جھنگ: ویٹرنری یونیورسٹی کی بس اور ویگن میں آپس میں ٹکرا گئیں، 9 افراد جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
پنجاب کے ضلع جھنگ کے علاقے قلی فقیر کے قریب ویٹرنری یونیورسٹی کی بس اور ایک ویگن کے درمیان شدید تصادم کے نتیجے میں 9 افراد جان کی بازی ہار گئے۔
مزید پڑھیں: چاغی: ریکوڈک پروجیکٹ سائٹ روڈ پر خوفناک ٹریفک حادثہ، 11 افراد جاں بحق، 6 زخمی
ریسکیو حکام کے مطابق ویٹرنری یونیورسٹی کی بس لاہور کی جانب رواں دواں تھی کہ مخالف سمت سے آنے والی ویگن اس سے ٹکرا گئی۔
بتایا گیا ہے کہ ویگن ڈرائیور ٹریکٹر ٹرالی کو اوورٹیک کرنے کی کوشش کررہا تھا جس دوران یہ حادثہ پیش آیا۔
حادثے کے نتیجے میں 11 افراد زخمی بھی ہوئے جنہیں ریسکیو ٹیموں نے موقع پر ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد ڈی ایچ کیو اسپتال منتقل کر دیا۔ زخمیوں میں بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
ریسکیو ذرائع کا کہنا ہے کہ جاں بحق افراد میں مردوں کے ساتھ خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی ڈی پی او جھنگ کیپٹن (ر) بلال افتخار کیانی اور ڈپٹی کمشنر علی اکبر بھنڈر جائے حادثہ پر پہنچ گئے۔
مزید پڑھیں: اوور اسپیڈنگ اور غفلت، اسلام آباد میں ایک اور ٹریفک حادثہ
حکام نے حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے شواہد اکٹھے کرتے ہوئے تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews تصادم جاں بحق جھنگ وی نیوز ویٹرنری یونیورسٹی ویگن.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: وی نیوز ویٹرنری یونیورسٹی ویگن ویٹرنری یونیورسٹی
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔