پاکستان تحریک انصاف وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے لاہور کے دورے کو انتہائی کامیاب قرار دے رہی ہے، جس کے دوران وہ پارٹی قیادت اور جیل میں قید رہنماؤں کے اہلِ خانہ سے ملاقاتیں کرتے رہے۔

ترجمان خیبر پختونخوا شفیع اللہ جان کے مطابق سہیل آفریدی نے لاہور کی رونقیں بحال کیں اور مبینہ رکاوٹوں اور سختی کے باوجود بڑی تعداد میں ورکرز نکلے اور جگہ جگہ ان کا استقبال کیا۔ ان کے مطابق موٹروے پر بھی ورکرز سہیل آفریدی کے استقبال کے لیے نکلے۔

سہیل آفریدی کا اچانک لاہور کے دورے کا مقصد کیا تھا؟

ترجمان خیبر پختونخوا شفیع اللہ جان کے مطابق سہیل آفریدی کا لاہور کا دورہ سیاسی تھا، جس میں کارکنان سے ملاقاتیں ہوئیں اور قیادت سے مشاورت کی گئی۔ ایک سوال پر انہوں نے بتایا کہ وہ بھی پاکستانی ہیں اور پنجاب سمیت کسی بھی صوبے میں جا سکتے ہیں۔

عمر دراز گوندل، لاہور کے نوجوان صحافی و تجزیہ کار، نے وی نیوز کو بتایا کہ سہیل آفریدی کو لاہور لانے کا مقصد سیاسی تھا اور پارٹی لاہور میں اپنی موجودہ پوزیشن جانچنا چاہتی تھی۔

یہ بھی پڑھیے سہیل آفریدی لاہور کیا کرنے گئے تھے؟

عمر دراز نے بتایا کہ پی ٹی آئی دیکھنا چاہتی تھی کہ اس وقت لاہور میں پارٹی کی کیا پوزیشن ہے اور کیا سہیل آفریدی کے لیے ورکرز نکلتے بھی ہیں یا نہیں۔

’یہ دورہ ایک سیاسی پتّا تھا جس کے ذریعے معلوم کرنا تھا کہ کیا مستقبل میں سہیل آفریدی کو پوسٹر بوائے کے طور پر میدان میں اتارا جا سکتا ہے یا نہیں۔‘

پشاور کے سینئر صحافی علی اکبر کا بھی یہی خیال ہے۔ ان کے مطابق پنجاب میں قیادت کے روپوش ہونے سے ورکرز میں مایوسی تھی اور سہیل آفریدی کے دورے کا مقصد اس مایوسی کو دور کرنا اور ورکرز کو دوبارہ فعال کرنا تھا۔

سہیل آفریدی کا دورہ لاہور کتنا کامیاب رہا؟

سینئر صحافی علی اکبر کے مطابق موجودہ حالات میں سہیل آفریدی کا لاہور پہنچنا معمولی بات نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس دورے سے پی ٹی آئی کو مستقبل میں فائدہ پہنچے گا اور سہیل آفریدی کا سیاسی قد بھی غیر معمولی طور پر بڑھ گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ایک ایسے وقت میں سہیل آفریدی نے لاہور کا 3 روزہ دورہ کیا جب پنجاب کے اہم پارٹی رہنما یا تو قید میں ہیں یا روپوش۔ ان کے مطابق پنجاب میں پی ٹی آئی کی سیاسی سرگرمیاں تقریباً ختم ہو چکی تھیں اور ورکرز نکلنا چاہتے تھے مگر قیادت موجود نہیں تھی۔

’میں سمجھتا ہوں کہ سہیل آفریدی کا دورہ اس تناظر میں کامیاب رہا کہ انہوں نے ورکرز کو یہ احساس دلایا کہ وہ اکیلے نہیں ہیں، اور ورکرز نے بھی بھرپور انداز میں ساتھ دیا۔‘

ان کے مطابق اس دورے سے پی ٹی آئی کو اندازہ ہو گیا ہے کہ اگر لاہور میں سیاسی سرگرمیاں شروع کی جائیں تو ورکرز نکلنے کے لیے تیار ہیں۔

یہ بھی پڑھیے بھرپور احتجاج میں ناکامی، کیا پی ٹی آئی صرف خیبرپختونخوا کی جماعت بن کر رہ گئی ہے؟

لاہور کے نوجوان صحافی عمر دراز گوندل، جنہوں نے اس دورے کی کوریج کی، کے مطابق دورہ کامیاب رہا اور جس مقصد کے لیے سہیل آفریدی لاہور آئے تھے وہ حاصل ہو گیا۔

’سہیل آفریدی کا جگہ جگہ استقبال کیا گیا، گرفتاری اور کارروائی کے خوف کے باوجود لوگ نکلے۔‘

انہوں نے بتایا کہ جس طرح لاہور کو بند کیا گیا اور جہاں جہاں سہیل آفریدی گئے وہاں رکاوٹیں ڈالی گئیں، اس سے ہی دورے کی کامیابی کا اندازہ ہوتا ہے۔ ان کے مطابق سہیل آفریدی کی آمد پر مشہور لبرٹی مارکیٹ بھی بند کی گئی۔

’اتنی سختی اور رکاوٹوں کے باوجود لوگ نکلے، مختلف علاقوں میں گئے اور قیادت سے ملے۔‘

کیا اب پنجاب سے ورکرز نکلیں گے؟

خیبر پختونخوا کے پارٹی رہنماؤں کا شروع دن سے موقف ہے کہ احتجاجی تحریکوں کے دوران پنجاب سے ورکرز نہیں نکلتے اور خیبر پختونخوا ہی فرنٹ لائن پر ہوتا ہے، لیکن عمر دراز گوندل اس سے اتفاق نہیں کرتے۔

ان کے مطابق خیبر پختونخوا اور پنجاب کا موازنہ درست نہیں کیونکہ پی ٹی آئی کے خلاف سب سے زیادہ کیسز پنجاب میں درج ہوئے ہیں، جبکہ خیبر پختونخوا میں پارٹی کی حکومت ہے، اس لیے وہاں جلسے، جلوس اور احتجاج نسبتاً آسان ہیں۔

’پی ٹی آئی کی احتجاجی تحریکوں کی کامیابی کا انحصار پنجاب پر ہی ہے اور اس کا کردار نہایت اہم ہے۔‘

ان کے مطابق سہیل آفریدی کے دورے کے بعد پنجاب کے ورکرز فعال ہو گئے ہیں جس کا مستقبل میں پارٹی کو فائدہ ہوگا۔

سینئر صحافی علی اکبر کے مطابق پنجاب میں پی ٹی آئی کا ووٹ بینک موجود ہے، ورکرز ناراض تھے مگر اب دوبارہ سرگرم ہو رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: وزیراعلی خیبر پختونخوا سہیل ا فریدی ان کے مطابق سہیل آفریدی سہیل آفریدی کا سہیل آفریدی کے خیبر پختونخوا نے بتایا کہ پی ٹی آئی انہوں نے لاہور کے کے دورے کا دورہ کے لیے

پڑھیں:

پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔

لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔

(جاری ہے)

رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔

حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے ؛ سہیل آفریدی
  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • بانی سے ملاقات تک خیبرپختونخوا کا بجٹ پاس نہ کیا جائے، علیمہ خان کی سہیل آفریدی کو تنبیہ
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے بجٹ پاس کرنےکی بات کی تو علیمہ خان نے ٹوک دیا
  • ہمیں پتہ ہے یہ ڈرے ہوئے ہیں، ہمارا فوکس بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہے، علیمہ خان
  • راولپنڈی: سہیل آفریدی کے قافلے کو پولیس نے فیکٹری ناکے پر روک دیا
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور