’جو آنا چاہے آئے جو نہ آنا چاہے نہ آئے، کسی کی پروا نہیں‘، سلمان آغا کا ہینڈ شیک تنازع پر دوٹوک مؤقف
اشاعت کی تاریخ: 28th, September 2025 GMT
ایشیا کپ فائنل سے قبل دبئی میں قومی ٹیم کے کپتان سلمان علی آغا نے بھرپور اور جارحانہ انداز میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان جیت کے لیے میدان میں اترے گا اور کسی دباؤ کو خاطر میں نہیں لائے گا۔ پریس کانفرنس کے دوران صحافیوں کے تیز و تند سوالات پر بھی کپتان پر اعتماد نظر آئے اور ہر گیند کو چوکے چھکے میں تبدیل کیا۔ہینڈ شیک تنازع پر سلمان علی آغا نے دوٹوک الفاظ میں کہاکہ "پاکستان اور بھارت میں حالات پہلے بھی خراب رہے مگر ہاتھ نہ ملانے کی روایت کبھی نہیں رہی، یہ کرکٹ کے لیے اچھا نہیں، میرے والد کرکٹ کے بڑے دلدادہ ہیں، انہوں نے بھی کبھی یہ نہیں کہا کہ ہاتھ نہ ملانا، ہمیشہ ہینڈ شیک ہوتا رہا ہے"۔ایشیا کپ ٹرافی کے فوٹو شوٹ پر کپتان کا جاندار جواب تھاکہ "ہم کھیل کے اصولوں کے مطابق تیار ہیں جو آنا چاہے آئے، جو نہ آنا چاہے نہ آئے، ہمیں کسی کی پروا نہیں"۔اپنی کارکردگی پر تنقید کا اعتراف کرتے ہوئے سلمان نے کہاکہ "ہاں، میری پرفارمنس ابھی اس معیار کی نہیں جیسی کپتان کی ہونی چاہیے، اسٹرائیک ریٹ بھی بہتر کرنے کی ضرورت ہے لیکن میرا اور ٹیم کا فوکس صرف اور صرف ایشیا کپ جیتنا ہے"۔بھارتی میڈیا کے شور پر کپتان نے سخت لہجہ اپناتے ہوئے کہاکہ "مجھے بھارتی میڈیا کے تبصروں سے کوئی سروکار نہیں، دباؤ دونوں ٹیموں پر ہے لیکن ہم جیتنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے"۔انہوں نے صائم ایوب پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ "صائم ایوب اگلے دس سال پاکستان کا ٹاپ پرفارمر ہوگا، بیٹنگ میں فی الحال کارکردگی نہیں آرہی مگر بولنگ اور فیلڈنگ میں وہ شاندار کردار ادا کر رہا ہے اور بیٹنگ میں بھی وہ جلد چمکے گا"۔کپتان نے جذباتی انداز میں کہا: "اگر کرکٹر میدان میں جذبات کا مظاہرہ نہیں کرے گا تو کہاں کرے گا؟ میدان سے باہر جو کچھ ہورہا ہے ہمیں اس سے کوئی مطلب نہیں۔ ہمارا مقصد صرف بہترین کرکٹ کھیل کر ایشیا کپ کی ٹرافی اپنے نام کرنا ہے"۔خیال رہے کہ ایشیا کپ فائنل میں پاک بھارت ٹاکراج دبئی میں ہوگا، 41 سال میں پہلی بار ایشیا کپ فائنل میں روایتی حریف آمنے سامنے ہوں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی
لاہور میں نجی کوریئر کمپنی کی وین کے ڈرائیور سے بدتمیزی کرنے پر ٹریفک وارڈن کو معطل کر دیا گیا۔
سی ٹی او لاہور سید عبدالرحیم شیرازی نے فوری ایکشن لیتے ہوئے واقعے کی تحقیقات کے لیے ایس پی صدر کو انکوائری کا حکم دے دیا۔
ٹریفک پولیس افسر کا کہنا تھا کہ انکوائری رپورٹ کی روشنی میں مزید کارروائی ہوگی، شہریوں سے حسنِ سلوک پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
سی ٹی او لاہور نے ٹریفک پولیس میں نظم و ضبط اور عوامی احترام اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ اختیارات کے ناجائز استعمال کی اجازت نہیں دی جائے گی، انکوائری مکمل ہونے پر حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں گے۔
شہری کے مطابق ٹریفک وارڈن نے رکنے کا اشارہ کیا لیکن اشارہ نظر نہیں آیا، تاہم آگے جا کر رکا جس پر ٹریفک وارڈن نے گاڑی کے اندر سوار ہو کر تشدد کا نشانہ بنایا اور گالم گلوچ کی۔ موقع پر وارڈن نے آن لائن چالان بھی جمع کروایا۔