WE News:
2026-06-03@04:38:53 GMT

آو کہ کوئی خواب بُنیں کل کے واسطے

اشاعت کی تاریخ: 24th, October 2025 GMT

کل اسلام آباد کی ایک مصروف شاہراہ پر ڈیوٹی پر موجود ہونہار اور لائق پولیس افسر عدیل اکبر کے ہاتھوں سے چلنے والی گولی کی گونج نے ہم سب کو ہلا کر رکھ دیا۔

کوئی کیسے اپنی جان لے لیتا ہے؟ کوئی اپنے ساتھیوں، اپنے پیاروں اور ایک بار ملنے والی زندگی سے یوں منہ کیسے موڑ لیتا ہے؟

ابھی کچھ دیر پہلے تو وہ ہشاش بشاش، مسکراتا ہوا اپنے فرائض سرانجام دے رہا تھا۔ ماتحتوں کو چوکس رہنے کا کہہ رہا تھا، فل برائٹ اسکالرشپ پر امریکا جانے کی تیاری بھی کرنا ہوگی، بیٹی کو مرضی کے گفٹ دلانے کی فکر بھی ہوگی، خواب دیکھنے والی آنکھیں کیوں بجھ جاتی ہیں؟

سوشل میڈیا پر قیاس آرائیاں ہیں، تحقیقات کے بعد حتمی رائے دینے کا حق صرف پولیس کو ہے۔

لیکن ہم جذباتی سے لوگ ہیں، سوچتے ہیں کہ آخر ایسا کیوں ہوتا ہے؟

سوچتے ہیں کہ عدیل کی گولی کی آواز نے تو گونج پیدا کی لیکن ایسی کئی آنکھیں جو ڈپریشن، ذہنی دباؤ کے باعث خاموشی سے بجھ گئیں اور کسی کو خبر بھی نہ ہونے پائی کہ کس کرب سے دوچار تھیں وہ۔ ان کی بات کون کرے گا؟

سول سروس کے حوالے سے سوشل میڈیا پر بہت بات ہوئی، شاید اس لیے کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ سول سرونٹس وہ خوش نصیب ہیں کہ جن کو معاشرے میں من چاہا مقام مل گیا، سو ان کی زندگی میں خلا ممکن ہی نہیں۔

ایسا نہیں ہے۔ قطعاً نہیں۔

بات یوں ہے کہ ہمارے معاشرے میں قانون کمزور ہے، اس لیے ہر شخص اپنے وجود کی ضمانت کسی طاقتور طبقے سے وابستگی میں ڈھونڈتا ہے۔

نوجوانوں کا ایک بڑا طبقہ یا تو ملک چھوڑنے کا خواب دیکھتا ہے یا سول سروس اور سرکاری نوکری کی پناہ میں آنا چاہتا ہے، جہاں اسے طاقت، تقویت، عزت، تحفظ اور استحکام کی امید ہوتی ہے۔

لیکن جیسے زندگی میں سب کچھ ویسا نہیں ہوتا جیسے ہم چاہتے ہیں یا سوچتے ہیں، بالکل اسی طرح سول سروس میں بھی ہر مرحلے پر توقعات اور حقیقت کا ایک بڑا خلیج ہمارا منتظر رہتا ہے۔

تنخواہیں کم، دباؤ زیادہ، فیملی، خاندان اور سوسائٹی کی توقعات بے کنار۔

یہ بھی قابل غور بات ہے کہ اکثر افسران اپنا nerve testing exam دے کر ہی آئے ہیں، لیکن سول سروس پاس کرنے کے بعد پہاڑ سی زندگی میں روز اس سے بڑا اور بُرا امتحان دینا پڑتا ہے۔ کبھی محنت کی داد نہ ملنے پر، کبھی اپنی معمولی غلطی کی کڑی سزا ملنے پر، کبھی کسی اور کی غلطی کی سزا کاٹنے پر اور کبھی مختلف یا زیادہ ذہین انسان ہونے پر۔

بہت سوں کو بیوروکریسی ایک خواب لگتی ہے، اختیار، مراعات، عزت۔

مگر اندر جھانک کر دیکھیں تو وہی بنیادی مسائل: کبھی دفتری، کبھی معاشی، کبھی خانگی، کبھی جذباتی، کبھی معاشرتی اور کبھی یہ تمام مل کر آہستہ آہستہ اس شعلے کو مدھم کردیتے ہیں جس نے کبھی سوچا تھا کہ اک خاشاکِ عالم پھونک ڈالے گا۔

جیسے ماں باپ اپنے زخم اولاد کو منتقل کرتے ہیں، ایسے ہی بیوروکریسی میں بھی وہ سینیئرز جن کی پروموشن نظام کی کرامت کی بدولت ہوگئی اور خود بڑے نہ ہوسکے، وہ اپنے ماتحتوں کے لیے خوف کی فضا قائم رکھتے ہیں اور ناروا سلوک کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں کہ انہیں لگتا ہے دفتر بدتمیزی اور سختی سے ہی چلتا ہے کیونکہ ان کے بڑوں نے ان سے ایسے ہی کیا تھا۔

اکثر آپ چاپلوس اور وفادار لوگوں کو لائق لوگوں پر حاوی پائیں گے۔

دفاتر میں empathy کو کمزوری سمجھا جاتا ہے، خاموشی کو پیشہ ورانہ مہارت۔ ذہنی صحت پر بات کرنا ہی taboo ہے۔

اس لیے کبھی کبھی وہی افسر جو دوسروں کے لیے فیصلے لکھتا ہے، کبھی اپنی زندگی کے فیصلے پر قابو نہیں رکھ پاتا۔

وفاداری میرٹ کھا گئی، ڈسپلن احساس کھا گیا، اور کئی افسران کو ذہنی تناؤ کھا گیا۔

جہاں سننے والا کوئی نہیں، وہاں بولنے والا کب تک زندہ رہے گا؟

ذہنی صحت کو ہمارے یہاں سرے سے کسی کھاتے میں نہیں رکھا جاتا۔

بس سب دوڑ رہے ہیں۔۔۔ کس طرف کو، کوئی نہیں جانتا۔

ایسی افراتفری میں اگر تھوڑی دیر کو خاموشی ہوتی ہے تو صرف عدیل جیسے ہی کسی ہونہار لڑکے کے پستول کی گولی کی آواز سے۔

اس تازہ خاموشی میں آئیں، پھر سے خواب دیکھیں۔۔۔۔

طبقاتی قانون کے خاتمے کا خواب، ذہنی مسائل پر بات کرنے والے، اسے قبول کرنے والے دفتری ماحول کا خواب، نوجوانوں کے لیے چھوٹے بزنس میں بہتر مواقع کا خواب، سول سروس میں حقیقت پسند توقعات کا خواب۔

آئیں خواب دیکھیں مگر پہلے ان خوابوں کے لیے جاگنا بھی سیکھیں۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

قرۃ العین حیدر

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: سول سروس کا خواب کے لیے ہیں کہ

پڑھیں:

رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر رکشے کو آگ لگا دی

حافظ آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) حافظ آباد میں رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر اپنے رکشے کو آگ لگا دی۔

نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق ٹریفک وارڈن کی جانب سے ریلوے پھاٹک کے قریب رکشہ ڈرائیور کا چالان کیا گیا جس پر ڈرائیور مشتعل ہوگیا اور اس نے اپنے رکشے کو آگ لگا دی۔

پولیس کے مطابق رکشہ ڈرائیور کا کہنا تھا کہ آئے روز کے بھاری جرمانوں سے تنگ ہوکر رکشے کو آگ لگائی ہے۔

دوسری جانب ڈی پی او کامران حمید کا کہنا ہےکہ واقعے کے بعد متعلقہ ٹریفک وارڈن کو معطل کر کے تحقیقات شروع کر دی گئی ہے۔

ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار

مزید :

متعلقہ مضامین

  • عمران خان کی اب کوئی مقبولیت نہیں، وہ رہا ہو جائیں تو حقیقت سب کے سامنے آ جائے گی، وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر
  • نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
  • ناتمام (آخری قسط)
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • بانی جس دن محمود اچکزئی سے مطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے، جنید اکبر
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر رکشے کو آگ لگا دی
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ