اسلام آباد سیف سٹی کو کیپٹل سمارٹ سٹی بنانے کا جامع پلان طلب
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
اسلام آباد (اپنے سٹاف رپورٹر سے) وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ پاکستان کا پہلا شہر اسلام آباد ''کیپٹل سمارٹ سٹی'' بنے گا۔ یکم جنوری سے اسلام آباد میں بغیر ایم ٹیگ گاڑیوں کے داخلے پر پابندی ہوگی۔ محسن نقوی نے اسلام آباد سیف سٹی کو کیپٹل سمارٹ سٹی بنانے کا جامع پلان طلب کر لیا۔ محسن نقوی اور طلال چوہدری نے سیف سٹی ہیڈکوارٹرز کا دورہ کیا۔ وزیر داخلہ نے ڈیجیٹل وال پر اسلام آباد شہر کی مانیٹرنگ کے نظام کا جائزہ لیا اورجدید ٹیکنالوجی کے ذریعے امن عامہ کے اقدامات کا مشاہدہ کیا۔ محسن نقوی نے کنٹرول روم میں سپیشل چائنیز ڈیسک پر سکیورٹی سرویلنس کا معائنہ کیا۔ محسن نقوی کی زیرصدارت اہم اجلاس میں انہوں نے شہریوں کے جان ومال کے تحفظ کے اقدامات کا جائزہ لیا۔ 1122، ٹریفک، سکیورٹی اور سی ڈی ایم اے کو مرکزی نظام میں ضم کیا جائے گا۔ کیپٹل سمارٹ سٹی کے سکوپ اور دائرہ کار کو پورے ملک تک بڑھایا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: کیپٹل سمارٹ سٹی اسلام آباد محسن نقوی
پڑھیں:
دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن(Establishment Division) نے دفتری نظم و ضبط اور پیشہ ورانہ ماحول کو بہتر بنانے کے لیے نیا سرکلر جاری کرتے ہوئے تمام افسران اور اہلکاروں کو مقررہ دفتری اوقات، بائیومیٹرک حاضری اور لباس کے ضوابط پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔
جاری کردہ سرکلر کے مطابق تمام ملازمین کے لیے صبح 8 بجے سے شام 4 بجے تک کے سرکاری اوقاتِ کار پر مکمل عمل درآمد لازمی ہوگا، جبکہ مقررہ وقت پر دفاتر میں حاضری یقینی بنانے کے لیے بائیومیٹرک حاضری کے نظام پر سختی سے عمل کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
سرکلر میں سرکاری ملازمین کے لیے ڈریس کوڈ بھی واضح کیا گیا ہے۔ ہدایات کے مطابق افسران اور اہلکار یا تو لاؤنج سوٹ پہنیں یا پھر شلوار قمیض کے ساتھ ویسٹ کوٹ زیب تن کریں تاکہ دفاتر میں پیشہ ورانہ اور باوقار ماحول برقرار رکھا جا سکے۔
مزیدپڑھیں:آج کہاں کہاں بادل برسیں گے ،محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کردی
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے دفتری ماحول کو بہتر بنانے کے لیے راہداریوں میں شور شرابے اور بلند آواز میں گفتگو سے بھی گریز کرنے کی ہدایت کی ہے، تاکہ سرکاری امور کی انجام دہی کے دوران پرسکون اور منظم ماحول برقرار رہے۔
سرکلر میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ تمام ہدایات فوری طور پر نافذ العمل ہیں اور متعلقہ افسران کو ان پر مکمل عمل درآمد یقینی بنانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔