ایاز صادق سے ازبکستان کے پارلیمانی وفد کی ملاقات، اہم عالمی امور پر تبادلہ خیال
اشاعت کی تاریخ: 29th, September 2025 GMT
اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق سے پاکستان کے دورے پر آئے ازبکستان کے پارلیمانی وفد نے اسپیکر نورالدین اسماعیلوف کی سربراہی میں پارلیمنٹ ہاؤس میں ملاقات کی جس میں دوطرفہ پارلیمانی تعلقات، تجارت، سرمایہ کاری اور علاقائی تعاون سمیت اہم عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
پارلیمنٹ ہاؤس آمد پر اسپیکر قومی اسمبلی نے مہمان وفد کا پرتپاک خیرمقدم کیا۔ ملاقات کے دوران دوطرفہ پارلیمانی تعاون اور عوامی روابط بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔
وفد سے گفتگو کرتے ہوئے اسپیکر سردارایاز صادق نے کہا کہ پاکستان اور ازبکستان مشترکہ مذہب، تاریخ اور ثقافت کے رشتوں سے جُڑے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ خطے میں امن، استحکام اور ترقی کے لیے پارلیمانی سفارتکاری ناگزیر ہے، پارلیمانی سفارتکاری ممالک کے درمیان روابط بڑھانے کا اہم ذریعہ ہے،سعودی عرب، ترکیہ، آذربائیجان اور ایران کے پارلیمانی وفود بھی اکتوبر میں پاکستان کی پارلیمان کا دورہ کر رہے ہیں۔
اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے ازبکستان کو آئی پی یو (IPU) کے کامیاب اجلاس کے انعقاد پر مبارکباد دی اور کہا کہ گوادر اور کراچی پورٹ اہم بندرگاہیں ہیں جو ازبکستان کو دنیا سے جوڑ سکتی ہے، ازبکستان پاکستان کی اسٹریٹیجک پوزیشن سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر اور فلسطین کو حل کیے بغیر خطے میں دیرپا امن کا قیام ممکن نہیں ہوگا، عالمی برادری مظلوم کشمیری و فلسطینی عوام کے حق میں فوری اور منصفانہ کردار ادا کرے، امتِ مسلمہ کو کشمیر کے عوام کے حق میں مشترکہ حکمتِ عملی اپنانی چاہیے، پاکستان کشمیری عوام کی جدوجہدِ آزادی کی ہر سطح پر حمایت جاری رکھے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی عوام اور افواج نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دی ہیں، حالیہ بھارتی جارحیت کا پاکستان نے منہ توڑ جواب دیا،پاکستان کا بلا جواز بھارتی جارحیت پر ردعمل متوازن اور نپا تلا تھا، پاکستانی انجینئرز اور سائنس دانوں نے انڈیا کے مقابلے میں بھرپور کارکردگی دکھائی، بھارتی جارحیت کے مقابلے میں پاکستان کی فتح پوری قوم کی یکجہتی اور افواج کی قربانیوں کا نتیجہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے قطر پر بمباری اور دیگر مسلم ممالک کی سرحدی خلاف ورزیاں قابل مذمت ہیں، پاکستان نے ایران اور قطر پر اسرائیل کے حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے واضح طور پر افغانستان پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دے۔
اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ پاکستان میں سرمایہ کاری اور تجارت کے وسیع مواقع موجود ہیں، پاک-ازبک پارلیمانی فرینڈشپ گروپ دونوں ممالک میں پارلیمانی تعاون کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہا ہے، دوطرفہ پارلیمانی اور عوامی روابط سے دونوں ممالک کے تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔
ازبک سپیکر نورالدین اسماعیلوف نے کہا کہ پاکستان آمد پر شاندار استقبال اور گرمجوش میزبانی پر شکریہ ادا کرتے ہیں۔ پاکستان کی شاندار ثقافتی و تمدنی روایات قابل تحسین ہیں ۔پاکستان کی معاشی اور معاشرتی ترقی کے لیے دعاگو ہیں۔
پاکستان کی پارلیمان اپنے عوام کے لیے بہترین خدمات سرانجام دے رہی ہے۔پاکستان کی طرح ازبکستان بھی دہشت گردی کا شکار رہا ہے۔پاکستان اور ازبکستان دہشت گردی کا مقابلہ کرنے میں ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھ سکتے ہیں۔
پاک بھارت جنگ میں پاکستان کا سفارتی محاذ پر ردعمل قابل تحسین ہے۔موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل کی ضرورت ہے۔پاکستان اور ازبکستان کے تعلقات اخوت، اعتماد اور باہمی مفاد پر مبنی ہیں۔
پارلیمانی سطح پر قریبی روابط عوامی سطح پر تعلقات کو مزید مستحکم کریں گے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان کا حالیہ دورۂ ازبکستان دوطرفہ تعلقات کے لیے سنگِ میل ثابت ہوا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ پاکستان انہوں نے کہا کہ پاکستان کی کے لیے
پڑھیں:
سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
سٹی 42: گلگت بلتستان انتخابات کے سلسلے میں اسکردو میں پاکستان پیپلز پارٹی کے جلسے سے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کا منصوبہ دنیا کا سب سے بڑا ہاؤسنگ پراجیکٹ ہے، جبکہ حقیقی ترقی امیروں کو مزید مراعات دینے کے بجائے غریبوں کو روزگار اور مواقع فراہم کرنے سے ممکن ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو ان کے آئینی اور جمہوری حقوق دینا ملکی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کو 18ویں ترمیم جیسے اختیارات دینے کی حامی ہے اور اسلام آباد کو یہاں کے عوام کے حقِ ملکیت کو تسلیم کرنا ہوگا۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ تھر کول منصوبے میں 80 فیصد ملازمتیں مقامی افراد کو دی گئیں، جو ان کی جماعت کے عوام دوست وژن کا عملی ثبوت ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ گلگت بلتستان کے دوروں کے حوالے سے وہ دیگر تمام سیاسی رہنماؤں سے زیادہ مرتبہ یہاں آ چکے ہیں۔
خطاب کے دوران بلاول بھٹو زرداری نے ملکی دفاعی صلاحیتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام شہید ذوالفقار علی بھٹو کی قیادت میں شروع ہوا جبکہ میزائل پروگرام کو شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے آگے بڑھایا۔ انہوں نے کہا کہ سابق صدر آصف علی زرداری نے پاکستان میں غیر ملکی فوجی اڈوں کی موجودگی کا خاتمہ کیا تھا۔
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
سماجی بہبود کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ہر صورت محفوظ رکھا جائے گا اور آئندہ بجٹ میں اس پروگرام کے فنڈز میں اضافے کی کوشش کی جائے گی۔ ان کے مطابق پیپلز پارٹی غریب اور پسماندہ طبقات کی نمائندہ جماعت ہے اور عوامی فلاح کے منصوبوں کو جاری رکھے گی۔
علاقائی اور عالمی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ خطے میں جاری کشیدگی اور جنگوں کے اثرات پوری مسلم دنیا اور عالمی معیشت پر مرتب ہو رہے ہیں۔ انہوں نے امن کے قیام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ جنگوں کے خاتمے اور استحکام کے لیے جاری سفارتی کوششیں کامیاب ہوں گی۔
نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی ہمیشہ امن، جمہوریت اور عوامی حقوق کی سیاست پر یقین رکھتی ہے اور آئندہ بھی عوام کے مفادات کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آپ نے فیصلہ کرنا ہے ، عوام دوست یا عوام دشمن حکومت بنانی ہے ،ہماری غریب دوست اور ان کی عوام دشمن سیاست ہے ، میں نے سیلاب متاثرہ عوام کے لیے گھر بنا کر دیکھائے ۔ انھوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو روزگار دیں ،دوسری جماعتوں کی کوشش ہوتی ہے کہ کیسے لوگوں کو بے روز گار کریں ۔
آزاد کشمیر:تعلیمی اداروں میں گرمیوں کی چھٹیوں کا اعلان
گلگت بلتستان میں انتخابی مہم کے سلسلے میں اسکردو میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کی دفاعی طاقت کی بدولت آج کوئی بھی ملک پاکستان کی جانب میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے قوم کو ایٹمی پروگرام کا تحفہ دیا، جبکہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے میزائل پروگرام کو آگے بڑھایا اور ملکی دفاع کو مزید مضبوط بنایا۔
لاہور بورڈ کا بڑا فیصلہ، داخلہ فارم مکمل طور پر آن لائن کرنے کی تجویز
بلاول بھٹو زرداری نے سابق فوجی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مشرف دور میں غیر ملکی طاقتوں کو پاکستان کی سرزمین پر اڈے قائم کرنے کی اجازت دی گئی تھی، تاہم سلالہ واقعے کے بعد صدر آصف علی زرداری نے ایسے تمام اڈوں کو بند کروا کر غیر ملکی افواج کو واپس بھیج دیا۔ چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ ان کی جماعت پاکستان کو ہر شعبے میں مضبوط اور خودمختار دیکھنا چاہتی ہے۔ ان کے بقول پاکستان پیپلز پارٹی واحد سیاسی جماعت ہے جو ملک کو مزید مستحکم اور عوامی فلاح کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ عوام کو معاشی ریلیف فراہم کرنے کے لیے اقدامات کیے ہیں اور اسی سوچ کے تحت بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) متعارف کرایا گیا، جس کے ذریعے غریب اور مستحق خاندانوں کو مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ بی آئی ایس پی اسلام آباد یا کسی ایک علاقے کا نہیں بلکہ پورے پاکستان کے عوام کا پروگرام ہے، تاہم بعض سیاسی عناصر اسے ختم کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ چاہے گلگت بلتستان کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کے امیدوار کامیاب ہوں یا نہ ہوں، وزیراعظم آئندہ بجٹ میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے فنڈز میں اضافے کا اعلان کریں گے تاکہ زیادہ سے زیادہ مستحق افراد کو ریلیف فراہم کیا جا سکے،انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پیپلز پارٹی آئندہ بھی عوامی فلاح، معاشی استحکام اور قومی خودمختاری کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔