data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی: پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں گزشتہ 4روز کی مسلسل تیزی اچانک دم توڑ گئی۔

عالمی مالیاتی ادارے کی جانب سے ریونیو کی کمی پر بڑھتی ہوئی تشویش، ملک میں سیاسی منظرنامے کی غیر یقینی کیفیت اور نومبر کے تجارتی اعداد و شمار نے مجموعی ماحول کو شدید دباؤ میں رکھا۔ خصوصاً درآمدات میں نمایاں اضافے اور برآمدات میں توقع سے کم کارکردگی کے نتیجے میں تجارتی خسارہ 33 فیصد بڑھ کر 2.

86 ارب ڈالر تک پہنچ جانا سرمایہ کاروں کے لیے تشویش کا بڑا سبب بنا، جس کا براہِ راست اثر مارکیٹ پر پڑا۔

کاروباری دن کا آغاز مثبت توقعات کے ساتھ ہوا اور مضبوط فنڈامینٹلز کے باعث انڈیکس میں تیزی دیکھی گئی۔ ابتدائی گھنٹوں میں انویسٹر کانفیڈنس مضبوط محسوس ہوا اور ایک موقع پر کے ایس ای 100 انڈیکس میں 1227 پوائنٹس تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس نے 1 لاکھ 69 ہزار پوائنٹس کی نئی بلند ترین سطح کو بھی چھو لیا۔

بعد ازاں مارکیٹ میں گراوٹ کی شدت اس حد تک بڑھی کہ ایک وقت میں 616 پوائنٹس کی کمی دیکھنے میں آئی۔ اس ماحول میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے سرمایہ کار زیادہ دباؤ میں نظر آئے، جبکہ بڑے سرمایہ کار محتاط حکمت عملی اپناتے ہوئے صورتحال کا جائزہ لیتے رہے، تاہم اختتامی لمحات میں نچلی سطحوں پر خریداری بڑھنے سے مندی کے اثرات میں جزوی کمی واقع ہوئی۔

کاروباری دن کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 419.92 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ 167642.28 پوائنٹس پر بند ہوا۔ مارکیٹ میں 479 کمپنیوں کے شیئرز کی خرید و فروخت ہوئی جن میں 182 کے ریٹس میں اضافہ دیکھا گیا جبکہ 254 کمپنیوں کے حصص کی قیمتیں گِر گئیں اور 43 کمپنیوں کے حصص برقرار رہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ

وفاقی حکومت نے عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف)کی شرائط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔

وفاقی وزارت خزانہ حکام کے مطابق آئی ایم ایف کی شرط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کر دی جائے گی اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔

حکام کا کہنا تھا کہ اس وقت ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کو اپنی 20 فیصد پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت حاصل ہے تاہم آئی ایم ایف نے اس رعایت کو برقرار رکھنے کی حکومتی درخواست مسترد کر دی ہے۔

وزارت خزانہ کے مطابق حکومت نے مزید ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کے قیام کی اجازت کی بھی درخواست کی تھی تاہم آئی ایم ایف نے اسے بھی قبول نہیں کیا۔

حکام نے بتایا کہ حکومت آئندہ اقتصادی جائزے کے دوران دوبارہ درخواست کرے گی کہ مقامی مارکیٹ میں 20 فیصد پیداوار فروخت کرنے پر پابندی عائد نہ کی جائے۔

وزارت خزانہ کے مطابق مقامی مارکیٹ میں پیداوار فروخت کرنے کی چھوٹ ختم کرنے کی تجویز فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو بھی بھجوائی جا رہی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سوناہزاروں روپے سستا، ایک دن کی بڑی کمی نے مارکیٹ ہلا دی
  • مشرقِ وسطیٰ کشیدگی کے اثرات، اسٹاک ایکسچینج میں 1,200 سے زائد پوائنٹس کی کمی
  • وزیرِ پیٹرولیم کی بین الاقوامی توانائی کمپنیوں کے نمائندوں سے ملاقات
  • عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں کمی
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ