پاکستان بحران سے نکل آیا‘ معاشی اشاریے بہتر ہو چکے ‘وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 14th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251214-08-31
لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان بحران سے نکل آیا ہے، ہمارے معاشی اشاریے بہتر ہو چکے ہیں۔نیشنل ریگولیٹری ریفارمز کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ریگولیٹری اصلاحات کے اجرا کی تقریب میں شرکت پر خوشی ہے، اصلاحات کا مطالبہ عوام اور کاروباری طبقے کی گزشتہ کئی دہائیوں سے خواہش تھی۔وزیراعظم نے بتایا کہ کاروباری برادری، سرمایہ کار پیچیدہ قوانین اور غیر ضروری ضوابط سے پریشان تھے، حکومت سنبھالی تو پاکستانی معیشت نازک صورتحال سے دوچار تھی، ملک عملی طور پر مالی دیوالیہ پن کے دہانے پر کھڑا تھا۔انہوں نے بتایا کہ مہنگائی بے قابو تھی، پالیسی ریٹ معیشت کو مفلوج کرچکا تھا، ملک میں کاروباری سرگرمیاں جمود کا شکار تھیں، ہماری حکومت نے بہترین حکمت عملی کے ساتھ چیلنجز کا مقابلہ کیا۔وزیراعظم نے کہا کہ اللہ کا شکر ہے کہ آئی ایم ایف نے پاکستان کے لیے 1.
اسلام آباد:وزیراعظم شہباز شریف نیشنل ریگولیٹری ریفارمز تقریب کا افتتاح کررہے ہیں
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
نیویارک:اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال تیزی سے قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور پورا خطہ ایک ایسے خطرناک موڑ پر پہنچ چکا ہے جس کے نتائج ناقابلِ تصور ہو سکتے ہیں۔
سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انتونیو گوتریس نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ ناقابلِ تصور تباہی کے کنارے پر کھڑا ہے اور خطہ مسلسل وسیع ہوتے ہوئے تصادم کے دائرے میں کھنچتا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہو رہی ہے ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے جبکہ ہر روز نئی کشیدگی مزید خطرناک حالات پیدا کر رہی ہے۔
اقوامِ متحدہ کے سربراہ کے مطابق جیسے جیسے تنازع پھیل رہا ہے ویسے ویسے سیاسی مقاصد پس منظر میں چلے جا رہے ہیں اور تصادم خود ہی ایک مستقل بحران کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔
انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ مزید کشیدگی کو روکنے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں کیونکہ موجودہ حالات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی امن کے لیے بھی سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔