Nawaiwaqt:
2026-06-03@06:40:33 GMT

ستمبر میں کرنٹ اکاونٹ 11 کروڑ ڈالر سرپلس رہا، اسٹیٹ بینک

اشاعت کی تاریخ: 20th, October 2025 GMT

ستمبر میں کرنٹ اکاونٹ 11 کروڑ ڈالر سرپلس رہا، اسٹیٹ بینک

اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے اعلان کیا ہے کہ ستمبر میں کرنٹ اکاؤنٹ 11 کروڑ ڈالر سرپلس رہا ہے۔

کراچی سے جاری اعلامیے کے مطابق ستمبر میں ملکی درآمدات 5 اعشاریہ 02 ارب ڈالر اور برآمدات 2 اعشاریہ 63 ارب ڈالر رہی ہیں۔

اعلامیے کے مطابق ستمبر میں ملک کا تجارتی خسارہ 2 اعشاریہ 39 ارب ڈالر اور خدمات کا خسارہ 19 اعشاریہ 8 کروڑ ڈالر رہا ہے۔

ایس بی پی کے اعلامیے کے مطابق ستمبر میں تجارت، خدمات اور آمدن کا خسارہ 3 اعشاریہ 26 ارب ڈالر رہا ہے۔

اعلامیے کے مطابق رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں کرنٹ اکاؤنٹ کھاتہ 59 اعشاریہ 4 کروڑ ڈالر خسارے میں رہا جبکہ اس دوران ملکی برآمدات 7 اعشاریہ 90 ارب ڈالر رہیں۔

ایس بی پی اعلامیے کے مطابق جولائی سے ستمبر کے دوران ملکی درآمدات 15 اعشاریہ 43 ارب ڈالر رہیں جبکہ تین ماہ میں تجارتی خسارہ 7 اعشاریہ 53 ارب ڈالر رہا۔

اعلامیے کے مطابق تین مہینوں میں تجارت، خدمات اور آمدن کا خسارہ 10 اعشاریہ 64 ارب ڈالر رہا، رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کی ورکرز ترسیلات 9 اعشاریہ 53 ارب ڈالر رہیں

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: اعلامیے کے مطابق کروڑ ڈالر ڈالر رہا ارب ڈالر

پڑھیں:

پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز

اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں سمیت مختلف شعبوں کے لیے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے گورننس، ٹیکنالوجی، توانائی اور خواتین کی فلاح و بہبود کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔

دستاویزات کے مطابق پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) اچیومنٹ پروگرام کے تحت ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 70 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ ڈویژن کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2 ارب روپے جبکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے منصوبوں کے لیے ایک ارب 70 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔

پی ایس ڈی پی 2026-27 میں پارلیمنٹ لاجز کی اپ گریڈیشن کے لیے 5 کروڑ 60 لاکھ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح نیشنل آرکائیوز آف پاکستان کی بحالی اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے منصوبے کے لیے 5 ارب 50 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔

توانائی کے شعبے میں سرکاری عمارتوں میں شمسی توانائی کے نظام کی بہتری اور توانائی بچت اقدامات کے لیے 19 کروڑ 40 لاکھ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔

وفاقی دارالحکومت میں جدید ٹیکنالوجی حب کے قیام کے لیے اسلام آباد ٹیکنوپولس منصوبے پر ایک ارب 58 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) کے امتحانی نظام کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے 70 کروڑ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

خواتین کی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے تحت اسلام آباد میں ورکنگ ویمن ہاسٹل کے قیام کے لیے 16 کروڑ 70 لاکھ روپے جبکہ خواتین افسران کے لیے رہائشی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے پر 82 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ڈیجیٹل گورننس، سرکاری اداروں کی استعداد کار بڑھانے، توانائی بچت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • ایران-امریکہ جنگ کے درمیان "ریزرو بینک آف انڈیا" نے 12 ارب روپیے کا سونا فروخت کیا، رپورٹ میں دعویٰ
  • وفاقی بجٹ 2026-27 میں شعبۂ تعلیم کے نئے ترقیاتی منصوبے بڑی حد تک نظرانداز
  • امریکا ایران کشیدگی کے اثرات: تیل کی قیمتوں میں تیزی، بٹ کوائن 2 ماہ کی کم ترین سطح پر
  • وفاقی بجٹ 2026-27: پراپرٹی اور ریئل اسٹیٹ سیکٹر کو کتنے بڑے ٹیکس ریلیف کا امکان؟
  • اے جی پی آر کا کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ کا اعلان
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • زیر التوا مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے سپریم کورٹ کا بڑا انتظامی فیصلہ