اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق سے پاکستان کے دورے پر آئے ازبکستان کے پارلیمانی وفد نے اسپیکر نورالدین اسماعیلوف کی سربراہی میں پارلیمنٹ ہاؤس میں ملاقات کی جس میں دوطرفہ پارلیمانی تعلقات، تجارت، سرمایہ کاری اور علاقائی تعاون سمیت اہم عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

پارلیمنٹ ہاؤس آمد پر اسپیکر قومی اسمبلی نے مہمان وفد کا پرتپاک خیرمقدم کیا۔ ملاقات کے دوران دوطرفہ پارلیمانی تعاون اور عوامی روابط بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔

وفد سے گفتگو کرتے ہوئے اسپیکر سردارایاز صادق نے کہا کہ پاکستان اور ازبکستان مشترکہ مذہب، تاریخ اور ثقافت کے رشتوں سے جُڑے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ خطے میں امن، استحکام اور ترقی کے لیے پارلیمانی سفارتکاری ناگزیر ہے، پارلیمانی سفارتکاری ممالک کے درمیان روابط بڑھانے کا اہم ذریعہ ہے،سعودی عرب، ترکیہ، آذربائیجان اور ایران کے پارلیمانی وفود بھی اکتوبر میں پاکستان کی پارلیمان کا دورہ کر رہے ہیں۔

اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے ازبکستان کو آئی پی یو (IPU) کے کامیاب اجلاس کے انعقاد پر مبارکباد دی اور کہا کہ گوادر اور کراچی پورٹ اہم بندرگاہیں ہیں جو ازبکستان کو دنیا سے جوڑ سکتی ہے، ازبکستان پاکستان کی اسٹریٹیجک پوزیشن سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر اور فلسطین کو حل کیے بغیر خطے میں دیرپا امن کا قیام ممکن نہیں ہوگا، عالمی برادری مظلوم کشمیری و فلسطینی عوام کے حق میں فوری اور منصفانہ کردار ادا کرے، امتِ مسلمہ کو کشمیر کے عوام کے حق میں مشترکہ حکمتِ عملی اپنانی چاہیے، پاکستان کشمیری عوام کی جدوجہدِ آزادی کی ہر سطح پر حمایت جاری رکھے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی عوام اور افواج نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دی ہیں، حالیہ بھارتی جارحیت کا پاکستان نے منہ توڑ جواب دیا،پاکستان کا بلا جواز بھارتی جارحیت پر ردعمل متوازن اور نپا تلا تھا، پاکستانی انجینئرز اور سائنس دانوں نے انڈیا کے مقابلے میں بھرپور کارکردگی دکھائی، بھارتی جارحیت کے مقابلے میں پاکستان کی فتح پوری قوم کی یکجہتی اور افواج کی قربانیوں کا نتیجہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے قطر پر بمباری اور دیگر مسلم ممالک کی سرحدی خلاف ورزیاں قابل مذمت ہیں، پاکستان نے ایران اور قطر پر اسرائیل کے حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے واضح طور پر افغانستان پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دے۔

اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ پاکستان میں سرمایہ کاری اور تجارت کے وسیع مواقع موجود ہیں، پاک-ازبک پارلیمانی فرینڈشپ گروپ دونوں ممالک میں پارلیمانی تعاون کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہا ہے، دوطرفہ پارلیمانی اور عوامی روابط سے دونوں ممالک کے تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔

ازبک سپیکر نورالدین اسماعیلوف نے کہا کہ پاکستان آمد پر شاندار استقبال اور گرمجوش میزبانی پر شکریہ ادا کرتے ہیں۔ پاکستان کی شاندار ثقافتی و تمدنی روایات قابل تحسین ہیں ۔پاکستان کی معاشی اور معاشرتی ترقی کے لیے دعاگو ہیں۔

پاکستان کی پارلیمان اپنے عوام کے لیے بہترین خدمات سرانجام دے رہی ہے۔پاکستان کی طرح ازبکستان بھی دہشت گردی کا شکار رہا ہے۔پاکستان اور ازبکستان دہشت گردی کا مقابلہ کرنے میں ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھ سکتے ہیں۔

پاک بھارت جنگ میں پاکستان کا سفارتی محاذ پر ردعمل قابل تحسین ہے۔موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل کی ضرورت ہے۔پاکستان اور ازبکستان کے تعلقات اخوت، اعتماد اور باہمی مفاد پر مبنی ہیں۔

پارلیمانی سطح پر قریبی روابط عوامی سطح پر تعلقات کو مزید مستحکم کریں گے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان کا حالیہ دورۂ ازبکستان دوطرفہ تعلقات کے لیے سنگِ میل ثابت ہوا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ پاکستان انہوں نے کہا کہ پاکستان کی کے لیے

پڑھیں:

مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار

اسلام آباد، منیلا (خبر نگار خصوصی) نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان علاقائی امن، استحکام اور تعاون کے فروغ کے لیے آسیان ریجنل فورم کے ذریعے اپنا کردار ادا کرنے کے لیے پْرعزم ہے۔ اسحاق ڈار نے 33  ویں آسیان ریجنل فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ  عالمی اور علاقائی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مؤثر کثیرالجہتی تعاون ناگزیر ہے۔ جموں و کشمیر کے تنازعے کا منصفانہ حل ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی بنیاد ہے۔ پاکستان مسئلہ کشمیر کے پرامن اور منصفانہ حل کی حمایت جاری رکھے گا، جبکہ عالمی برادری کو حل کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ اسحاق ڈار نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کو تشویشناک اور اشتعال انگیز اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ معاہدے سے متعلق یکطرفہ اقدامات 25 کروڑ پاکستانیوں کے مفادات کو متاثر کر سکتے ہیں۔ غزہ کی انسانی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کی غیر متزلزل حمایت جاری رکھے گا۔ پاکستان 1967ء سے پہلے کی سرحدوں پر مشتمل آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا حامی ہے۔انہوں نے دہشتگردی کو عالمی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں 90 ہزار سے زائد جانوں کی قربانیاں دے چکا ہے اور ہر قسم کی دہشتگردی کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھے گا۔ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے، جبکہ افغانستان میں امن سے علاقائی تجارت، روابط اور ترقی کو فروغ ملے گا۔ نائب وزیراعظم نے جنوبی بحیرہ چین کے تنازعات کے پرامن حل کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک چین پالیسی کی مکمل حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے موسمیاتی تبدیلی کو ترقی پذیر ممالک کے لیے بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے نمٹنے کے لیے عالمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ دوسری جانب نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ و سینیٹر اسحاق ڈار نے عمان ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق فلپائن میں آسیان ریجنل فورم کی سائیڈ لائنز پر ملاقات ہوئی، دونوں رہنمائوں نے دوطرفہ تعاون کی مثبت پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔ملاقات کے دوران اعلیٰ سطح تبادلوں، تجارت و سرمایہ کاری کے فروغ کو مزید مستحکم بنانے پر اتفاق کیا گیا۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے فلپائن میں مختلف ملکوں کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں کیں۔ وزرائے خارجہ نے امریکہ ایران کے درمیان ثالثی پر پاکستان کے کردار کو سراہا اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے خاتمے کیلئے مذاکرات پر زور دیا، اسحاق ڈار نے برطانیہ کے سیکرٹری آف سٹیٹ برائے خارجہ سے ملاقات کی دونوں رہنماؤں نے پاک برطانیہ تعلقات کو مزید مضبوط  بنانے کے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔ ملاقات میں خطے  کی سکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسحاق ڈار نے نیوزی لینڈ کے وزیر خارجہ ونٹسن پیٹرز سے ملاقات کی۔ دونوں ملکوں نے تجارت، سرمایہ کاری اور کھیل کے شعبے میں تعاون پراتفاق کیا۔ ملاقات میں خطے اور عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسحاق ڈار نے آسٹریلیا کے وزیر خارجہ سے بھی ملاقات کی جس میں مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار آسیان ریجنل فورم میں شرکت کے بعد کرغزستان روانہ ہو گئے۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔ اجلاس 23 اور 24 جولائی کو ہوگا، اسحاق ڈار اجلاس کے موقع پر رکن ملکوں کے وزرائے خارجہ سے دو طرفہ ملاقاتیں کریں گے۔؎

متعلقہ مضامین

  • اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی ڈپٹی سیکرٹری وزارتِ خزانہ عائشہ جاوید کو بین الاقوامی اعزاز پر مبارکباد
  • اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی ڈپٹی سیکرٹری وزارتِ خزانہ عائشہ جاوید کو عالمی اعزاز پر مبارکباد
  • اسحاق ڈار اور چینی وزیر خارجہ وانگ ای کی ملاقات، دوطرفہ تعلقات اور علاقائی امور پر تبادلہ خیال
  • ایس سی او اجلاس کے موقع پر پاک چین وزرائے خارجہ کی ملاقات، علاقائی امن اور تعاون پر تبادلۂ خیال
  • صدر مملکت سے بلوچستان کے وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • صدر مملکت سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال