بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت ہونی چاہئے: رانا ثناء
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ) وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے نجی ٹی وی کو انٹرویو میں کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت ہونی چاہئے۔ تین گھنٹے کی ملاقات کے بعد ڈیڑھ گھنٹے کی پریس کانفرنس نہیں ہونی چاہئے۔ جلاؤ گھیراؤ، اسلام آباد کی طرف چڑھائی کی باتیں نہیں ہونی چاہئیں۔ کوئی قانون اجازت نہیں دیتا کہ جیل میں بیٹھ کر باہر کوئی تحریک چلائے۔ یہ اجازت نہیں کہ بانی پی ٹی آئی سے کوئی ملاقات کے بعد آکر کئی گھنٹے کی پریس کانفرنس کرے۔ بانی پی ٹی آئی نے 26 نومبر کو احتجاج کی کال دی ہوئی تھی۔ جس عدالت نے ان کو اجازت دی اس میں دونوں چیزیں ہیں کہ ملاقات کرائی جائے سیاست نہ کی جائے۔ نواز شریف لندن گئے تھے تو کیا جیل توڑ کر گئے تھے۔ اس وقت کی کابینہ نے اجازت دی تھی۔ افراتفری کیلئے نئے وزیراعلیٰ خیبر پی کے کو لایا گیا۔ مسائل کا حل بات چیت سے نکلتا ہے۔ بانی چار سال وزیراعظم رہے اس وقت بھی بات نہیں کی۔ وہ اب بھی مخالفین سے بات چیت کے حق میں نہیں۔ وفاقی اور صوبائی سطح پر کرپشن کا کوئی سکینڈل نہیں۔ انکم ٹیکس، ایف بی آر، پولیس سمیت دیگر اداروں میں کرپشن شروع سے ہے۔ دو سال پہلے ملک ڈیفالٹ کے دہانے پر تھا۔ امپورٹ بل کیلئے ڈالرز نہیں تھے۔ آج آئی ایم ایف بھی بہتری کا اعتراف کر رہا ہے۔ حکومت کی پی آئی اے کی نجکاری پر توجہ ہے۔
.ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: بانی پی ٹی آئی
پڑھیں:
ہری پور کے ضمنی الیکشن میں کامیابی پر حیرانی ہوئی: رانا ثناء اللّٰہ
—فائل فوٹووزیرِ اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللّٰہ کا کہنا ہے کہ ہری پور کے ضمنی الیکشن میں کامیابی پر خوشی بھی ہوئی اور حیرانی بھی۔ وزیراعلیٰ کے پی ہری پور میں مہم چلا رہے تھے اور دھمکیاں بھی دے رہے تھے۔
جیو نیوز کے پروگرام جیو پاکستان میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 2017 میں مہنگائی 3 فیصد تھی جو 4 سال میں 40 فیصد پر گئی، بانی پی ٹی آئی پروجیکٹ کے لانچ کے بعد ملک میں تباہی آئی۔
رانا ثناء اللّٰہ نے کہا کہ آئی ایم ایف کا پروگرام مکمل ہو گا تو عوام کو ریلیف دے سکیں گے، ہم لوگوں کو ریلیف دینا چاہتے ہیں لیکن آئی ایم ایف شرائط کی وجہ سے نہیں دے پا رہے۔
وزیرِ اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور اور مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما رانا ثناء اللّٰہ نے کہا ہے کہ اگلے الیکشن تک میرے خیال سے پی ٹی آئی نام کی کوئی جماعت نہ ہو۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک کی تباہی کرنے والوں سے جواب طلبی میں وقت ضائع کیا جائے یا بہتری کے لیے کام کیا جائے، ملک کو ڈیفالٹ سے بچایا جائے، حالات بہتر، لوگوں کو ریلیف دیا جائے یا پھر اسی دائرے میں گھوما جائے۔
انہوں نے کہا کہ جھوٹے مقدمات، گالم گلوچ، نفرت جیسے معاملات کا نتیجہ بہتر نہیں نکلتا، ہماری اولین ترجیح ہے کہ ملک آگے بڑھے، ترقی کرے اور لوگوں کے لیے آسانی ہو، جن لوگوں نے ماضی میں ملک کو نقصان پہنچایا ان کے حساب کا وقت آسکتا ہے۔
مسلم لیگ ن کے رہنما کا کہنا تھا کہ ملک کی بہتری کے لیے کام ہونا چاہیے، ان لوگوں کا حساب بعد میں بھی ہوسکتا ہے۔