علی امین کے استعفیٰ منظوری تک اسمبلی اجلاس نہیں بلانا چاہیے تھا، رانا ثناء
اشاعت کی تاریخ: 13th, October 2025 GMT
وزیراعظم شہباز شریف کے مشیر سیاسی امور سینیٹر رانا ثناء اللّٰہ نے کہا ہے کہ جب تک علی امین گنڈاپور کا استعفیٰ منظور نہیں ہو، اسمبلی اجلاس نہیں بلانا چاہیے تھا۔
جیو نیوز کے پروگرام کیپٹل ٹاک میں گفتگو کے دوران رانا ثناء اللّٰہ نے کہا کہ مذہبی تنظیم سے مذاکرات والی بات درست نہیں، البتہ دونوں اطراف سے رابطے ضرور ہوئے ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) رہنما شاہد خٹک نے کہا ہے کہ ہم چاہتے ہیں سیاسی قیادت افغانستان کی حکومت سے بات کرے۔
انہوں نے کہا کہ مذہبی تنظیم سے کہا گیا تھا کہ لانگ مارچ احتجاج کو ختم کریں مگر پھر اس میں تشدد شامل ہوگیا۔
وزیراعظم کے مشیر نے مزید کہا کہ علی امین گنڈاپور کا استعفیٰ منظور ہونے تک اسپیکر کو خیبر پختونخوا اسمبلی کا اجلاس نہیں بلانا چاہیے تھا۔
اُن کا کہنا تھا کہ ایک طرف کہتے ہیں کہ ہمیں یہ نہیں کرنے دیا وہ نہیں کرنے دیا، نو منتخب وزیراعلیٰ نے جو تقریر کی ہے کیا وہ اسمبلی میں کرنے والی تقریر ہے۔
رانا ثناء اللّٰہ نے یہ بھی کہا کہ تحریک انصاف کو ایک سیاسی جماعت کے طور پر رویہ رکھنا چاہیے، سہیل آفریدی کہ رہے ہیں کہ وفاق کے ساتھ نہیں چلنا، جو باتیں وہ کر رہے ہیں یہ آئین اور قانون میں تو نہیں پڑتیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: رانا ثناء کہا کہ نے کہا
پڑھیں:
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کے لیے وزٹ ویزہ پر کینیڈا پہنچنے والے درجنوں افراد نے اسائلم کی درخواستیں دائر کر دیں۔
کینیڈا میں ورلڈ کپ کے 13 میچ منعقد ہوئے جن کے لیے حکام نے مجموعی طور پر 26 ہزار سیاحتی ویزے جاری کیے تھے۔ ہزاروں درخواستوں میں سے 50 فیصد سے زائد مسترد کر دی گئی تھیں۔
کینیڈین حکام کے مطابق اب تک 175 افراد سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرا چکے ہیں جن کا جائزہ امیگریشن اور مہاجرین سے متعلق قوانین کے تحت لیا جائے گا۔
حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ درخواست گزاروں میں کتنے کھلاڑی شامل ہیں، تاہم دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گھانا کے 25 جبکہ مصر اور کولمبیا کے 15، 15 شہریوں نے اسائلم کی درخواستیں دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس تعداد میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔
اس سے قبل کینیڈین حکومت خبردار کر چکی تھی کہ فیفا ورلڈ کپ کے لیے جاری کیے گئے سیاحتی ویزے کینیڈا میں مستقل قیام یا سیاسی پناہ حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں ہیں اور ہر درخواست کا فیصلہ صرف ملکی قوانین کے مطابق کیا جائے گا۔