اسلام آباد:

ملک بھر میں پانی کی شدید قلت سے متعلق وزارت آبی وسائل نے تفصیلی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش کر دی جس میں ملک میں تیزی سے بڑھتی آبادی کے باعث پانی کی دستیابی میں نمایاں کمی کا انکشاف کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق 2017 سے 2023 تک پاکستان کی آبادی میں چار کروڑ افراد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے نتیجے میں سالانہ فی کس پانی کی دستیابی میں 154 کیوبک میٹر کمی واقع ہوئی۔ وزارت نے خبردار کیا کہ اگر موجودہ رفتار برقرار رہی تو 2030 تک پاکستان کی آبادی 28 کروڑ 80 لاکھ تک پہنچ سکتی ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ آبادی میں اضافے کے باعث 2030 میں سالانہ فی کس پانی کی دستیابی مزید کم ہوکر 795 کیوبک میٹر تک رہ جانے کا اندیشہ ہے جو ملک کے لیے سنگین پانی بحران کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

صوبوں کے اعدادوشمار بھی رپورٹ میں شامل کیے گئے جن کے مطابق خیبر پختونخوا میں سالانہ فی کس پانی کی دستیابی کم ہوکر 679 کیوبک میٹر رہ گئی ہے۔ پنجاب میں یہ مقدار 760 کیوبک میٹر، سندھ میں 1169 کیوبک میٹر جبکہ بلوچستان میں فی کس دستیابی 928 کیوبک میٹر ریکارڈ کی گئی ہے۔

وزارت آبی وسائل نے رپورٹ میں تجویز کیا کہ ملک بھر میں پانی کے ذخائر میں اضافے، مؤثر انتظام اور آبادی میں غیر معمولی اضافے کو کنٹرول کرنے کے لیے ہنگامی اقدامات کی ضرورت ہے، ورنہ پانی کا بحران آنے والے برسوں میں سنگین صورت اختیار کر سکتا ہے۔

Tagsپاکستان.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل پانی کی دستیابی کیوبک میٹر

پڑھیں:

عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ

اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔

تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔

ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔

تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔

پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟

توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کی فور اسٹار جنرل کے عہدے پر ترقی، کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ مقرر کردیا گیا
  • عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں کمی
  • قومی انڈر-18 ٹیم نے ہاکی فائیو اے سائیڈ ورلڈ کپ کیلیے کوالیفائی کرلیا
  • سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ
  • سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے ہوگیا
  • خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن