معصوم بچے ابراہیم کی المناک موت
اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
شہر کراچی کے باسی اتنے مجبور بے بس اور بے کس ہوچکے ہیں کہ وہ اپنی مظلومیت کا نوحہ بھی کسی کے سامنے بیان نہیں کر سکتے۔ شہر میں بدامنی کا راج ہے۔ اسٹریٹ کرائمز موبائل فون اور قیمتی اشیا کی چھینا جھپٹی کا زور ہے، کراچی شہر ایسا مظلوم شہر ہے جہاں کوئی قانون نہیں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کے مترادف نظام چل رہا ہے، کوئی اپنی غلطی اور ذمے داری کو بھی قبول کرنے کو تیار نہیں ہے۔ کراچی کے شہری پہلے بنیادی سہولتوں سے محرومی پر نوحہ کناں تھے کہ اب اپنے معصوم بچوں کی اموات پر ماتم کر رہے ہیں۔ پہلے ہی خونیں ٹینکر اور ڈمپرمافیا کراچی کے بچوں کو اپنے ٹائروں تلے کچل کر انہیں موت کی وادی میں دھکیل رہے تھے جس پر پورا شہر سراپا احتجاج بنا ہوا ہے۔ ایک غم المیہ اور سانحہ نہیں گزرتا کہ دوسرا سانحہ رونما ہوجاتا ہے اور ایسا محسو س ہورہاہے کہ کراچی کا کوئی والی وارث ہی نہیں اور کراچی کے شہریوں کو ظالم حکمرانوں نے موت کے کنویں میں دھکیل دیا ہے۔ ایسا ہی ایک واقعہ گزشتہ دنوں گلشن اقبال کے علاقے نیپا چورنگی کے قریب پیش آیا۔ تین سالہ ابراہیم ولد نبیل جو اپنے والدین کے ہمراہ شاپنگ مال میں خریداری کے لیے آیا تھا۔ شاپنگ مال سے باہر نکلتے ہوئے وہ کھلے مین ہول میں گر گیا۔ اتوار کی رات کو گٹر میں گرنے والے معصوم بچے کو پندرہ گھنٹے تک تلاش کیا جاتا رہا۔ اس دوران شہریوں کی جانب سے انتظامیہ کی غفلت اور ریسکیو کے عمل میں تاخیر پر شدیداحتجاج بھی کیا گیا۔ ریسیکو عملے نے بچے کی تلاش میں بہت کوشش کی تاہم مناسب مشینری نہ ہونے کے باعث آپریشن روکنا پڑا۔ ریسیکو حکام کے مطابق ان کے پاس ضروری مشینری دستیاب نہیں تھی اور نہ ہی کسی سرکاری ادارے کی جانب سے کوئی معاونت فراہم کی گئی۔ جس پر علاقہ مکینوں نے اپنی مددآپ کے تحت ہیوی مشینری منگوائی اور کھدائی کاکام شروع ہوا۔
سانحہ نیپا نے ایک خاندان کی زندگی اجاڑ دی۔ یہ شہری حکومت کی مجرمانہ غفلت کے نتیجے میں ہونے والا سفاکانہ قتل ہے۔ سندھ حکومت جو گزشتہ 18سال سے اس صوبے پر حکمران ہے اور اب تک 30 ہزار ارب روپے کے وسائل اسے فراہم کیے گئے لیکن اتنے وسائل ہونے کے باوجود کراچی کا ایک معصوم بچہ اس بے دردری کے ساتھ موت کے منہ میں چلا گیا ہے۔ بلاشبہ کراچی شہر موت کا کنواں بن چکا ہے، یہاں کے شہری ڈمپر کے نیچے کچلے جاتے ہیں، نالوں اور کھلے مین ہولز میں گر کر مرنا اہل کراچی کے نصیب میں لکھ دیا گیا ہے۔ میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے تو اس واقعہ پر انوکھی منطق اختیار کرتے ہوئے کہا کہ نیپا کے قریب کمسن بچے کے گرنے کا مقام سیوریج لائن نہیں بلکہ برساتی نالہ تھا۔ ہم نے گزشتہ ایک سال میں 88 ہزار مین ہول کور لگائے ہیں۔ اس علاقے کا ٹائون چیئرمین جماعت اسلامی سے تعلق رکھتا ہے اگر وہ ذمے داری اس جماعت پر ڈالیں تو لوگ ناراض ہوں گے۔ جماعت اسلامی کے نائب امیر اور اپوزیشن لیڈر سیف الدین ایڈووکیٹ نے سانحہ نیپا چورنگی، معصوم بچے کی المناک موت حکومتی بے حسی، کے ایم سی اور واٹر کارپوریشن کی نااہلی کے خلاف جائے حادثے پر منعقدہ احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یونی ورسٹی روڈ کے ایم سی کے ذمے، گٹر کے ڈھکن فراہم کرنا واٹر کارپوریشن کی ذمے داری ہے۔ قابض میئر کراچی کو معمولی سی بھی غیرت اور شرم ہے تو وہ فوری استعفا دیں انہیں سانحہ نیپا کی ذمے داری قبول کرنا چاہیے تھی لیکن انہوں نے فوراً جماعت اسلامی کے ٹائون چیئرمین کو سانحہ کا ذمے دار قرار دے دیا۔ انہوں نے وزیراعلیٰ سندھ مرادعلی شاہ اور وزیربلدیات سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر آئندہ گٹر میں کوئی بچہ گرا تو ایف آئی آر واٹر بورڈ اور ایکسین کے خلاف درج کرائی جائے گی۔
بے شک آج کراچی غم زدہ ہے اور لہولہان ہے۔ معصوم بچے اور شہری حکومتی غفلت اور بے حسی کا نشانہ بن رہے ہیں۔ ہر طرف ایک تباہی کا منظر نظر آتا ہے۔ کراچی کو وڈیرہ شاہی جاگیردارانہ ذہنیت کے مطابق چلایا جارہا ہے۔ میئر کراچی نے ایک یوسی کو صرف 25 ڈھکن دیے جبکہ ایک یوسی کو سیکڑوں ڈھکن کی ضرورت ہے۔ سانحہ نیپا حکومتی بے حسی اور کے ایم سی، واٹر کارپوریشن کی مجرمانہ غفلت کی وجہ سے رونما ہوا ہے۔ مرتضیٰ وہاب 106 سڑکوں کے میئر ہیں لیکن کراچی یونیورسٹی سڑک پر ہونے والے واقعے کو وہ ماننے کو تیار نہیں ہیں۔ انتظامیہ کی غفلت سے ایک ماں کی گود اُجڑ گئی ہے۔ ہنستا کھیلتا گھرانہ ماتم کدہ بن گیا ہے۔ ظالموں نے ایک خاندان کی زندگی اجاڑ دی ہے۔ اس طرح کے حادثات حکمرانوں کی بے حسی کا عملی نمونہ ہیں۔ کراچی شہر میں جگہ جگہ گڑھے ہیں، انفرا اسٹرکچر تباہ ہے، سڑکیں ٹوٹی ہوئی ہیں، مسلسل حادثات ہورہے ہیں لیکن بے حس حکمرانوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔ یہ سانحہ شہر میں برسوں سے جاری بدانتظامی اور غفلت کا نتیجہ ہے۔ سندھ حکومت اور میئر؛ کراچی کے شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے میں بری طرح ناکام ہوگئے ہیں۔ اس طرح کھلے مین ہولز میں معصوم بچوں کی ہلاکتیں کراچی کے معصوم بچوں کے لیے مستقل خطرہ کا باعث بن گئی ہیں اور یہ سانحہ اس امر کی عکاسی کرتا ہے شہری نظام حکومت کا کوئی پرسان حال نہیں ہے اور تباہ حال نظام فوری اصلاحات کا متقاضی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت کے ساتھ ساتھ والدین بھی اپنے بچوں کا خیال رکھیں اور اس طرح کے المناک حادثات سے بچائو کے لیے ہر طرح کی احتیاطی تدابیر اختیا ر کی جائیں تاکہ آئندہ اس طرح کا المناک اور دلخراش واقعہ رونما نہ ہوسکے اور کسی ماں کی گود نہ اجڑ چکے۔ حکومت شہر بھر میں تمام خطرناک مقامات کی ہنگامی بنیادوں پر مرمت کرے اور تمام کھلے مین ہولز پر کور رکھے جائیں۔ حکومت اس دلخراش سانحہ کی جامع تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دے اور واقعہ میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔ لواحقین کی فوری طور پر مالی امداد بھی کی جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سانحہ نیپا معصوم بچے کھلے مین کراچی کے کے شہری ہے اور کے لیے
پڑھیں:
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔
صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔
ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔
حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟
مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔