ہنگو میں دو دھماکے: چیک پوسٹ تباہ، ایس پی آپریشنز اور 2 پولیس اہلکار شہید
اشاعت کی تاریخ: 24th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ہنگو: صوبہ خیبرپختونخوا کے ضلع ہنگو میں پولیس کی گاڑی کے قریب ہونے والے طاقتور دھماکے میں ایس پی آپریشنز اسد زبیر سمیت تین اہلکار شہید جبکہ دو زخمی ہو گئے۔
پولیس حکام کے مطابق واقعہ ہنگو کے علاقے غلمینا میں پیش آیا، جہاں نامعلوم دہشت گردوں نے پہلے ایک پولیس چیک پوسٹ کو بارودی مواد سے نشانہ بنایا۔ ابتدائی دھماکے میں کسی قسم کا جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا، تاہم فورسز کو خدشہ تھا کہ یہ کارروائی کسی بڑے حملے کی تمہید ہوسکتی ہے۔
پولیس کے مطابق جب ایس پی آپریشنز اسد زبیر دیگر اہلکاروں کے ہمراہ جائے وقوعہ کا معائنہ کرنے کے لیے روانہ ہوئے تو درابن کے علاقے میں ان کی گاڑی کو ریموٹ کنٹرول بم کے ذریعے اڑا دیا گیا۔
ڈی ایس پی خانزیب مہمند نے بتایا کہ دھماکے کے نتیجے میں ایس پی اسد زبیر اور دو پولیس اہلکار موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ دو دیگر زخمی اہلکاروں کو فوری طور پر ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتال ہنگو منتقل کیا گیا، جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
واقعے کے بعد پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ حملے میں ملوث عناصر کو جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ایس پی
پڑھیں:
چیک ریپبلک میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ؛ ایک فوجی ہلاک اور 4 زخمی
چیک ریپبلک کے مشرقی حصے میں ایک فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہوگیا جس کے نتیجے میں ایک فوجی ہلاک جبکہ تین دیگر زخمی ہو گئے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق چیک وزارتِ دفاع اور فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حادثہ بدھ کے روز نامیشت ناد اوسلاوو ایئر فورس بیس پر پیش آیا جو دارالحکومت پراگ سے تقریباً 180 کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع ہے۔
حادثے کا شکار ہونے والا ہیلی کاپٹر UH-1Y Venom تھا، جس میں مجموعی طور پر 5 فوجی اہلکار سوار تھے۔ حادثے میں ایک اہلکار موقع پر ہی جان کی بازی ہار گیا جبکہ تین زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا۔
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ہیلی کاپٹر معمول کی فوجی تربیتی سرگرمی کے سلسلے میں پرواز کر رہا تھا، تاہم حکام نے ابھی تک اس کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔ حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے فوج نے خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دیدی ہیں۔
چیک حکام کا کہنا ہے کہ اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں، آیا حادثہ تکنیکی خرابی، موسمی حالات یا انسانی غلطی کے باعث پیش آیا۔ تحقیقات کے نتائج سے میڈیا کو آگاہ کیا جائے گا۔