اسرائیل صرف جارحیت نہیں انسانیت کے خلاف جرم کا مرتکب ہورہا ہے: محمود عباس
اشاعت کی تاریخ: 25th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
فلسطین کے صدر محمود عباس نے کہا ہے کہ اسرائیل جو کررہا ہے وہ صرف جارحیت نہیں بلکہ جنگی جرم اور انسانیت کے خلاف جرم ہے، ہم اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی ’گریٹر اسرائیل‘ کی کال کو مسترد اور اس کی شدید مذمت کرتے ہیں۔
عالمی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے بذریعہ ویڈیو لنک خطاب کرتے ہوئے فلسطینی صدر محمود عباس نے کہا کہ میں آج آپ سے مخاطب ہوں جب کہ ہمارے فلسطینی عوام غزہ کی پٹی میں تقریباً دو سال سے نسل کشی، تباہی، بھوک اور بے دخلی کی جنگ کا سامنا کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ نسل کشی ’ اسرائیلی قابض افواج کے ہاتھوں کی جا رہی ہے جنہوں نے دو لاکھ بیس ہزار سے زیادہ فلسطینیوں کو شہید اور زخمی کیا، جن میں اکثریت نہتے بچوں، خواتین اور بوڑھوں کی ہے۔’
انہوں نے کہا کہ’ اسرائیل جو کر رہا ہے وہ صرف جارحیت نہیں بلکہ جنگی جرم اور انسانیت کے خلاف جرم ہے، جو دستاویزی شکل میں ریکارڈ اور مانیٹر کیا جا رہا ہے، اور تاریخ کی کتابوں اور عالمی ضمیر کے صفحات میں بیسویں اور اکیسویں صدی کے سب سے بھیانک انسانی المیوں میں شمار ہو گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: نے کہا
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔