Islam Times:
2026-07-24@09:31:39 GMT

ٹرمپ کا بیس نکاتی منصوبہ، امن کا وعدہ یا اسرائیل کی جیت؟

اشاعت کی تاریخ: 1st, October 2025 GMT

ٹرمپ کا بیس نکاتی منصوبہ، امن کا وعدہ یا اسرائیل کی جیت؟

اسلام ٹائمز: ٹرمپ کا بیس نکاتی منصوبہ بظاہر امن کی پیشکش ہے مگر حقیقت میں یہ امن کو ایسی شرائط سے مشروط کرتا ہے جو اسرائیل کیلئے فائدہ مند اور فلسطینی و مسلم دنیا کیلئے خطرات لئے ہوئے ہیں، منصوبے کا خالصتاً تکنیکی اور اقتصادی روپ اگر سیاسی نمائندگی اور خودمختاری کے اصولوں کے خلاف نافذ کیا گیا تو یہ امن نہیں بلکہ ایک ایسے ڈھانچے کی بنیاد ہوگا جس میں جیت ہمیشہ طاقتور فریق کی ہوگی۔ تحریر: عرض محمد سنجرانی

ڈونلڈ ٹرمپ کا تازہ بیس نکاتی منصوبہ بظاہر امن، تعمیر نو اور فلسطینی ریاست کے قیام کا وعدہ کرتا ہے لیکن اس کی باریکیاں کھول کر دیکھی جائیں تو صاف نظر آتا ہے کہ یہ منصوبہ اسرائیل کو مزید سیاسی، عسکری اور اقتصادی فائدہ دیتا ہے اور فلسطینی عوام و مسلم دنیا کیلئے خطرات سے بھرا ہے، اس منصوبے کے اہم نکات ترتیب وار یہ ہیں، غزہ کو دہشت گردی سے پاک اور غیر عسکری خطہ بنایا جائے گا، غزہ کی تعمیر نو اور عوامی مفاد کا وعدہ کیا جائے گا، معاہدہ طے ہوتے ہی جنگ بندی اور اسرائیلی فوج کی بتدریج واپسی ہوگی، تمام یرغمالی 48 گھنٹوں میں واپس کئے جائیں گے، اس کے بدلے اسرائیل سینکڑوں فلسطینی سکیورٹی قیدی اور لاشیں واپس کرے گا، معافی دینے اور محفوظ راستے فراہم کرنے کی شق شامل ہوگی، روزانہ امداد کا حجم بڑھایا جائے گا اور ملبہ ہٹانے کے آلات داخل ہوں گے، امداد بین الاقوامی اداروں کے ذریعے دی جائے گی، غزہ کی عبوری انتظامیہ فلسطینی ٹیکنوکریٹس پر مشتمل ہوگی اور ایک بین الاقوامی ادارہ اس کی نگرانی کرے گا، تعمیر نو کیلئے ماہرین کے ساتھ جدید شہری پلان تیار ہوں گے۔

اقتصادی زون قائم کیا جائے گا اور کم ٹیرف شرائط طے ہوں گی، کسی کو زبردستی نہیں نکالا جائے گا مگر جو جانا چاہے واپس آ سکے گا، حماس کا کوئی حکومتی کردار نہیں ہوگا اور اس کے عسکری ڈھانچے ختم کئے جائیں گے، علاقائی شرکاء امن کی ضمانت فراہم کریں گے، امریکی اور بین الاقوامی پارٹنرز ایک عبوری استحکام فورس تعینات کریں گے اور فلسطینی پولیس کی تربیت کریں گے، اسرائیل غزہ پر قبضہ یا الحاق نہیں کرے گا اور بتدریج علاقے واپس کرے گا، اگر حماس تاخیر کرے یا انکار کرے تو منصوبہ جزوی طور پر نافذ ہوگا، اسرائیل قطر میں دوبارہ حملہ نہیں کرے گا اور دوحہ کے ثالثی کردار کو تسلیم کرے گا، ایک ڈیریڈیکلائزیشن عمل اور بین الاقوامی مکالمہ قائم کیا جائے گا، اور آخر میں فلسطینی ریاست کے قیام کا ممکنہ روڈ میپ اور سیاسی افق قائم کرنے کا وعدہ ہے۔

ان نکات کا گہرا تجزیہ یہ بتاتا ہے کہ منصوبے کے مرکزی ستون حماس کی مسلح حیثیت کا خاتمہ، غزہ کی ڈیریڈیکلائزیشن اور عبوری بین الاقوامی فورس کی تعیناتی ہیں، یہ شقیں بظاہر فلسطینی عوام کیلئے امداد اور بحالی کا وعدہ پیش کرتی ہیں لیکن ان کا نفاذ اس شرط پر ہے کہ فلسطینی یا حماس وہی کارڈ کھیلیں جو منصوبہ بنانے والوں نے مقرر کیا ہے، اس طرح فلسطینی نمائندگی اور خود ارادیت پس منظر میں چلی جاتی ہے اور عبوری ٹیکنوکریٹ انتظامیہ کے ذریعے مقامی سیاسی قوتوں کے بجائے بیرونی کنٹرول کا دروازہ کھل جاتا ہے۔ اسرائیل کیلئے اس منصوبے کے فوائد یہ ہیں کہ جنگی دباؤ کم ہونے پر عالمی دباؤ میں عارضی کمی آئے گی، حماس کی عسکری طاقت کو کمزور کر کے اندرونی خطرہ محدود کیا جا سکتا ہے، عبوری فورس اور ٹیکنوکریٹس کے ذریعے غزہ پر غیر براہِ راست کنٹرول ممکن بنایا جا سکتا ہے اور فلسطینی ریاست کے قیام کو مستقبل کی شقوں کے حوالے کرکے وقتی طور پر جغرافیائی و سیاسی کنٹرول برقرار رکھا جا سکتا ہے۔

فلسطینی عوام کیلئے خطرہ یہ ہے کہ منتخب نمائندوں کی جگہ ٹیکنوکریٹس اور بین الاقوامی اداروں کی عبوری حکومت آ جائے گی، حماس کی سیاسی قوت ختم یا بائی پاس ہو جائے گی، امداد اور ترقیاتی منصوبے اگر بیرونی شرائط پر چلیں تو یہ معاشی انحصار اور سیاسی کنٹرول میں تبدیلی کی راہ ہموار کریں گے اور سب سے بڑھ کر اگر ریاستی قیام کو ’’شرائط پوری ہونے‘‘ تک مؤخر رکھا جائے تو فلسطینی قوم کے طویل المدتی سیاسی حقوق پس پشت رہ جائیں گے، امریکہ نہ صرف اس منصوبے کا ثالث بلکہ فعال سہولت کار بھی ہے، وائٹ ہاؤس میں نیتن یاہو کی میزبانی، قطر حملے پر اسرائیلی معافی اور یہی وقت منصوبہ پیش کرنے کا انتخاب بتاتا ہے کہ واشنگٹن اس مرحلے پر اسرائیل کی کارروائیوں کا حامی و مددگار ہے۔

یہ سہولت کاری عملی ثبوت ہے کہ امریکہ نہ صرف اسرائیل کی جارحیت کو قانونی تحفظ فراہم کر رہا ہے بلکہ اپنی اسلحہ ساز کمپنیوں کیلئے عرب دنیا کی مارکیٹ کھول رہا ہے۔ عرب اور مسلم ریاستوں کے سامنے دو راستے ہیں، یا تو وہ وقتی مالی و سفارتی فوائد کے بدلے اپنے سیاسی اصول بیچ دیں یا مشترکہ، شفاف اور عملی حکمتِ عملی اپنائیں جس میں دفاعی خود مختاری، معاشی آزادی اور علاقائی یکجہتی شامل ہو، پاکستان سعودی دفاع معاہدہ اسی تناظر میں ایک اشارہ ہے کہ بعض مسلم ریاستیں اپنی سکیورٹی واحدت کو متبادل دھارے کی طرف منتقل کر رہی ہیں مگر اس معاہدے کی افادیت اسی وقت تک حقیقی ہوگی جب وہ محض بیانیہ نہ رہ کر عملی مشترکہ کمانڈ، شفاف قواعد اور بروقت تعاون میں ظاہر ہو۔

ٹرمپ کا بیس نکاتی منصوبہ بظاہر امن کی پیشکش ہے مگر حقیقت میں یہ امن کو ایسی شرائط سے مشروط کرتا ہے جو اسرائیل کیلئے فائدہ مند اور فلسطینی و مسلم دنیا کیلئے خطرات لئے ہوئے ہیں، منصوبے کا خالصتاً تکنیکی اور اقتصادی روپ اگر سیاسی نمائندگی اور خودمختاری کے اصولوں کے خلاف نافذ کیا گیا تو یہ امن نہیں بلکہ ایک ایسے ڈھانچے کی بنیاد ہوگا جس میں جیت ہمیشہ طاقتور فریق کی ہوگی، اس لئے عرب اور مسلم قیادت کو چاہیئے کہ وہ اس منصوبے کی ہر شق کا باریک بینی سے تعامل کریں، عمل درآمد کے میکانزم، اداراتی نگرانی، شفافیت اور فلسطینی نمائندگی کے سخت ضامن مانگیں ورنہ یہ ایجنڈا امن کے نقاب میں علاقائی توازن، انسانی حقوق اور حقیقی خود ارادیت کو قیمت پر لگانے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: بیس نکاتی منصوبہ بین الاقوامی اور فلسطینی اسرائیل کی جائے گا کریں گے سکتا ہے دنیا کی کا وعدہ ٹرمپ کا یہ امن گا اور کرے گا

پڑھیں:

بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی

اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔

علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • خارجہ کامیابیاں یا داخلی استحکام؟
  • مغربی کنارے میں اسرائیلی فورسز اور آبادکاروں کا دھاوا، 4 فلسطینی شہید
  • آزاد کشمیر میں سیاسی سرگرمیاں تیز، نواز شریف آج میرپور میں جلسے سے خطاب کریں گے
  • بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم