وزیراعظم شہباز شریف کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے خوشگوار ماحول میں ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 24th, September 2025 GMT
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے منگل کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے غیررسمی ملاقات کی۔
اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے گرمجوشی سے مصافحہ کیا اور خوشگوار ماحول میں گفتگو کی۔ ملاقات کے دوران نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار بھی موجود تھے۔
یہ بھی پڑھیے: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دنیا میں امن کے داعی ہیں، وزیراعظم شہباز شریف
یہ ملاقات اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سیشن کے دوران صدر ٹرمپ کی میزبانی میں عرب-اسلامی ممالک کے اجلاس کے موقع پر ہوئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اور صدر ٹرمپ کی کل ایک علیحدہ باضابطہ ملاقات بھی متوقع ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے نیویارک میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر کا پاکستان اور انڈیا کے مابین جنگ بندی کرانے کی کوششوں پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ امریکی صدر امن کے حامی ہیں اور دنیا میں امن قائم کرنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ صدر ٹرمپ نے اپنی جنرل اسمبلی کی تقریر میں بھی امن قائم کرنے کی کوششوں کا ذکر کیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اقوام متحدہ امریکا شہباز شریف صدر ٹرمپ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اقوام متحدہ امریکا شہباز شریف وزیراعظم شہباز شریف امریکی صدر
پڑھیں:
ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔