امریکی صدر ٹرمپ بھی کھیل میں سیاست کے شوقین نکلے، فیفا ورلڈ کپ کو متنازع بنانے کی کوشش
اشاعت کی تاریخ: 7th, December 2025 GMT
واشنگٹن(انٹرنیشنل ڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر اپنے متنازعہ انداز میں سیاست کو کھیلوں سے جوڑ دیا، اور اب 2026 کے فیفا ورلڈ کپ کے میزبان شہروں پر نظر رکھی ہے۔
امریکی ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں ٹرمپ کی چیف آف پروٹوکول مونیکا کراؤلی نے بم گرایا کہ صدر بلو شہروں یعنی ڈیموکریٹک پارٹی کے زیر اثر شہروں میں بڑھتی ہوئی جرائم کی شرح سے انتہائی پریشان ہیں اور فیفا کے ساتھ میچز کو منتقل کرنے کی بات چیت جاری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ ان بلو شہروں کی صورتحال پر بہت فکر مند ہیں، جہاں جرائم کی شرح آسمان چھو رہی ہے، اور وہ فیفا سے براہ راست رابطے میں ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا، لیکن ٹرمپ کا بنیادی مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ غیر ملکی سیاحوں اور امریکی مداحوں کی حفاظت کو کوئی خطرہ نہ ہو جب وہ امریکہ میں یہ عالمی سطح کے کھیل دیکھنے آئیں گے۔
واضح رہے کہ ٹرمپ نے ماضی میں بھی ڈیموکریٹک شہروں کو جرائم کا گڑھ قرار دے کر فوج کی تعیناتی کا جواز پیش کیا ہے، حالانکہ سرکاری اعداد و شمار اس کی تردید کرتے ہیں۔ ان کی یہ الزامات اکثر ریاستوں اور مقامی حکام کی قانونی چیلنجز کا شکار ہوئی ہیں۔
واضح بات یہ ہے کہ 2026 ورلڈ کپ کے 11 امریکی میزبان شہروں میں سے صرف ڈالاس اور میامی ریپبلکن پارٹی کے زیر اثر ہیں، جبکہ باقی تمام ایٹلانٹا، بوسٹن، ہوسٹن، کینساس سٹی، لاس اینجلس، نیو جرسی، فلاحیلفیا، سیئٹل اور سان فرانسسکو بے ایریا ڈیموکریٹک لیڈرشپ والے ہیں۔
ٹرمپ نے خاص طور پر بوسٹن، لاس اینجلس اور سیئٹل جیسے شہروں کو نشانہ بنایا ہے جہاں انہوں نے کوئی بھی خطرہ ہونے پر میچز منتقل کرنے کی دھمکی دی ہے۔
فیفا کے صدر جانی انفانٹینو نے ٹرمپ کی ان دھمکیوں پر براہ راست ردعمل نہیں دیا لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ میزبان شہروں کے ساتھ طے شدہ معاہدے قانونی طور پر پختہ ہیں اور ان میں تبدیلی لانا ایک بہت بڑا چیلنج ہوگا۔
یاد رہے کہ ورلڈ کپ کینیڈا اور میکسیکو میں بھی کھیلا جائے گا جو پہلی بار تین ملکی ایونٹ ہوگا، میگا ایونٹس میں 48 ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں جو کو 4،4 کے 12 گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے، گزشتہ رات ایونٹ کے ڈراز کا بھی اعلان کر دیا گیا ہے۔
The stage is set.
— FIFA World Cup (@FIFAWorldCup) December 5, 2025
کراؤلی کے مطابق اب تک 2 ملین سے زائد ٹکٹیں فروخت ہو چکی ہیں، اور ٹرمپ کا یہ اقدام عالمی کھیلوں کی تقریب کو سیاسی دباؤ کا شکار بنا سکتا ہے۔
ڈیموکریٹک رہنماؤں نے اسے انتہائی غیر ذمہ دارانہ قرار دیا ہے جبکہ ٹرمپ کے حامی اسے قومی سلامتی کی ضمانت بتا رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ورلڈ کپ
پڑھیں:
ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
واشنگٹن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 24 جولائی2026ء) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے یورپی یونین جیسے گروپوں اور ممالک سمیت 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی مصنوعات پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے ٹیرف نافذ کر دیئے۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی تجارتی نمائندے جیمی سن گریئر نے بیان میں کہا ہےکہ نئی ڈیوٹیز امریکی تجارتی قانون 1974 کے سیکشن 301 کے تحت نافذ کی گئی ہیں اور ان کا اطلاق امریکی درآمدات کے تقریباً 99.4 فیصد حصے پر ہوگا، تاہم تیل و گیس، کھاد اور بعض غذائی اشیاء سمیت متعدد مصنوعات کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ان ممالک میں یورپی یونین،جاپان، جنوبی کوریا، تائیوان، سوئٹزرلینڈ، کینیڈا، بھارت ، برطانیہ، میکسیکو اور دیگر شامل ہیں۔(جاری ہے)
جیمی سن گریئر نے کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور اس پر سختی سے عمل درآمد کرتا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی ایسے ہی موثر اقدامات کریں۔
امریکا نے ارجنٹائن، بنگلہ دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، ایل سلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو ،سری لنکا، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو سمیت متعدد ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا ہے۔ دوسری جانب یورپی یونین، تائیوان، جاپان، جنوبی کوریا اور سوئٹزرلینڈ پر پہلے سے موجود درآمدی محصولات کو مدنظر رکھتے ہوئے مجموعی ٹیرف 10 یا 12.5 فیصد مقرر کیا گیا ہے جبکہ باقی 38 ممالک پر 12.5 فیصد شرح نافذ کی گئی ہے جن میں چین اور ویتنام بھی شامل ہیں۔ امریکا کے اس اقدام پر متعدد ممالک نے فوری ردِعمل دیتے ہوئے احتجاج کیا۔ یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کاجا کیلس نے کہا کہ یورپی بلاک اس اقدام کو ایک غیر متوقع دھچکا سمجھتا ہے اور امریکا کی جانب سے پیش کی گئی اس کی توجیہ ناقابلِ فہم ہے۔