سعودیہ پاکستان دفاعی معاہدے کے بعد بھارت اپنے زخم چاٹ رہا ہے؛ رانا تنویر حسین
اشاعت کی تاریخ: 20th, September 2025 GMT
سٹی 42 : وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ آپریشن بنیان المرصوص میں تاریخی کامیابی اور حالیہ سعودیہ پاکستان دفاعی معاہدے کے بعد بھارت اپنے زخم چاٹ رہا ہے، اور بھارت ساری دنیا میں اکیلا اور اسرائیل کے سوا اسکا کوئی دوست نہیں رہا ۔
شیخوپورہ میں مسلم لیگ ن کے سئینر رہنما سید سجاد حسین شاہ اور سٹی صدر میاں منور اقبال کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوے رانا تنویر حسین کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے گہرے برادرانہ اور دیرینہ تعلقات ہیں، اور یہ بات پاکستان کے لیے اعزاز کی بات ہے کہ اللہ پاک نے ہمیں محافظ حرمین شریفین بنا دیا ہے۔
محسن نقوی کی دبئی میں پاکستانی ٹیم سے ملاقات، کھلاڑیوں کو متحد ہوکر کھیلنے کا پیغام
ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کی موجودہ لہر عمران خان کی پالیسیز کا نتیجہ ہے، پی ٹی آئی کی بدقسمتی ہے کہ وہ آج تک چیزوں کو سمجھ ہی نہیں سکے۔ انہوں نے کہاکہ 2018 میں عمران خان کو زبردستی وزیر اعظم بنایا گیا۔
انہوں نے مزید کہاکہ ہمیشہ مسلم لیگ ن کے دور میں پاکستان نے ترقی کی ہے انشاء اللہ شیخوپورہ شہر کے دیرینہ مسائل کا حل کریں گے ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔