City 42:
2026-07-24@11:34:24 GMT

عابدشیرعلی پارلیمنٹ مین واپس آگئے

اشاعت کی تاریخ: 8th, December 2025 GMT

سٹی42: پاکستان مسلم لیگ (ن) کے  سابق وزیر پانی و بجلی عابد شیر علی بلامقابلہ سینیٹر منتخب ہوگئے۔ 8  فروری 2024 کے  الیکشن میں قومی امبلی کی نشست پر ہار گئے تھے۔ 

مسلم لیگ نون نے اپنے سینئیر رہنما عرفان صدیقی کے انتقال سے خالی ہونے والی نشست پر عابد شیر علی کو سینیتر بنوانے کا فیصلہ کر کے ان کے کاغذات نامزدگی جمع کروائے تو ان کے مقابل کسی نے کاغذات نامزدگی نہین دیئے۔ کاغذات جمع کروانے کا وقت ختم وہنے کے بعد عابد شیر علی کو بلا مقابلہ منتخب قرار دے دیا گیا۔ ان کے انتخاب کا رسمی نوٹیفیکیشن بعد میں ہو گا۔

ڈولفن سکواڈ کی کارروائی؛ 2مشکوک ملزمان گرفتار ، اسلحہ برآمد

عابد شیر علی سے پہلے مسلم لیگ نون نے فیصل آباد سے ہی آٹھ فروری کا الیکشن ہار جانے والے سینئیر رہنما رانا ثنا للہ کو بھی سینیٹ کی رکنیت دلوا دی تھی۔ رانا ثنا اللہ سینیٹ مین نشست دستیاب ہونے سے پہلے وزیراعظم شہباز شریف کے ساتھ سیاسی مشیر کی حیثیت سے کام کر رہے تھے، وہ ابھی بھی اسی حیثیت سے کام کر رہے ہیں۔ 

آج سینیت کی نشست ملنے کے بعد نسبتاً نوجوان سیاستدان عابد شیر علی کی پارلیمانی سیاست میں واپسی ہوئی ہے۔ وہ پی ٹی آئی کی حکومت کے تمام دورانیہ میں بھی سیاست سے عملا! باہر بیتھ گئے تھے۔ انہوں نے کچھ عرصہ انگلینڈ مین بھی گزارا جب انہین پی ٹی آئی کی انتْامی کارروائی کا زیادہ خطرہ تھا۔

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا امکان

مسلم لیگ نون کے رہنماؤں نے آج عابد شیر علی کے بلامقابلہ انتخاب کو عرفان صدیقی کے انتقال کی صورت میں نمایاں نقصان کے بعد سینیٹ میں مسلم لیگ ن کی سیاست کو آگے بڑھانے کے لئے بہتر قرار دیا۔

معروف مصنف، کالم نگار، ماہر تعلیم اور تجربہ کار سیاست دان سینیٹر عرفان صدیقی رواں ماہ کے شروع میں سانس کی تکلیف میں مبتلا ہونے کے بعد انتقال کر گئے تھے۔ عرفان صدیقی  پاکستان مسلم لیگ نون  کی ایک ممتاز دانشور آواز تصور کئے جاتے تھے۔انہوں نے سابق  وزیر اعظم  نواز شریف کے معاون خصوصی برائے قومی امور کے طور پر خدمات انجام دیں اور ادب اور صحافت کے لیے ان کی خدمات پر انہیں ہلال امتیاز سے نوازا گیا۔

پیپلز پارٹی کے رہنما حسن مرتضیٰ کے والد انتقال کر گئے

2021 میں سینیٹ کے لیے منتخب ہونے والے، عرفان صدیقی ایوان بالا میں مسلم لیگ ن کے پارلیمانی لیڈر کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے اور سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خارجہ امور کی سربراہی کر رہے تھے۔  ان کی فصاحت، بلاغت اور اصولی سیاسی موقف کی وجہ سے ان کا بڑے پیمانے پر احترام کیا جاتا تھا۔

 ان کی نشست خالی قرار دے دی گئی جس سے ضمنی انتخاب ہوا جس میں اب عابد شیر علی منتخب ہو گئے ہیں۔

سندھ ہائی کورٹ؛ موسم سرما کی تعطیلات کا نوٹیفکیشن جاری

آج  بلامقابلہ کامیابی کے ساتھ، توقع ہے کہ شیر علی آنے والے دنوں میں سینیٹ کے فلور پر اپنے پرانے تند انداز سے مخالفوں خصوصاً پی ٹی آئی پر طنز کے نشتر چلاتے نطر آئیں گے۔

Waseem Azmet.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: عابد شیر علی مسلم لیگ نون عرفان صدیقی کے بعد

پڑھیں:

ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی

امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔

میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔

ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔

تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔

اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔

ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔

گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔

مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • اغوا برائے تاوان کیس: پولیس نے منیب بٹ کو بے گناہ قرار دیا، ضمانت واپس لینے کی درخواست
  • تاریخی لارڈز کرکٹ گراؤنڈ سے ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے فائنل کی میزبانی واپس لے لی گئی
  • آزاد کشمیر میں سیاسی سرگرمیاں تیز، نواز شریف آج میرپور میں جلسے سے خطاب کریں گے
  • مقبوضہ کشمیر میں حالاے نشل کشی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں، رُکن برطانوی پارلیمنٹ
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، بحیرۂ احمر سے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا اعلان
  • ’حکومت مان گئی‘ پٹرول ڈیلرز نے 15 روز کے لیے ملک گیر ہڑتال کی کال واپس لے لی
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پارٹی‘ مرکزی مسلم لیگ‘ جموں کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کا اتحاد 
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی