح رہے کہ دونوں اسلامی ممالک کے درمیان معاہدے کے بعد پاکستان کے دیگر بڑے عرب ممالک کے ساتھ ممکنہ دفاعی معاہدے کی قیاس آرائیاں گردش کرنا شروع ہو گئیں تھیں۔خواجہ آصف نے مزید کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ کئے گئے معاہدے میں ایسی کوئی شق شامل نہیں ہے جو دیگر کسی ملک کو شمولیت سے منع کرتی ہو یا پاکستان کو کسی اور ملک کے ساتھ ایسا ہی معاہدہ کرنے سے روکتی ہو۔معاہدے سے قبل امریکا کو اعتماد میں لینے کے سوال پر وزیرِ دفاع نے کہا کہ اُن کے خیال میں اس پیش رفت پر کسی تیسرے فریق کی شمولیت کا کوئی جواز نہیں ہے۔جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر ایک ملک پر حملہ ہو تو کیا معاہدے کے تحت دوسرا ملک خودبخود شامل ہوگا؟ تو خواجہ آصف نے کہا کہ ’جی بالکل، اس میں کوئی شک نہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ سعودی عرب میں موجود مقدس مقامت کی حفاظت پاکستان کے لیے مقدس فریضہ بھی ہے۔انہوں نے کہا کہ دفاعی معاہدے کا نفاذ کسی مخصوص ملک سے نہیں جڑا، بلکہ یہ دونوں ممالک کی طرف سے فراہم کردہ ایک چھتری ہے کہ اگر کسی ایک پر جارحیت ہو گی تو اس کا مشترکہ دفاع اور جواب دیا جائے گا۔وزیر دفاع نے وضاحت کی کہ یہ کوئی جارحانہ معاہدہ نہیں بلکہ ایک دفاعی انتظام ہے، جو نیٹو جیسا ہے۔انہوں نے مزید واضح کیا کہ یہ معاہدہ بالادستی قائم کرنے کے لیے نہیں ہے۔ ‘ہمارا کسی کا علاقہ فتح کرنے یا حملہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں، دفاع ہمارا بنیادی حق ہے جو ہم سے چھینا نہیں جا سکتا۔’معاہدے کے تحت پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کے استعمال کے سوال پر وزیر دفاع نے کہا کہ’ہمارے پاس جو کچھ ہے، ہماری صلاحیتیں، وہ یقیناً اس معاہدے کے تحت دستیاب ہوں گی۔’ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان ایک ذمہ دار ایٹمی طاقت ہے جس نے ہمیشہ اپنے ایٹمی اثاثے معائنہ کے لیے پیش کیے اور کبھی کوئی خلاف ورزی نہیں کی۔ ‘جب سے پاکستان ایٹمی طاقت بنا ہے، کسی نے کبھی ہمارے ذمہ دار ایٹمی قوت ہونے کو چیلنج نہیں کیا۔‘خواجہ آصف نے غیر ذمہ دار ایٹمی طاقتوں کا تذکرہ کرتے ہوئے اسرائیل کا حوالہ دیا کہ انہوں نے کبھی اپنے ایٹمی اثاثوں کے معائنے کی اجازت نہیں دی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: معاہدے میں معاہدے کے عرب ممالک نے کہا کہ انہوں نے
پڑھیں:
امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
نیویارک(نیوز ڈیسک)امریکہ نے “جبری مشقت سے متعلق خدشات کے پیش نظر” پاکستان، بھارت، چین اور یورپی یونین سمیت 60 تجارتی شراکت دار ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر کے مطابق ان برآمدی محصولات (ٹیرف) کی شرح 10 فیصد سے لے کر 12.5 فیصد تک ہوگی اور یہ جمعہ یعنی آج سے نافذ العمل ہوں گے۔
Today, Ambassador Greer is taking action, at President Trump’s direction, under Section 301 of the Trade Act of 1974 by imposing tariffs on 60 trading partners for their failure to adopt and effectively enforce a prohibition on the importation of goods produced with forced labor.…
— United States Trade Representative (@USTradeRep) July 23, 2026
انہوں نے کہا کہ امریکہ میں جبری مشقت کے خلاف قوانین طویل عرصے سے نافذ ہیں اور اب وقت آ گیا ہے کہ دیگر ممالک بھی اسی طرز کے اقدامات کریں۔
یہ نئے محصولات اس عالمی ڈیوٹی کی جگہ لیں گے جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے رواں سال کے آغاز میں عائد کی گئی تھی اور جس کی مدت اب ختم ہو رہی ہے۔ امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے فروری میں بعض ٹیرف مسترد کیے جانے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے متبادل قانونی راستوں کے ذریعے نئے اقدامات متعارف کروائے ہیں۔
امریکہ کے تجارتی نمائندوں کے دفتر کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا اور ملائیشیا سمیت کئی ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ چین سمیت دیگر 38 ممالک پر 12.5 فیصد ڈیوٹی لاگو ہوگی۔
یورپی یونین، جاپان اور جنوبی کوریا جیسے ممالک کے لیے ٹیرف کی مجموعی شرح 10 سے 12.5 فیصد کے درمیان رکھی گئی ہے۔
دوسری جانب متاثرہ ممالک نے ان اقدامات پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ جاپان اور آسٹریلیا نے ان ٹیرف کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ آزاد تجارتی معاہدوں کے منافی ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق اسٹیل اور ایلومینیم جیسے شعبہ جاتی ٹیرف پہلے سے نافذ ہیں اور ان پر نئے اقدامات کا اطلاق نہیں ہوگا، جبکہ توانائی اور کھاد سمیت بعض اشیا کو استثنا دیا گیا ہے۔
اسلام آباد نے بھی جبری مشقت سے متعلق تحقیقات پر امریکی حکام کو تفصیلی جوابات جمع کرائے ہیں، بلکہ حالیہ تجارتی مذاکرات سے ایک روز قبل بھی مزید وضاحتیں فراہم کی تھیں۔
مزید پڑھیں۔ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے 4 معاہدے