پاکستان خواتین کے شانہ بشانہ ترقی کے عزم پر قائم ہے، وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا اقوام متحدہ اجلاس سے خطاب
اشاعت کی تاریخ: 22nd, September 2025 GMT
نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے تحت منعقدہ ’عورتوں کی چوتھی عالمی کانفرنس‘ کی 30ویں سالگرہ کے اعلیٰ سطح اجلاس سے خطاب کیا۔
انہوں نے تاریخی بیجنگ اعلامیے کے عہد کی یاد دہانی کراتے ہوئے کہا کہ بانیٔ پاکستان قائداعظم کے وژن کے مطابق کوئی قوم اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتی جب تک خواتین مردوں کے شانہ بشانہ کھڑی نہ ہوں۔
وزیر خارجہ نے پاکستان میں خواتین کی قیادت کے کردار کو اجاگر کیا، جن میں مسلم دنیا کی پہلی خاتون وزیر اعظم کا انتخاب اور حال ہی میں پنجاب کی پہلی خاتون وزیراعلیٰ کا منصب شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان خواتین کے بااختیار بنانے کے سفر کو مسلسل آگے بڑھا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: مصر کے وزیر خارجہ کا اسحاق ڈار کو فون، پاکستان اور سعودی عرب کو دفاعی معاہدے پر مبارکباد
انہوں نے پاکستان میں خواتین کے تحفظ اور ترقی کے لیے کی جانے والی اصلاحات کا ذکر کیا جن میں صنفی تشدد کی عدالتیں، خواتین کے پولیس اسٹیشنز، خواتین کی حیثیت کے کمیشن، خواتین کے تحفظ سے متعلق ترقی پسند قوانین، اور سماجی تحفظ کے منصوبے جیسے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) اور وزیراعظم یوتھ پروگرام شامل ہیں۔
اسحاق ڈار نے ’بیجنگ 30 ایجنڈا‘ کے تحت مزید تیز رفتار اقدامات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ خواتین اور بچیوں کو غربت اور تشدد سے آزاد زندگی دینے کے لیے مالی وسائل، تعاون اور شراکت داری میں اضافہ کیا جانا ضروری ہے تاکہ وہ پائیدار ترقی کی قیادت کرسکیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
’عورتوں کی چوتھی عالمی کانفرنس‘ اقوام متحدہ جنرل اسمبلی سینیٹر اسحاق ڈار نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اقوام متحدہ جنرل اسمبلی سینیٹر اسحاق ڈار اسحاق ڈار خواتین کے
پڑھیں:
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کا اہم اجلاس منعقد ہوا ،جس میں انڈونیشیا میں پاکستان کے سفیر زاہد چوہدری نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس میں پی ایم ڈی سی کے صدر ڈاکٹر رضوان تاج اور رجسٹرار سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی شریک ہوئے۔اجلاس میں انڈونیشیا کے میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے طبی تعلیمی اداروں میں داخلے دینے سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ انڈونیشیا کی حکومت نے درخواست کی ہے کہ اس کے انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے معیاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں تعلیم کے مواقع فراہم کئے جائیں۔(جاری ہے)
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ان طلبہ کے تعلیمی اور رہائشی اخراجات انڈونیشیا کی حکومت برداشت کرے گی جبکہ انہیں پاکستان کے بہترین طبی تعلیمی اداروں میں مکمل شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر داخلے دیئے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے تحت تقریباً 200 انڈونیشین میڈیکل اور ڈینٹل طلبہ کو عالمی معیار کی تعلیمی اور تربیتی سہولیات فراہم کی جائیں گی جس سے دونوں ممالک کے درمیان طبی تعلیم کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ انڈونیشیا کی حکومت نے اپنے طلبہ کی طبی تعلیم کے لئے پاکستان کے اداروں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ترجیح دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پیشرفت سے نہ صرف پاکستان اور انڈونیشیا کے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے طبی تعلیمی نظام اور وقار کو بھی تقویت ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستانی ڈاکٹرز دنیا بھر میں اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور خدمات کے ذریعے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں اور یہ اقدام پاکستان کے طبی شعبے پر بین الاقوامی اعتماد کا مظہر ہے۔