حکومت کے مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل کی تجویز مسترد کرتے ہیں،حافظ نعیم الرحمن
اشاعت کی تاریخ: 4th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور+مانسہرہ(نمائندگان جسارت) امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے وزیراعظم شہباز شریف سے ٹیلی فونک رابطہ کرکے سینیٹر مشتاق احمد خان اور گلوبل صمود فلوٹیلا کے دیگر گرفتار پاکستانی امدادی کارکنوں کی رہائی اور بازیابی کے لیے کوششیں تیز کرنے پر زور دیاہے۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر اظہار خیال کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے قوم کو آگاہ کیا کہ وزیراعظم نے انہیں بتایا ہے کہ اس اہم نوعیت کے مسئلہ پر انہوں نے وزیر خارجہ اسحق ڈار کی ذمہ داری لگا دی ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے واضح کیا ہے کہ یہ صرف جماعت اسلامی کا معاملہ نہیں بلکہ پورے پاکستان کے حوالے سے اس کی اہمیت ہے۔ گلوبل صمود فلوٹیلا پر اسرائیلی حملہ اور گرفتاریاں سخت قابل مذمت ہیں۔حافظ نعیم الرحمن نے ٹرمپ کے 20 نکاتی غزہ پروگرام پر بھی جماعت اسلامی بلکہ پوری قوم کی جانب سے سخت تحفظات کا اظہار کیا اور اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کو صرف آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے مطالبہ پر قائم رہنا چاہیے اور کسی ایسے منصوبہ کی حمایت نہیں کرنی چاہیے جو بالآخر اسرائیل ہی کو طاقت فراہم کرے۔ امیر جماعت اسلامی نے وزیراعظم سے کہا کہ آزاد کشمیر کی تشویش ناک صورت حال اس بات کی متقاضی ہے کہ کشمیر کے لوگوں کے ساتھ احتیاط کا برتا¶ کیا جائے۔ حکومت ذمہ داری کے ساتھ اس معاملے کا بات چیت کے ذریعے حل نکالے اور ایسا کوئی بیانیہ جو صرف چند لوگ کے زیر اثر ہے اسے تمام کشمیریوں کا م¶قف نہ سمجھا جائے۔ انہوں نے شہباز شریف سے مزید کہا کہ کشمیری پاکستان سے محبت کرتے ہیں اور انتظامیہ کی جانب سے کسی بھی قسم کا غیر ذمہ دارانہ رویہ ملک اور کشمیر کاز کے لیے نقصان دہ ہوسکتا ہے اور دشمن اس کا فائدہ اٹھا سکتا ہے۔علاوہ ازیں امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے نائب وزیراعظم اسحق ڈار کی جانب سے مسئلہ فلسطین کے دوریاستی حل کو پاکستان کی ریاستی پالیسی قرار دیے جانے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے سوال کیاہے کہ حکمران بتائیں یہ پالیسی کس فورم پر یا پارلیمنٹ میں طے کی گئی ہے۔ انہوں نے واضح کیا ہے پاکستان اور اس کے عوام صرف اور صرف ریاست فلسطین کے قیام کے حامی ہیں۔فلسطین پر قابض اسرائیل کو تسلیم کرنے بارے کوئی حکمران نہ سوچے اور نہ ہی قوم ایسا اقدام کرنے کی اجازت دے گی۔ جمعہ کو مانسہرہ میں الخدمت کی بنو قابل تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ فرسودہ نظام کو بدلنے کے لیے جماعت اسلامی کا ساتھ دیں۔ پاکستان سے مایوس ہونے کی کوئی وجہ نہیں، نوجوان فرسوہ نظام اور وسائل پر قابض مٹھی بھر حکمران اشرافیہ کے خلاف پرامن مزاحمت کریں۔الخدمت فا¶نڈیشن کے زیراہتمام بنوقابل انٹری ٹیسٹ میں بچوں اور بچیوں کی بڑی تعداد نے مفت آئی ٹی کورسز میں داخلہ کے لیے امتحان دیا۔ امیر جماعت اسلامی نے پروگرام کے دائرہ کار کو ملک بھر میں توسیع دینے، دس لاکھ نوجوانوں کو آئی ٹی تربیت فراہم کرنے اور مختصر کورسز کے علاوہ ڈگری پروگرام شروع کرنے کے اعلانات کیے۔ حافظ نعیم نے کامیاب ٹیسٹ کے انعقاد پر جماعت اسلامی کی مقامی ٹیم اور الخدمت کی تحسین کی اورمبارکباد دی۔ امیرصوبہ ہزارہ عبدالرزاق عباسی، الخدمت کے سیکریٹری جنرل وقاص انجم جعفری، شاہد اقبال، عمیر ادریس اور دیگر رہنما بھی اس موقع پر موجودتھے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ آج جماعت اسلامی کی اپیل پر ملک بھر میں اسرائیل کے خلاف احتجاج ہورہا ہے،ٹرمپ کا نام نہاد غزہ امن معاہدہ دہشت گرد اسرائیل کی سرپرستی اور حماس کے خاتمے کا منصوبہ ہے، صہیونی قابض ریاست امریکی سرپرستی میں غزہ میں بچوں کا قتل عام کررہی ہے، اس نے صمود فلوٹیلا پر حملہ کیا اور امدادی کارکنوں کو یرغمال بنایا، گرفتار افراد کو فوری رہا کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ حکمران ٹرمپ کی چاپلوسی اور خوشامد میں مصروف ہیں، دوریاستی حل کی تجاویز اسی ضمن میں دی جارہی ہیں۔جماعت اسلامی، پاکستان کے عوام حکومت کی تجاویز کو مسترد کرتے ہیں، حکمران جان لیں وہ امریکا کے غلام ہوسکتے ہیں، غیور پاکستانی نہیں۔ قوم حماس اور اہل فلسطین کے ساتھ ہے۔ ملک میں اس وقت صرف جماعت اسلامی امریکا کے خلاف مزاحمت کررہی ہے، عوام حکمرانوں اور سیاسی پارٹیوں کے راہنما¶ں سے سوال کریں کہ وہ اسرائیل اور امریکا کی مذمت کیوں نہیں کرتے۔؟حافظ نعیم الرحمن نے مزید کہا کہ تعلیم ہرشہری کا حق اور ریاست کی ذمہ داری ہے، ہم حکمرانوں کو مجبور کریں گے کہ عوام کو تعلیم و صحت کے ساتھ تمام دیگر بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائیں، یہ خیرات نہیں، قوم کا حق ہے اور لوگ اس کے لیے ٹیکس دیتے ہیں۔ملک میں یکساں نظام تعلیم چاہتے ہیں، آئی ٹی برآمدات میں اضافہ ہونا چاہیے۔ جماعت اسلامی اپنے تئیں عوام کی خدمت کا سفر جاری رکھے ہوئے ہے، بنو قابل خدمت کے سفر کا ایک جز ہے۔ انہوں نے کہا حکمران طبقہ اپنی مراعات میں اضافہ کے لیے ایک ہوجاتا ہے، جب کہ عوام کو تقسیم کیا جاتا ہے، قوم اپنے حق کے لیے متحد ہوجائے اور جماعت اسلامی کے پلیٹ فارم سے پرامن سیاسی مزاحمت کرے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: امیر جماعت اسلامی نے حافظ نعیم الرحمن نے فلسطین کے انہوں نے کے ساتھ کے لیے کہا کہ
پڑھیں:
ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف
پاکستان کرکٹ ٹیم کے وائٹ بال ہیڈ کوچ مائیک ہیسن نے آسٹریلیا کے خلاف جاری ون ڈے سیریز میں استعمال ہونے والی اسپن فرینڈلی وکٹوں پر ہونے والی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سنہ 2027 ورلڈ کپ کی تیاریوں کے لیے ٹیم کی حکمت عملی جامع تحقیق اور مختلف حالات کے جائزے پر مبنی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ون ڈے ٹیم کی تشکیل پر مسلسل کام جاری، ورلڈ کپ کو ہدف بنایا لیا، مائیک ہیسن
پاکستان نے 3 میچوں کی سیریز کے پہلے ون ڈے میں کم اسکور والے سنسنی خیز مقابلے کے بعد 0-1 کی برتری حاصل کر رکھی ہے تاہم بعض کرکٹ مبصرین نے سوال اٹھایا تھا کہ آیا سست اور اسپن بولنگ کے لیے سازگار وکٹیں ٹیم کو 2027 کے ورلڈ کپ کے لیے مؤثر تیاری فراہم کر سکیں گی یا نہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں مائیک ہیسن نے کہا کہ یہ تصور درست نہیں کہ جنوبی افریقا کی تمام وکٹیں تیز اور باؤنس والی ہوتی ہیں۔
انہوں نے لکھا کہ میں یہ باتیں سن رہا ہوں کہ پاکستان میں موجودہ وکٹیں جنوبی افریقہ میں ہونے والے ورلڈ کپ کی تیاری کے لیے موزوں نہیں ہیں لیکن حقیقت اس سے مختلف ہے۔
I've been hearing a bit of chatter about the pitches here in Pakistan not being the ideal preparation for the World Cup in South Africa. It’s actually a topic I talked about on the latest #PCB podcast.
Firstly the World Cup is jointly hosted in South Africa, Zimbabwe and…
— Mike Hesson (@CoachHesson) June 1, 2026
ہیسن نے یاد دلایا کہ سنہ 2027 کا آئی سی سی مینز کرکٹ ورلڈ کپ صرف جنوبی افریقا میں نہیں بلکہ زمبابوے اور نمیبیا میں بھی کھیلا جائے گا جہاں متعدد میدانوں پر اسپنرز کو نمایاں مدد ملتی ہے۔
مزید پڑھیے: ورلڈ کپ سے قبل پاور پلے اور مڈل اوورز میں بہتری ضروری ہے، ہیڈ کوچ مائیک ہیسن
انہوں نے کہا کہ زمبابوے اور نمیبیا میں ایسے کئی وینیوز موجود ہیں جہاں اسپن ایک اہم عنصر ہوتا ہے اور پاکستان کو وہاں بھی میچز کھیلنے ہیں۔
پاکستانی ٹیم کے ہیڈ کوچ نے سال 2024 میں جنوبی افریقا کے دورے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پارل میں کھیلے گئے ون ڈے میچ میں بھی اسپن بولنگ نے اہم کردار ادا کیا تھا جو اس بات کا ثبوت ہے کہ جنوبی افریقہ کی تمام وکٹوں کو یکساں طور پر تیز اور باؤنس والی قرار نہیں دیا جا سکتا۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ تاثر کہ جنوبی افریقا کی ہر وکٹ رفتار اور باؤنس کے لیے مشہور ہے حقیقت پر مبنی نہیں۔
مزید پڑھیں: دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کی پاکستان کے خلاف بیٹنگ جاری
نیوزی لینڈ سے تعلق رکھنے والے کوچ نے شائقین کو یقین دلایا کہ ٹیم مینجمنٹ نے ورلڈ کپ کے حوالے سے تفصیلی تحقیق کی ہے اور آئندہ 18 ماہ کے دوران مختلف حالات اور وکٹوں پر کھیلنے کی بھرپور تیاری کی جائے گی تاکہ پاکستان عالمی ایونٹ کے لیے ہر ممکن طور پر تیار ہو۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاکستان کی اسپن فرینڈلی وکٹس پاکستان کی سلو وکٹس پاکستانی پچز پاکستانی وکٹس مائیک ہیسن ورلڈ کرکٹ کپ 2027