بابر سلیم سواتی نے ملک احمد خان کو احتجاج خط بھیج دیا
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
خیبر پختونخوا اسمبلی کے اسپیکر بابر سلیم سواتی نے پنجاب اسمبلی کے اسپیکر ملک احمد خان کو احتجاجی خط ارسال کیا ہے۔
خط میں پنجاب اسمبلی کے دورے کے دوران پیش آنے والے افسوسناک واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کو مل کر مذمت اور سدباب کرنے کی دعوت دیدی۔
خط میں کہا گیا ہے کہ وزیرِاعلیٰ خیبر پختونخوا کی سربراہی میں آنے والے وفد کو پنجاب اسمبلی میں غیر پیشہ ورانہ رویے اور غیر ضروری رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا، جو پارلیمانی روایات کے منافی ہے۔
اسپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی نے خط میں کہا کہ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی اور ان کے وفد کے اراکین کو بار بار سیکیورٹی چیک، جارحانہ سوالات اور جسمانی روک تھام جیسے حالات کا سامنا کرنا پڑا، جو کسی بھی جمہوری اور مہذب نظام میں ناقابل قبول ہے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ پنجاب حکومت اخلاقی و ذہنی پستی کی شکار، رویہ غیر جمہوری اورقابل مذمت ہے۔
خط میں اس امر پر بھی تشویش ظاہر کی گئی کہ سیکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے بعض اراکین کو دھکے دیے گئے اور نامناسب رویہ اختیار کیا گیا، جس سے پارلیمانی وقار مجروح ہوا۔
اسپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ کچھ افراد نے خود کو صحافی ظاہر کرتے ہوئے ماحول کو کشیدہ بنانے کی کوشش کی، جس سے سرکاری دورے کی سنجیدگی متاثر ہوئی۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبائی اسمبلیاں آئینی ادارے ہیں اور ان کے درمیان روابط باہمی احترام، تحمل اور پارلیمانی آداب کے تحت ہونے چاہئیں۔
خط میں مطالبہ کیا گیا کہ اس واقعے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کی جائیں، ذمے دار عناصر کا تعین کیا جائے اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے واضح ہدایات جاری کی جائیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر اس نوعیت کے واقعات کو نظرانداز کیا گیا تو یہ بین الصوبائی ہم آہنگی اور وفاقی تعاون کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: خیبر پختونخوا سہیل ا فریدی
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔