جرمنی کا افغان پناہ گزین پروگرام فوری ختم کرنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 15th, December 2025 GMT
میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ افغان طالبان کی شدت پسندانہ پالیسیوں نے عالمی برادری کو افغانستان کے ساتھ سفارتی تعلقات محدود کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ جرمنی کی حکومت نے افغان پناہ گزین پروگرام فوری ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق جرمنی نے فیصلہ افغان مہاجرین کے جرائم میں ملوث ہونے اور سنگین سکیورٹی خطرات کے باعث کیا۔ جرمن میڈیا کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ جرمنی نے 640 افغان پناہ گزینوں کو ملک میں داخلے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ جرمن وزارت داخلہ کے مطابق جرمنی آنے کے منتظر افغان مہاجرین کے داخلے کے امکانات ختم ہوچکے ہیں۔
میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ افغان طالبان کی شدت پسندانہ پالیسیوں نے عالمی برادری کو افغانستان کے ساتھ سفارتی تعلقات محدود کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ عرب میڈیا کی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ 2024ء میں جرمنی نے 28 جبکہ 2025ء میں 81 مجرمانہ کارروائیوں پر افغان باشندوں کو ملک بدر کیا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کر دیا
پڑھیں:
علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
ملاقات میں امتِ مسلمہ کے اتحاد، موجودہ حالات میں قومی و ملی ذمہ داریوں اور پروگرام کی تیاری و اہداف پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ مزید برآں علامہ سید جواد نقوی نے 13 جون مینارِ پاکستان ’’شہیدِ اُمت کانفرنس‘‘ میں شرکت اور تعاون کی دعوت بھی پیش کی اور اس پروگرام کو ملتِ اسلامیہ کے اتحاد، بیداری اور استقامت کا اہم ذریعہ قرار دیا۔ اسلام ٹائمز۔ تحریک بیداری امت مصطفیٰ کے سربراہ اور اتحاد امت فورم کے رہنما علامہ سید جواد نقوی نے شیعہ علماء کونسل پاکستان کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی صاحب سے ملاقات کی اور ان کی اہلیہ کے انتقال پر تعزیت و تسلیت، فاتحہ خوانی اور دعائے مغفرت کی۔ علامہ سید جواد نقوی نے علامہ سید ساجد علی نقوی کیساتھ 13 جون کو مینارِ پاکستان لاہور میں منعقد ہونے والی ’’شہیدِ اُمت کانفرنس‘‘ کے حوالے سے بھی گفتگو کی۔ ملاقات میں امتِ مسلمہ کے اتحاد، موجودہ حالات میں قومی و ملی ذمہ داریوں اور پروگرام کی تیاری و اہداف پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ مزید برآں علامہ سید جواد نقوی نے 13 جون مینارِ پاکستان ’’شہیدِ اُمت کانفرنس‘‘ میں شرکت اور تعاون کی دعوت بھی پیش کی اور اس پروگرام کو ملتِ اسلامیہ کے اتحاد، بیداری اور استقامت کا اہم ذریعہ قرار دیا۔