قانون کی حکمرانی کے لئے ججوں کو کھڑا ہونا چاہئے؛جسٹس جمال مندوخیل
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: سپریم کورٹ کے جسٹس جمال مندوخیل نے ججوں کو ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر آئین اور قانون کے مطابق فیصلے کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ججوں کو قانون کی حکمرانی کے لیے کھڑے ہونا چاہیے۔
جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ججوں کو قانون کی حکمرانی کے لیے کھڑا ہونا چاہیے اور ججوں کو فیصلے قانون کے مطابق کرنے چاہیے نہ کہ ذاتی مفادات کو دیکھتے ہوئے۔یہ بات انہوں نے فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
ان کا کہنا تھا کہ ججوں کو کسی دباؤ میں آ کر فیصلے نہیں کرنے چاہئیں، ججوں کو ہمیشہ صرف آئین کو ہی بالادست قرار دینا چاہیے۔ ججوں کو اپنی تمام توانائیاں سائلین کو انصاف کی فراہمی کے لیے صرف کرنی چاہئیں۔
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ججوں کو
پڑھیں:
جہیز سے انکار، دلہا نے 31 لاکھ کا جہیز ٹھکرا کر مثال قائم کردی
بھارت کے اترپردیش کے ضلع مظفر نگر میں ایک نوجوان دلہے کے غیر معمولی فیصلے نے سوشل میڈیا پر بھرپور داد سمیٹ لی ہے۔
شادی کی تقریب کے دوران دلہے نے دلہن کے اہل خانہ کی جانب سے دیا جانے والا 31 لاکھ روپے کا جہیز لینے سے صاف انکار کرتے ہوئے محض ایک روپیہ قبول کیا، جسے صارفین جہیز کے خلاف ایک مضبوط اور باوقار پیغام قرار دے رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق اودھیش رانا کی شادی 22 نومبر کو شہاب الدین پور گاؤں کی رہائشی ادیتی سنگھ سے مقامی بینکوئٹ ہال میں انجام پائی۔ تلک کی رسم کے دوران دلہن کے اہل خانہ نے روایتی طور پر 31 لاکھ روپے بطور جہیز پیش کیے، تاہم اودھیش نے سب کے سامنے ہاتھ جوڑ کر یہ رقم لینے سے انکار کردیا اور جہیز کے خلاف اپنا دو ٹوک مؤقف ظاہر کیا۔
View this post on Instagramاودھیش رانا نے بتایا کہ وہ ناگوا کے رہنے والے ہیں اور ان کا خاندان ہمیشہ سے جہیز کے رواج کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا ’’ہمیں 31 لاکھ روپے دیے جا رہے تھے لیکن ہم نے وہ رقم واپس کردی۔ ہمارا ماننا ہے کہ جہیز کا نظام غلط ہے اور اسے مکمل طور پر ختم ہونا چاہیے۔‘‘
دلہے کا یہ بھی کہنا تھا کہ شادی جیسا پاکیزہ رشتہ کسی مالی بوجھ پر قائم نہیں ہونا چاہیے، اور نہ ہی کسی باپ کو اپنی بیٹی کی شادی کے لیے قرض لینے پر مجبور ہونا چاہیے۔ اودھیش نے مزید کہا کہ چونکہ ان کا رشتہ محض ایک روپے کی رسم پر قائم ہوا، اس سے زیادہ لینا وہ اخلاقی طور پر درست نہیں سمجھتے۔
https://www.reddit.com/r/CriticalThinkingIndia/comments/1p8k47j/up_groom_returns_31_lakh_dowry_says_he_cant_take/?seeker-session=trueاودھیش کے اس عمل نے تقریب میں موجود افراد سمیت سوشل میڈیا صارفین کو بھی بے حد متاثر کیا، اور اسے معاشرتی اصلاح کے لیے ایک جرأت مندانہ قدم قرار دیا جا رہا ہے۔