ملتان، انسانی اسمگلنگ میں ملوث سی سی ڈی ملازم سمیت 2 ملزمان گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 27th, October 2025 GMT
ملتان سے انسانی اسمگلنگ اور ویزا فراڈ میں ملوث سی سی ڈی ملازم سمیت 2 ملزمان گرفتار کرلیے گئے۔
ترجمان ایف آئی اے کے مطابق ملتان زون نے انسانی اسمگلرز کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کیا گیا ہے۔
ترجمان کے مطابق انسانی اسمگلنگ اور ویزا فراڈ میں میں ملوث 2 ملزمان گرفتار کیے گئے ہیں، جن میں سی سی ڈی کا ملازم بھی شامل ہے۔
ایف آئی اے ترجمان کے مطابق سی سی ڈی ملازم نے یونان ملازمت کا جھانسا دے کر 37 لاکھ 40 ہزار روپے لیے تھے۔
ترجمان کے مطابق گرفتار ملزم سی سی ڈی بہاولپور میں تعینات تھا جبکہ دوسرے گرفتار ملزم نے شہری کو فرانس میں ملازمت کا جھانسا دے کر 18 لاکھ روپے بٹورے تھے۔
ایف آئی اے ترجمان کے مطابق ملزمان رقم وصولی کے بعد روپوش ہوگئے تھے، معاملے کی تفتیش جاری ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ترجمان کے مطابق سی سی ڈی
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک