سوڈان میں مسجد اور اسپتال پر بمباری؛ 20 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی
اشاعت کی تاریخ: 10th, October 2025 GMT
سوڈان کے شہر الفاشر میں مسجد اور اسپتال پر حملے میں کم از کم 20 شہری جاں بحق اور 25 سے زائد زخمی ہوگئے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق سوڈان کے صوبہ شمالی دارفور کے محصور شہر الفاشر میں ایک بار پھر خونی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
جہاں حکومت مخالف نیم فوجی دستے ریپڈ سپورٹ فورسز (RSF) نے ایک مسجد اور ایک اسپتال کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں کم از کم 20 شہری جاں بحق ہوگئے۔
یہ اسپتال سعودی عرب کے تعاون سے چلایا جا رہا تھا جہاں ہزار سے زائد مریض زیر علاج تھے اور یہ اسپتال علاقے کا آخری بچ جانے والا فعال اسپتال تھا۔
اقوام متحدہ کے مطابق حملے کے دوران زچہ و بچہ وارڈ کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس میں 12 مریض جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے، جن میں مریض، خواتین اور طبی عملہ شامل ہیں۔
حکومت مخالف فوجی دھڑے نے ایک مقامی مسجد کو بھی نشانہ بنایا جہاں بے گھر خاندانوں نے پناہ لے رکھی تھی۔ جس میں 10 سے زائد افراد جاں بحق ہوگئے۔
یو این آفس برائے انسانی امور نے ان حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے ایک بار پھر فوری جنگ بندی کی اپیل کی ہے۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے تولیدی صحت نے بتایا کہ یہ اسپتال پر ایک ہفتے کے دوران تیسرا حملہ ہے جس سے صحت کی سہولیات مکمل تباہی کے دہانے پر ہیں۔
ترجمان اقوام متحدہ، اسٹیفن دوجارک نے کہا کہ الفاشر کے لوگ محصور، خوفزدہ اور امداد سے محروم ہیں اور اب ان کا آخری طبی مرکز بھی خطرے میں ہے۔
خیال رہے کہ الفاشر گزشتہ ایک سال سے محاصرے میں ہے۔ جہاں حکومت مخالف فوجی دھڑے RSF کی گولہ باری اور ڈرون حملے مسلسل جاری ہیں۔
سوڈان میں یہ انارکی ملکی فوج اور نیم فوجی دستے کے درمیان اقتدار پر قبضے کے لیے اپریل 2023 سے جاری ہے۔
اس خانہ جنگی نے ملک کو دنیا کے بدترین انسانی بحران میں دھکیل دیا ہے جہاں 3 کروڑ سے زائد افراد امداد کے محتاج ہیں۔
جن میں سے1 کروڑ 20 لاکھ افراد بے گھر ہو چکے ہیں اور 40 لاکھ سوڈانی ہمسایہ ممالک جیسے چاڈ اور وسطی افریقا وغیرہ کی جانب ہجرت پر مجبور ہوئے۔
یاد رہے کہ 7 اور 8 اکتوبر کو زغاوہ قبیلے کے درمیان داخلی کشیدگی کے باعث 250 سے زائد افراد مزید بے گھر ہو گئے، جس نے صورتحال کو اور پیچیدہ بنا دیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
پاکستان، سعودی عرب، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی مسلسل دراندازی، اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں ہونے والی کارروائیوں اور مسجد کے احاطے میں اسرائیلی پرچم لہرانے کی شدید مذمت کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت سے متعلق اسرائیلی قانون سازی، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مذمتی بیان جاری
8 عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی یہ اشتعال انگیز اور ناقابل قبول کارروائیاں بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
بیان میں اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے اور اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے تشخص کو نقصان پہنچانے کے لیے جاری منظم اقدامات اور خلاف ورزیوں کی بھی سخت مذمت کی گئی۔
وزرائے خارجہ نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہوئے اس کے تحفظ پر زور دیا جبکہ اس حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35.6 ایکڑ) پر مشتمل رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور سے وابستہ یروشلم اوقاف و مسجد اقصیٰ امور ڈائریکٹوریٹ ہی اس مقدس مقام کے انتظام و انصرام اور داخلے کے امور کا واحد مجاز ادارہ ہے۔
مزید پڑھیے: پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مشترکہ بیان، غزہ میں امن کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کا خیرمقدم
وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکام کو ان اشتعال انگیز اقدامات کے فوری خاتمے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بار بار کی جانے والی ایسی خلاف ورزیاں خطے میں کشیدگی، عدم استحکام اور انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہیں امن کی بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر ایسی تمام غیر قانونی اور اشتعال انگیز کارروائیاں بند کرے اور مسجد اقصیٰ کی تاریخی و قانونی حیثیت کا مکمل احترام یقینی بنائے۔
????PR No.1️⃣4️⃣0️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
Joint Statement by Foreign Ministers of the Group of Eight Arab-Islamic States
????⬇️ pic.twitter.com/qZTmgSZM0n
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 2, 2026
آٹھوں ممالک نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ان کے جائز اور ناقابل تنسیخ قومی حقوق، بالخصوص حقِ خودارادیت اور 1967 کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔
مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک اسرائیلی جارحیت پر بول پڑے
بیان میں اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور 2 ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے قیام کے لیے جاری تمام سفارتی کوششوں کی بھی مکمل حمایت کا اظہار کیا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
8 اسلامی ممالک اسرائیل کی جارحیت مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی