ٹرمپ کا بیس نکاتی منصوبہ، امن کا وعدہ یا اسرائیل کی جیت؟
اشاعت کی تاریخ: 1st, October 2025 GMT
اسلام ٹائمز: ٹرمپ کا بیس نکاتی منصوبہ بظاہر امن کی پیشکش ہے مگر حقیقت میں یہ امن کو ایسی شرائط سے مشروط کرتا ہے جو اسرائیل کیلئے فائدہ مند اور فلسطینی و مسلم دنیا کیلئے خطرات لئے ہوئے ہیں، منصوبے کا خالصتاً تکنیکی اور اقتصادی روپ اگر سیاسی نمائندگی اور خودمختاری کے اصولوں کے خلاف نافذ کیا گیا تو یہ امن نہیں بلکہ ایک ایسے ڈھانچے کی بنیاد ہوگا جس میں جیت ہمیشہ طاقتور فریق کی ہوگی۔ تحریر: عرض محمد سنجرانی
ڈونلڈ ٹرمپ کا تازہ بیس نکاتی منصوبہ بظاہر امن، تعمیر نو اور فلسطینی ریاست کے قیام کا وعدہ کرتا ہے لیکن اس کی باریکیاں کھول کر دیکھی جائیں تو صاف نظر آتا ہے کہ یہ منصوبہ اسرائیل کو مزید سیاسی، عسکری اور اقتصادی فائدہ دیتا ہے اور فلسطینی عوام و مسلم دنیا کیلئے خطرات سے بھرا ہے، اس منصوبے کے اہم نکات ترتیب وار یہ ہیں، غزہ کو دہشت گردی سے پاک اور غیر عسکری خطہ بنایا جائے گا، غزہ کی تعمیر نو اور عوامی مفاد کا وعدہ کیا جائے گا، معاہدہ طے ہوتے ہی جنگ بندی اور اسرائیلی فوج کی بتدریج واپسی ہوگی، تمام یرغمالی 48 گھنٹوں میں واپس کئے جائیں گے، اس کے بدلے اسرائیل سینکڑوں فلسطینی سکیورٹی قیدی اور لاشیں واپس کرے گا، معافی دینے اور محفوظ راستے فراہم کرنے کی شق شامل ہوگی، روزانہ امداد کا حجم بڑھایا جائے گا اور ملبہ ہٹانے کے آلات داخل ہوں گے، امداد بین الاقوامی اداروں کے ذریعے دی جائے گی، غزہ کی عبوری انتظامیہ فلسطینی ٹیکنوکریٹس پر مشتمل ہوگی اور ایک بین الاقوامی ادارہ اس کی نگرانی کرے گا، تعمیر نو کیلئے ماہرین کے ساتھ جدید شہری پلان تیار ہوں گے۔
اقتصادی زون قائم کیا جائے گا اور کم ٹیرف شرائط طے ہوں گی، کسی کو زبردستی نہیں نکالا جائے گا مگر جو جانا چاہے واپس آ سکے گا، حماس کا کوئی حکومتی کردار نہیں ہوگا اور اس کے عسکری ڈھانچے ختم کئے جائیں گے، علاقائی شرکاء امن کی ضمانت فراہم کریں گے، امریکی اور بین الاقوامی پارٹنرز ایک عبوری استحکام فورس تعینات کریں گے اور فلسطینی پولیس کی تربیت کریں گے، اسرائیل غزہ پر قبضہ یا الحاق نہیں کرے گا اور بتدریج علاقے واپس کرے گا، اگر حماس تاخیر کرے یا انکار کرے تو منصوبہ جزوی طور پر نافذ ہوگا، اسرائیل قطر میں دوبارہ حملہ نہیں کرے گا اور دوحہ کے ثالثی کردار کو تسلیم کرے گا، ایک ڈیریڈیکلائزیشن عمل اور بین الاقوامی مکالمہ قائم کیا جائے گا، اور آخر میں فلسطینی ریاست کے قیام کا ممکنہ روڈ میپ اور سیاسی افق قائم کرنے کا وعدہ ہے۔
ان نکات کا گہرا تجزیہ یہ بتاتا ہے کہ منصوبے کے مرکزی ستون حماس کی مسلح حیثیت کا خاتمہ، غزہ کی ڈیریڈیکلائزیشن اور عبوری بین الاقوامی فورس کی تعیناتی ہیں، یہ شقیں بظاہر فلسطینی عوام کیلئے امداد اور بحالی کا وعدہ پیش کرتی ہیں لیکن ان کا نفاذ اس شرط پر ہے کہ فلسطینی یا حماس وہی کارڈ کھیلیں جو منصوبہ بنانے والوں نے مقرر کیا ہے، اس طرح فلسطینی نمائندگی اور خود ارادیت پس منظر میں چلی جاتی ہے اور عبوری ٹیکنوکریٹ انتظامیہ کے ذریعے مقامی سیاسی قوتوں کے بجائے بیرونی کنٹرول کا دروازہ کھل جاتا ہے۔ اسرائیل کیلئے اس منصوبے کے فوائد یہ ہیں کہ جنگی دباؤ کم ہونے پر عالمی دباؤ میں عارضی کمی آئے گی، حماس کی عسکری طاقت کو کمزور کر کے اندرونی خطرہ محدود کیا جا سکتا ہے، عبوری فورس اور ٹیکنوکریٹس کے ذریعے غزہ پر غیر براہِ راست کنٹرول ممکن بنایا جا سکتا ہے اور فلسطینی ریاست کے قیام کو مستقبل کی شقوں کے حوالے کرکے وقتی طور پر جغرافیائی و سیاسی کنٹرول برقرار رکھا جا سکتا ہے۔
فلسطینی عوام کیلئے خطرہ یہ ہے کہ منتخب نمائندوں کی جگہ ٹیکنوکریٹس اور بین الاقوامی اداروں کی عبوری حکومت آ جائے گی، حماس کی سیاسی قوت ختم یا بائی پاس ہو جائے گی، امداد اور ترقیاتی منصوبے اگر بیرونی شرائط پر چلیں تو یہ معاشی انحصار اور سیاسی کنٹرول میں تبدیلی کی راہ ہموار کریں گے اور سب سے بڑھ کر اگر ریاستی قیام کو ’’شرائط پوری ہونے‘‘ تک مؤخر رکھا جائے تو فلسطینی قوم کے طویل المدتی سیاسی حقوق پس پشت رہ جائیں گے، امریکہ نہ صرف اس منصوبے کا ثالث بلکہ فعال سہولت کار بھی ہے، وائٹ ہاؤس میں نیتن یاہو کی میزبانی، قطر حملے پر اسرائیلی معافی اور یہی وقت منصوبہ پیش کرنے کا انتخاب بتاتا ہے کہ واشنگٹن اس مرحلے پر اسرائیل کی کارروائیوں کا حامی و مددگار ہے۔
یہ سہولت کاری عملی ثبوت ہے کہ امریکہ نہ صرف اسرائیل کی جارحیت کو قانونی تحفظ فراہم کر رہا ہے بلکہ اپنی اسلحہ ساز کمپنیوں کیلئے عرب دنیا کی مارکیٹ کھول رہا ہے۔ عرب اور مسلم ریاستوں کے سامنے دو راستے ہیں، یا تو وہ وقتی مالی و سفارتی فوائد کے بدلے اپنے سیاسی اصول بیچ دیں یا مشترکہ، شفاف اور عملی حکمتِ عملی اپنائیں جس میں دفاعی خود مختاری، معاشی آزادی اور علاقائی یکجہتی شامل ہو، پاکستان سعودی دفاع معاہدہ اسی تناظر میں ایک اشارہ ہے کہ بعض مسلم ریاستیں اپنی سکیورٹی واحدت کو متبادل دھارے کی طرف منتقل کر رہی ہیں مگر اس معاہدے کی افادیت اسی وقت تک حقیقی ہوگی جب وہ محض بیانیہ نہ رہ کر عملی مشترکہ کمانڈ، شفاف قواعد اور بروقت تعاون میں ظاہر ہو۔
ٹرمپ کا بیس نکاتی منصوبہ بظاہر امن کی پیشکش ہے مگر حقیقت میں یہ امن کو ایسی شرائط سے مشروط کرتا ہے جو اسرائیل کیلئے فائدہ مند اور فلسطینی و مسلم دنیا کیلئے خطرات لئے ہوئے ہیں، منصوبے کا خالصتاً تکنیکی اور اقتصادی روپ اگر سیاسی نمائندگی اور خودمختاری کے اصولوں کے خلاف نافذ کیا گیا تو یہ امن نہیں بلکہ ایک ایسے ڈھانچے کی بنیاد ہوگا جس میں جیت ہمیشہ طاقتور فریق کی ہوگی، اس لئے عرب اور مسلم قیادت کو چاہیئے کہ وہ اس منصوبے کی ہر شق کا باریک بینی سے تعامل کریں، عمل درآمد کے میکانزم، اداراتی نگرانی، شفافیت اور فلسطینی نمائندگی کے سخت ضامن مانگیں ورنہ یہ ایجنڈا امن کے نقاب میں علاقائی توازن، انسانی حقوق اور حقیقی خود ارادیت کو قیمت پر لگانے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: بیس نکاتی منصوبہ بین الاقوامی اور فلسطینی اسرائیل کی جائے گا کریں گے سکتا ہے دنیا کی کا وعدہ ٹرمپ کا یہ امن گا اور کرے گا
پڑھیں:
قابلِ فخر سعد ایدھی
کراچی ایئرپورٹ پر 23 ء مئی کو ایک ہجوم جمع تھا۔ اس ہجوم کے شرکاء جس میں مرد ، عورتیں، جوان اور بچے شامل تھے، سعد ایدھی کے استقبال کے لیے دور دراز علاقوں سے ایئرپورٹ پہنچے تھے۔ اس ہجوم میں فیصل ایدھی اور ان کی اہلیہ بھی شامل تھیں جو اپنے بیٹے کے استقبال کے لیے آئی تھیں۔ا ن کے ساتھ سعد ایدھی کی اہلیہ بھی تھی جن کی گود میں تین ماہ کی بچی بھی تھی۔ فیصل اپنے والد عبدالستار ایدھی کی روایت کے امین ہیں۔ عبدالستار ایدھی نے بہادری کے ساتھ انسانوں کی مدد کرنے کی زندہ مثالیں قائم کی تھیں۔ فیصل کو فخر ہے کہ ان کا بیٹا ان کے والد کے راستے پر گامزن ہے۔
سعد ایدھی اسرائیل کے کنسرٹیشن کیمپ سے رہا ہو کر ترکیہ پہنچے تھے تو استنبول سے کراچی آرہے تھے۔ سعد ایدھی نے جب فلوٹیلا میں سفر کر کے اسرائیل کا محاصرہ توڑ کر غزہ جانے کا فیصلہ کیا تھا تو ایدھی خاندان کے لیے ایک بری خبر تھی اور اس خبر کا ایک واضح پس منظر تھا۔ چند ماہ قبل ایک اور فلوٹیلا میں سوار ہو کر 430 کے قریب رضاکار غزہ روانہ ہوئے تھے تو اسرائیل کی نیوی نے بین الاقوامی سمندر میں فلوٹیلا پر فائرنگ کی تھی اور توپوں کے گولے پھینکے تھے۔
اسرائیلی فوجوں نے اس فلوٹیلا کے قافلے میں سوار افراد کو گرفتار کر کے بیہمانہ تشدد کا نشانہ بنایا تھا اور عام خیال تھا کہ اس دفعہ اسرائیل کی نیوی فلسطینی شہریوں سے یکجہتی کے لیے آنے والے افراد کو ہلاک کرنے سے گریز نہیں کرے گی۔ ایدھی خاندان کی خواتین سخت پریشان تھیں مگر سعد ایدھی کے والد فیصل ایدھی نے اپنے بیٹے کو اس خطرناک مشن پر جانے سے نہیں روکا تھا، یوں سعد کا حوصلہ بہت بلند ہوگیا تھا۔
غزہ کا علاقہ فلسطین میں شامل ہے۔ فلسطین کے دو حصے دریائے اردن کے مغربی کنارے سے متصل ہیں۔ غزہ کی سرحد ایک طرف مصر سے ملتی ہے تو جنوبی مغرب میں اسرائیل ہے اور مشرق اور جنوب میں بحیرہ روم واقع ہے۔ بحیرہ روم جس کو انگریزی میں Mediterraneen Sea کہا جاتا ہے، یہ افریقہ، یورپ اور ایشیا کے درمیان سمندر ہے جو تقریباً چاروں طرف سے زمین پر بھی گھرا ہوا ہے۔
یہ صرف وہاں سے کھلا ہوا ہے جہاں اسپین اور فرانس آمنے سامنے ہیں اور درمیان میں چند کلومیٹر کا سمندر بحیرہ روم کے شمال میں یورپ، جنوب میں افریقہ اور مشرق میں ایشیا موجود ہے۔ بحیرہ روم 2.5 ملین مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے۔ اسرائیل نے گزشتہ بہت برسوں سے فلسطین کے تمام علاقوں کا بحیرہ روم کے راستہ کا گھیراؤ کیا ہوا ہے۔ غزہ اور فلسطین کے دیگر علاقوںمیں آباد عرب باشندوں کو بحیرہ روم میں نقل و حمل کی اجازت نہیں ہے۔ فلسطین سے محبت کرنے والے سماجی کارکن جن میں یورپ، امریکا، ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکا کے ممالک کے شہری بھی شامل ہیں مسلسل کوشش کررہے ہیں کہ اسرائیل کی ناکہ بندی کو ختم کرایا جائے۔
ان کارکنوں نے فلوٹیلا میں شامل بہت سے چھوٹے جہازوں کا کاررواں کے ذریعے جس میں دنیا بھر کے سماجی و سیاسی کارکن، صحافی اور خواتین شامل ہیں نے غزہ کے ساحل پر پہنچنے کا طریقہ اپنایا ہوا ہے۔ یہ کارکن اپنے خرچہ پر ترکیہ میں جمع ہوتے ہیں اور پھر یہ قافلہ بحیر ئہ روم سے گزرتا ہوا غزہ کے قریب پہنچتا ہے۔ پہلے تو اسرائیلی فوجیں غزہ کے قریب فلوٹیلا سے جہازوں میں سوار افراد کو بندرگاہ سے ہی نکال دیتے تھے مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اسرائیلی فوج کا رویہ غیر انسانی ہوتا گیا۔ سعد ایدھی ترکیہ کی بندرگاہ Marmaris Port سے روانہ ہوئے تھے۔ ابھی یہ قافلہ فلسطین اور اسرائیل سے بہت دور بین الاقوامی سمندر میں پہنچا تھا کہ اسرائیل کی گن بوٹس نے فلوٹیلا کے جہازوں پر مارٹر توپ کے گولے پھینکنے شروع کردیے۔ پھر ان فوجیوں نے ربڑ کی گولیاں چلانا شروع کردیں ۔
بین الاقوامی سمندر میں اسرائیل کی اس جارحیت کا کئی جواز نہیں تھا مگر پھر یہ فوجی چھوٹے جہازوں میں کود گئے اور فلوٹیلا کے جہازوں میں رضاکاروں کی کی آنکھوں میں پٹیاں باندھ دی گئیں اور جب یہ لوگ بندرگاہ پر پہنچے تو فلوٹیلا میں شامل 450 افراد کو جن میں بوڑھے، بچے اور خواتین بھی شامل تھے گھسیٹ گھسیٹ کر چھوٹی سی جیل میں دھکیل دیا گیا۔ سعد ایدھی نے کراچی میں بتایا کہ تمام لوگوں کو مسلسل مرغے بنا کر رکھا گیا۔ اسرائیلی فوجی ان رضاکاروں پر بندوق کے پٹ سے حملہ کرتے رہے اور خاص طور پر گھٹنوں اور پسلیوں کو نشانہ بنایا جاتا رہا۔ کئی افراد کی پسلیاں ٹوٹ گئیں۔
Global Sumud Flotilla کے منتظمین کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے فوجیوں نے کم از کم 15 افراد کو جنسی بدسلوکی کا نشانہ بنایا۔ ان منتظمین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اسرائیل کے فوجی دستے نے ایک جہاز کو کنسرٹیشن کیمپ میں تبدیل کیا اور اس جہاز کے گرد خاردار تار لگادیئے گئے۔ پھر اس عارضی جیل میں کم گنجائش کے باوجود 450کے قریب رضاکاروں کو رکھا گیا۔ آسٹریلین ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوجیوں نے جانوروں سے زیادہ بدتر سلوک کیا ۔ اٹلی کے ماہرمعاشیات نے اسرائیلی فوج کے بدترین سلوک کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ انھیں 24 گھنٹوں کے دوران بار بار تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور کئی دفعہ رضاکاروں کو زمین پر گھسیٹا گیا ، ان کی آنکھوں پر پٹیاں باندھی گئیں اور انھیں پینے کے لیے پانی تک نہیں دیا گیا۔
سعد ایدھی نے بتایا کہ دون دن کی قید کے دوران صرف ایک ایک بوتل پانی دیا گیا۔ پھر تقریباً ہر رضاکار کے گھٹنوں کو مجروح کرنے کی کوشش کی گئی۔ اسرائیل کے وزیر دفاع نے ایک رضا کار لڑکی کے بال کھینچے اور یہ وڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی تو یورپ میں شدید احتجاج ہوا۔ فرانس کی حکومت نے اسرائیلی وزیر دفاع کا ویزا منسوخ کردیا۔ یورپی یونین کی ترجمان نے اسرائیل کے رضاکاروں پر تشدد کی شدید مذمت کی۔ برطانیہ، جرمنی، اسپین اور دنیا بھر کے دیگر ممالک نے مظلوم رضاکاروں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔
اسرائیل کی حکومت کو اس بات کی توقع نہیں تھی کہ ایشیائی اور افریقی ممالک کے علاوہ برطانیہ ، فرانس اور جرمنی وغیرہ بھی اسرائیل کی انسان دشمن پالیسیوں کے خلاف اتنا سخت ردعمل ظاہر کریں گے۔اس فلوٹیلا کے 50 جہازوں میں زیادہ تعداد اسپین اور دیگر یورپی ممالک کے باشندوں کی تھی۔ یہ لوگ اسرائیل کے جرائم کو آشکار کرنے کے لیے فلوٹیلا کے جہازوں میں سوار ہوئے تھے۔
انھیں اگرچہ اپنے مشن کی کامیابی کی زیادہ امید نہیں تھی مگر انسانیت کی خاطر اور غزہ کے عوام کے ساتھ یکجہتی کے لیے یہ تمام افراد اس فلوٹیلا کا حصہ بنے تھے۔ اس فلوٹیلا میں شریک سماجی کارکنوں نے اسپین کی خانہ جنگی کی یاد تازہ کردی۔ جب اسپین کے فاشسٹ جنرل فرانکو کی حکومت کے خلاف جدوجہد کرنے والے اس بریگیڈ میں دنیا بھر کے ادیب، شاعر اور دانشور شامل ہوئے۔ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ فلوٹیلا کے رضاکاروں پر اسرائیلی فوج کے بیہمانہ سلوک کے خلاف عالمی عدالت انصاف فوری طور پر کارروائی کرے اور اسرائیل کے خلاف اقتصادی پابندیاں عائد کی جائیں۔
فلسطین کے لیے جدوجہد کرنے والے یہ مختلف ممالک کے کارکن صرف فلسطین کے عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے جدوجہد کررہے ہیں۔ سعد ایدھی پر پوری قوم کو فخر ہے۔ سعد ایدھی اور دیگر انسانی حقوق کے کارکنوں نے جو جدوجہد کی ہے، وہ وقت جلد آئے گاجب اس جدوجہد کے مثبت نتائج برآمد ہونگے اور فلسطین ایک متحدہ ملک کے طور پر دنیا کے نقشہ پر ابھرے گا۔