متحدہ عرب امارات کا یمن میں ملٹری آپریشن بند اور اپنے فوجی واپس بلانے کا اعلان WhatsAppFacebookTwitter 0 30 December, 2025 سب نیوز

ابو ظہبی (سب نیوز)سعودی عرب کے سخت ردعمل کے بعد متحدہ عرب امارات نے یمن میں اپنی باقی ماندہ انسدادِ دہشت گردی کارروائیاں ختم کرنے کا اعلان کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع کے بیان میں کہا گیا ہے کہ انسدادِ دہشت گردی یونٹس کی واپسی رضاکارانہ بنیادوں پر اور شراکت داروں کے ساتھ مکمل رابطے اور تعاون سے عمل میں لائی جائے گی۔وزارت دفاع کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اس کی بنیادی وجہ وہاں موجود اہلکاروں کی حفاظت اور سلامتی کو ممکن بنانا ہے۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ حالیہ پیش رفت اور سیکیورٹی خدشات کے تناظر میں ایک جامع جائزے کے بعد کیا گیا۔
اماراتی وزارت دفاع کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یمن میں متحدہ عرب امارات کی براہِ راست فوجی موجودگی بھی پہلے ہی 2019 میں ختم ہوچکی تھی۔اماراتی وزارت دفاع کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ اقدام خطے میں امن و استحکام کے لیے یو اے ای کے دیرینہ عزم کے مطابق ہے۔وزارت دفاع کے بیان میں واضح کیا گیا کہ یو اے ای 2015 سے عرب اتحاد کے تحت یمن میں قانونی حکومت کی حمایت کرتا رہا ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ 2019 میں طے شدہ اہداف مکمل ہونے کے بعد اپنی فوجی موجودگی ختم کرنے کے بعد سے صرف محدود اور خصوصی ٹیمیں انسدادِ دہشت گردی کے لیے موجود تھیں، جو اب واپس بلائی جا رہی ہیں۔متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع کے بیان میں کہا گیا ہے کہ یو اے ای کے بیٹوں نے یمن میں امن اور استحکام کے مقاصد کے حصول کے لیے بڑی قربانیاں دی ہیں۔
خیال رہے کہ متحدہ عرب امارات کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب سعودی عرب نے یمن کی بندرگاہ پر مبینہ اسلحہ بردار گاڑیوں کو نشانہ بنایا۔سعودی عرب نے موقف اختیار کیا کہ متحدہ عرب امارات یمن کے جنوبی علاقے میں علیحدگی پسندوں کو اسلحہ اور مالی تعاون فراہم کر رہے ہے۔تاہم متحدہ عرب امارات نے سعودی عرب کے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اس بیان کو مایوس کن قرار دیا تھا۔اس سے قبل یمن کی بین الااقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے حکمراں نے بھی متحدہ عرب امارات کو 24 گھنٹوں کے اندر یمن چھوڑنے کا کہا تھا۔
سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات 2015 میں یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف ایک ہی عرب اتحاد کا حصہ بنے تھے تاہم وقت گزرنے کے ساتھ دونوں ممالک کی ترجیحات مختلف ہوتی چلی گئیں۔سعودی عرب یمن کی وحدت، مرکزی حکومت اور سیاسی حل پر زور دیتا رہا ہے جب کہ یو اے ای نے جنوبی یمن میں سیکیورٹی، بندرگاہوں اور انسدادِ دہشت گردی پر توجہ مرکوز رکھی اور سدرن ٹرانزیشنل کونسل سے قربت اختیار کی۔2019میں یو اے ای کی فوجی واپسی کے بعد یہ اختلافات کھل کر سامنے آئے تھے جبکہ حالیہ مکلا واقعے اور بیانات نے دونوں اتحادیوں کے درمیان تنا کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرسہیل آفریدی کا دورہ لاہور، سپیکر کے پی کا سپیکر پنجاب اسمبلی کوخط، احتجاج ریکارڈ کرایا سہیل آفریدی کا دورہ لاہور، سپیکر کے پی کا سپیکر پنجاب اسمبلی کوخط، احتجاج ریکارڈ کرایا وزیراعظم کی یو اے ای کے صدر سے ملاقات ، یمن تنازع پر سعودی عرب اور امارات میں کشیدگی ختم کرانے کیلئے کردار ادا.

.. دھوکا دہی پر مبنی تشہیر ،کمپٹیشن کمیشن نے کنگڈم ویلی پر 15کروڑ روپے جرمانہ عائد کر دیا سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس کی یونیورسٹی کو کالعدم ٹی ٹی پی کے خوارج کی جانب سے دھمکی موصول طویل انتظار کے بعد بارشیں برسانے والا نظام ملک میں داخل چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا کی زیر صدارت بورڈ کا اٹھارہواں اجلاس ،ماڈل قبرستانوں کی تعمیر کیلئے مقامات مختص کرنے کی منظوری TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: متحدہ عرب امارات

پڑھیں:

نام نہاد جنگ بندی بے اثر، غزہ میں شہریوں کی ہلاکتیں جاری: انتونیو گوتریس

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے غزہ میں جاری انسانی بحران پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد جنگ بندی کے باوجود عام شہری مسلسل جانیں گنوا رہے ہیں، اس لیے غزہ کے عوام کی طویل اذیت کا خاتمہ ناگزیر ہو چکا ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا ہے کہ غزہ میں جاری طویل انسانی المیے کا خاتمہ ہونا چاہیے، کیونکہ نام نہاد جنگ بندی کے باوجود وہاں کے شہری آج بھی ہر روز بھاری قیمت ادا کر رہے ہیں۔

Despite the so-called ceasefire in Gaza, civilians continue to pay a heavy price every day.

People are being killed in their homes, in their communities, and while carrying out ordinary acts of daily life – as Israel increases its control of Gaza.

Living conditions remain…

— António Guterres (@antonioguterres) July 23, 2026

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں انتونیو گوتریس نے کہا، غزہ میں نام نہاد جنگ بندی کے باوجود عام شہری روزانہ شدید نقصان اٹھا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے غزہ پر اپنا کنٹرول مزید مضبوط کیے جانے کے دوران لوگ اپنے گھروں، اپنی آبادیوں اور روزمرہ زندگی کے معمولات انجام دیتے ہوئے بھی ہلاک ہو رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے اقوام متحدہ غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ کرنے میں ناکام رہی، پاکستان

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے زور دیا کہ غزہ کے عوام کی مسلسل اور طویل تکالیف کا خاتمہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جانا چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • آپریشن العزم: سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کامیاب کارروائی، 4 دہشتگرد جہنم واصل
  • اقوام متحدہ کی قیادت کس کے ہاتھ آئے گی؟ 4 خواتین اور 2 مرد دوڑ میں شامل
  • وزیراعظم کا لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کو فور سٹار جنرل کے عہدے پر ترقی دینے، کمانڈر نیشنل سٹرٹیجک کمانڈ مقرر کرنے کا اعلان
  • آپریشن سندور کی ناکامی پر بھارتی حکومت کا بیانیہ اپنے ہی شہریوں نے زمین بوس کر دیا 
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، بحیرۂ احمر سے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا اعلان
  • ’حکومت مان گئی‘ پٹرول ڈیلرز نے 15 روز کے لیے ملک گیر ہڑتال کی کال واپس لے لی
  • نام نہاد جنگ بندی بے اثر، غزہ میں شہریوں کی ہلاکتیں جاری: انتونیو گوتریس
  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن