پنجاب اسمبلی سے نئے لوکل ایکٹ 2025 کی منظوری
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سرگودھا(صباح نیوز)پنجاب اسمبلی سے نئے لوکل ایکٹ 2025 کی منظوری،نئی حلقہ بندیوں پر کام روک گیا،بل پر گورنر کے دستخطوں کے بعد نئے قانون کے حلقہ بندیوں کا نوٹیفکیشن ہوگیا،پہلے نوٹیفکیشن کو منسوخ کرنے پڑے گا،الیکشن کمیشن اور قانونی ماہرین نے بتایا کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے دسمبر 2025 کے آخری ہفتے میں صوبے بھر میں بلدیاتی الیکشن کروانے کا پلان مرتب کیا جائے رہا ہیں،اس حوالے سے صوبے بھر کی نئی حلقہ بندیاں کرنے کیلئے الیکشن کمیشن نے پنجاب میں لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2022 کے تحت 12 اکتوبر سے حلقہ بندیوں پر کام شروع کیا تھا،لیکن سوموار 13 اکتوبر کو پنجاب اسمبلی نے نئے لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2025 کی منظوری دے کر گورنر پنجاب کو ارسال کر دیا ہے،آئینی و قانونی ماہرین نے بتایا کہ گورنر پنجاب کے دستخطوں کے بعد صوبے میں نئے بلدیاتی لوکل ایکٹ 2025 لاگو ہو جائے گا،جب الیکشن کمیشن نئی حلقہ بندیاں پرانے لوکل ایکٹ 2022 کے تحت کر رہا ہیں،الیکشن کمیشن کے زرائع نے بتایا ہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان پرانی حلقہ بندیوں پر الیکشن نہیں کرسکتا، نئے ایکٹ کے تحت پہلے 2022 والے نوٹیفکیشن کو منسوخ اور نئے لوکل ایکٹ 2025 کو مدنظر رکھتے ہوئے نئے نوٹیفکیشن جاری کرنے ہوگا اور الیکشن کمیشن ہی نئی حلقہ بندیاں پر الیکشن کروانے کا پابند ہوگا، اور یہ قانونی تقاضا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: الیکشن کمیشن لوکل ایکٹ 2025 حلقہ بندیوں نئے لوکل
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔