پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مندی کا رجحان، سرمایہ کاروں کے ایک ارب سے زائد ڈوب گئے
اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں گزشتہ 4روز کی مسلسل تیزی اچانک دم توڑ گئی۔
عالمی مالیاتی ادارے کی جانب سے ریونیو کی کمی پر بڑھتی ہوئی تشویش، ملک میں سیاسی منظرنامے کی غیر یقینی کیفیت اور نومبر کے تجارتی اعداد و شمار نے مجموعی ماحول کو شدید دباؤ میں رکھا۔ خصوصاً درآمدات میں نمایاں اضافے اور برآمدات میں توقع سے کم کارکردگی کے نتیجے میں تجارتی خسارہ 33 فیصد بڑھ کر 2.
کاروباری دن کا آغاز مثبت توقعات کے ساتھ ہوا اور مضبوط فنڈامینٹلز کے باعث انڈیکس میں تیزی دیکھی گئی۔ ابتدائی گھنٹوں میں انویسٹر کانفیڈنس مضبوط محسوس ہوا اور ایک موقع پر کے ایس ای 100 انڈیکس میں 1227 پوائنٹس تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس نے 1 لاکھ 69 ہزار پوائنٹس کی نئی بلند ترین سطح کو بھی چھو لیا۔
بعد ازاں مارکیٹ میں گراوٹ کی شدت اس حد تک بڑھی کہ ایک وقت میں 616 پوائنٹس کی کمی دیکھنے میں آئی۔ اس ماحول میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے سرمایہ کار زیادہ دباؤ میں نظر آئے، جبکہ بڑے سرمایہ کار محتاط حکمت عملی اپناتے ہوئے صورتحال کا جائزہ لیتے رہے، تاہم اختتامی لمحات میں نچلی سطحوں پر خریداری بڑھنے سے مندی کے اثرات میں جزوی کمی واقع ہوئی۔
کاروباری دن کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 419.92 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ 167642.28 پوائنٹس پر بند ہوا۔ مارکیٹ میں 479 کمپنیوں کے شیئرز کی خرید و فروخت ہوئی جن میں 182 کے ریٹس میں اضافہ دیکھا گیا جبکہ 254 کمپنیوں کے حصص کی قیمتیں گِر گئیں اور 43 کمپنیوں کے حصص برقرار رہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔
غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔
عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔
گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔
ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔