پنجاب میں زبانی اور سادہ تحریر کے ذریعے لین دین پر پابندی عائد
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
پنجاب حکومت نے زمین کے لین دین کے نظام میں شفافیت اور قانونی تقاضوں کو یقینی بنانے کے لیے اہم تبدیلیاں متعارف کراتے ہوئے نیا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے تحت صوبے بھر میں زبانی لین دین کی بنیاد پر زمین کی فرد نکلوانے یا انتقال درج کرانے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: لاہور ہائیکورٹ: پنجاب پراپرٹی اونرشپ آرڈیننس پر عملدرآمد روک دیا، چیف جسٹس کے سخت ریمارکس
حکومتی نوٹیفکیشن کے مطابق اب پنجاب میں زمین کا انتقال صرف اور صرف رجسٹرڈ دستاویزات کی بنیاد پر ہی ممکن ہوگا، جبکہ سادہ تحریر یا غیر رجسٹرڈ معاہدوں کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہوگی۔ اس فیصلے کا اطلاق خرید و فروخت، رہن، تبادلہ اور ہبہ جیسے تمام لین دین پر ہوگا، جن کے لیے رجسٹرڈ کاغذات لازمی قرار دیے گئے ہیں۔
نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ غیر رجسٹرڈ معاہدے یا سٹامپ پیپر پر انتقال درج نہیں کیا جا سکے گا۔ تاہم، وراثتی انتقال کو اس پابندی سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے، اور وراثت کے کیسز میں سابقہ طریقہ کار کے تحت انتقال ممکن ہوگا۔
اس اقدام کا مقصد زمینوں کے ریکارڈ میں جعلسازی، تنازعات اور غیر قانونی قبضوں کی حوصلہ شکنی کرنا ہے، تاکہ شہریوں کے حقوق کا تحفظ کیا جا سکے اور لینڈ ریکارڈ کا نظام مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پنجاب حکومت رجسٹریشن لین دین معاہدے.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پنجاب حکومت لین دین معاہدے لین دین
پڑھیں:
امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
نیویارک(نیوز ڈیسک)امریکہ نے “جبری مشقت سے متعلق خدشات کے پیش نظر” پاکستان، بھارت، چین اور یورپی یونین سمیت 60 تجارتی شراکت دار ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر کے مطابق ان برآمدی محصولات (ٹیرف) کی شرح 10 فیصد سے لے کر 12.5 فیصد تک ہوگی اور یہ جمعہ یعنی آج سے نافذ العمل ہوں گے۔
Today, Ambassador Greer is taking action, at President Trump’s direction, under Section 301 of the Trade Act of 1974 by imposing tariffs on 60 trading partners for their failure to adopt and effectively enforce a prohibition on the importation of goods produced with forced labor.…
— United States Trade Representative (@USTradeRep) July 23, 2026
انہوں نے کہا کہ امریکہ میں جبری مشقت کے خلاف قوانین طویل عرصے سے نافذ ہیں اور اب وقت آ گیا ہے کہ دیگر ممالک بھی اسی طرز کے اقدامات کریں۔
یہ نئے محصولات اس عالمی ڈیوٹی کی جگہ لیں گے جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے رواں سال کے آغاز میں عائد کی گئی تھی اور جس کی مدت اب ختم ہو رہی ہے۔ امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے فروری میں بعض ٹیرف مسترد کیے جانے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے متبادل قانونی راستوں کے ذریعے نئے اقدامات متعارف کروائے ہیں۔
امریکہ کے تجارتی نمائندوں کے دفتر کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا اور ملائیشیا سمیت کئی ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ چین سمیت دیگر 38 ممالک پر 12.5 فیصد ڈیوٹی لاگو ہوگی۔
یورپی یونین، جاپان اور جنوبی کوریا جیسے ممالک کے لیے ٹیرف کی مجموعی شرح 10 سے 12.5 فیصد کے درمیان رکھی گئی ہے۔
دوسری جانب متاثرہ ممالک نے ان اقدامات پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ جاپان اور آسٹریلیا نے ان ٹیرف کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ آزاد تجارتی معاہدوں کے منافی ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق اسٹیل اور ایلومینیم جیسے شعبہ جاتی ٹیرف پہلے سے نافذ ہیں اور ان پر نئے اقدامات کا اطلاق نہیں ہوگا، جبکہ توانائی اور کھاد سمیت بعض اشیا کو استثنا دیا گیا ہے۔
اسلام آباد نے بھی جبری مشقت سے متعلق تحقیقات پر امریکی حکام کو تفصیلی جوابات جمع کرائے ہیں، بلکہ حالیہ تجارتی مذاکرات سے ایک روز قبل بھی مزید وضاحتیں فراہم کی تھیں۔
مزید پڑھیں۔ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے 4 معاہدے