انڈونیشیا میں قیامت خیز سیلاب: ہلاکتیں 900 سے زائد، بھوک موت بانٹنے لگی
اشاعت کی تاریخ: 7th, December 2025 GMT
انڈونیشیا میں مسلسل بارشوں اور شدید سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے، اور ہلاکتوں کی تعداد 900 سے تجاوز کر گئی ہے۔
ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایجنسی کے مطابق سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ نے ملک بھر میں نقل و حمل کا نظام تباہ کر دیا ہے، جب کہ کئی علاقوں میں خوراک کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے جس کے باعث مزید ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جنوب مشرقی اور جنوبی ایشیاء گزشتہ کئی دنوں سے طوفانوں اور مون سون بارشوں کی لپیٹ میں ہے۔
انڈونیشیا، سری لنکا، ملائیشیا، تھائی لینڈ اور ویتنام میں ایک ہفتے کے دوران مجموعی طور پر 1,790 سے زائد افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
انڈونیشیا کے صوبوں آچے اور شمالی سماٹرا میں سیلاب نے سڑکوں کو بہا دیا، گھر مٹی میں دھنس گئے اور رسد کا نظام مکمل طور پر منقطع ہو گیا ہے۔
آچے کے گورنر مزاکیر مناف کا کہنا ہے کہ دور دراز علاقوں میں امدادی ٹیمیں اب بھی کیچڑ میں دھنسی لاشیں تلاش کر رہی ہیں، لیکن بھوک سب سے بڑا خطرہ بن چکی ہے۔
گورنر کے مطابق آچے تامیانگ کے جنگلاتی اور پہاڑی علاقوں میں پورے کے پورے گاؤں بہہ چکے ہیں، اور بہت سے سب ڈسٹرکٹس صرف نام کی حد تک باقی رہ گئے ہیں۔
سیلاب متاثرین کا کہنا ہے کہ وہ کئی دنوں سے عارضی پناہ گاہوں میں محدود خوراک پر گزارا کر رہے ہیں اور ایک دوسرے کی مدد کے سہارے زندہ ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے آزاد جموں و کشمیر میں ترقیاتی، تعلیمی، صحت، توانائی، مواصلات اور بنیادی ڈھانچے کے مختلف منصوبوں کے لیے 54 ارب 17 کروڑ 37 لاکھ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق جاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے 43 ارب 10 کروڑ 54 لاکھ روپے جبکہ نئے منصوبوں کے لیے 3 ارب 94 کروڑ 45 لاکھ روپے سے زائد فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ آزاد کشمیر بلاک ایلوکیشن کے لیے 33 ارب روپے اور وزیراعظم کے خصوصی ترقیاتی پیکج کے لیے 5 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں تعلیمی شعبے کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ آزاد کشمیر کے چار اضلاع میں دانش سکولوں کے قیام اور توسیع کے منصوبوں کے لیے 6 ارب 27 کروڑ روپے سے زائد فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔ ضلع باغ کے ہاڑی گہل میں دانش سکول کے لیے 2 ارب 14 کروڑ روپے، بھمبر میں 60 کروڑ روپے، وادی نیلم کے شاردا میں ایک ارب 55 کروڑ روپے جبکہ حویلی کہوٹہ میں دانش سکول کے قیام کے لیے 2 ارب 9 کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
توانائی کے شعبے میں جگراں-II ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے ایک ارب 14 کروڑ 94 لاکھ روپے، شاردا-II منصوبے کے لیے 10 کروڑ روپے اور نگدر ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے 30 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ دواریاں ہائیڈرو پاور منصوبہ بھی ترقیاتی پروگرام میں شامل ہے۔
بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کمپلیکس، رٹھوعہ ہریام پل اور نوسیری لیسوا بائی پاس روڈ سمیت متعدد منصوبوں کے لیے فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
صحت کے شعبے میں میرپور، مظفرآباد اور راولاکوٹ کے میڈیکل کالجوں کے انفراسٹرکچر اور سہولیات کی بہتری کے لیے کروڑوں روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ میرپور واٹر سپلائی و سیوریج اسکیم، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور ایل او سی متاثرین کی بحالی کے منصوبوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
دستاویزات کے مطابق آزاد کشمیر میں لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن، آسان خدمت مرکز مظفرآباد، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی استعداد کار میں اضافے اور گورنمنٹ کالجز آف ٹیکنالوجی کے قیام کے منصوبوں کے لیے بھی فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔
حکومت نے آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں تعلیم، صحت، توانائی، سڑکوں کے انفراسٹرکچر اور شہری سہولیات کے منصوبوں کو خصوصی ترجیح دی ہے۔