وزیراعلیٰ کے پی کی منشیات بنانے اور فراہم کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت
اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے صوبے میں منشیات تیار کرنے اور فروخت کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایات جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ہیروئن اور آئس جیسی خطرناک منشیات کا مکمل خاتمہ انتہائی ضروری ہو چکا ہے۔
وزیراعلیٰ کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں منشیات کے سپلائرز اور مینوفیکچررز کے خلاف بھرپور آپریشن کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
سہیل آفریدی نے اجلاس میں کہا کہ منشیات کا پھیلاؤ افسوسناک طور پر جامعات تک پہنچ گیا ہے، اور اب مزید کوتاہی کی کوئی گنجائش نہیں۔ نوجوانوں کو اس لعنت سے محفوظ رکھنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔
انہوں نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ منشیات کی تیاری اور ترسیل کے خاتمے کے لیے مربوط حکمت عملی اپنائی جائے اور اس مقصد کے لیے مختلف محکموں پر مشتمل مشترکہ ٹیم تشکیل دی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ بڑے سپلائرز اور ڈیلرز کے خلاف کارروائی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔
وزیراعلیٰ نے زور دیا کہ منشیات کے معاملے پر زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے اور کارروائیاں نتائج دینے والی ہوں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بے جا کسی کو ہراساں نہ کیا جائے بلکہ شواہد کی بنیاد پر کارروائی کی جائے۔ سہیل آفریدی نے یہ بھی ہدایت کی کہ ضبط شدہ منشیات کو فوری طور پر تلف کرنا ضروری ہے تاکہ وہ دوبارہ مارکیٹ تک نہ پہنچ سکیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے خلاف
پڑھیں:
بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف ایک خاموش جنگ لڑی جا رہی ہے جو بارود سے زیادہ نوجوانوں کے ذہنوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
صوبائی وزرا علی مدد جتک اور عاصم کرد گیلو کے ہمراہ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ دشمن پاکستان اور بلوچستان کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 2018 میں بشیر زیب نے جب ایک کالعدم تنظیم کی کمان سنبھالی تو حالات مزید خراب ہوئے، جبکہ جنید بشیر زیب کا رائٹ ہینڈ ہے۔
انہوں نے کہاکہ آج کی جنگ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر لڑی جا رہی ہے اور کالعدم تنظیموں کے کارندے زنگی ایپ کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیمیں سنگل ایپ کے ذریعے آپریشنل منصوبہ بندی جبکہ ڈیلٹا چیٹ کے ذریعے خفیہ بھرتیاں کرتی ہیں۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ آج دشمن صرف گولی کا استعمال نہیں کر رہا بلکہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈز چلا کر بھی اپنا ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ نوجوان پہاڑوں کا رخ کریں۔
انہوں نے دعویٰ کیاکہ کالعدم تنظیموں نے اپنی سرگرمیوں میں خواتین کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے۔ شہناز بلوچ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جلسوں میں شرکت کرتی تھیں اور ان کا باہوٹ کے ذریعے کالعدم تنظیم سے رابطہ ہوا۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے مزید کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچستان کی قیادت ڈاکٹر صبیحہ کر رہی ہیں اور ان کا بھائی ایک کالعدم تنظیم کا حصہ ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کراچی سیل کی قیادت فوزیہ شاہوانی کررہی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بلوچستان سیاست خاموش جنگ نوابزادہ جمال رئیسانی وی نیوز