بھارت پاکستانی فن سے خوفزدہ ہے، اسی لیے پابندیاں لگاتا ہے: عتیقہ اوڈھو
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
پاکستانی شوبز انڈسٹری کی معروف سینئر اداکارہ عتیقہ اوڈھو نے کہا ہے کہ بھارتی حکومت سوچی سمجھی سازش کے تحت پاکستانی فن اور فنکاروں پر پابندیاں عائد کرتی ہے کیونکہ پاکستانی ڈرامے اور فلمیں ایک منظم پروپیگنڈا بیانیے کو چیلنج کرتی ہیں اور اسے کمزور بناتی ہیں۔ حال ہی میں سینئر اداکارہ نے ایک انٹرویو دیا جہاں انہوں نے مختلف امور پر اپنے خیالات کا اظہار کیا، دورانِ انٹرویو انہوں نے بالی ووڈ میں پاکستانی فنکاروں کی مخالفت پر بھی کھل کر بات کی اور ثقافتی تبادلے، سیاست کے اثرات اور باہمی احترام کے فقدان پر بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ سینئر اداکارہ نے ماضی کو یاد کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ ایک وقت میں بھارتی پروڈکشن ہاؤسز پاکستانی اداکاروں کو کاسٹ کرنے کے لیے مخصوص فوجی فنڈ جمع کروانے کی شرط عائد کرتے تھے، یہ شرط بھارتی فلمی اداروں کی جانب سے لگائی جاتی تھی جو فن اور سیاست کے تصادم کی واضح مثال ہے۔ عتیقہ اوڈھو کا کہنا تھا کہ اس طرح کے اقدامات نہ صرف فنکارانہ آزادی کے منافی تھے بلکہ ثقافتی تبادلے کے عمل کو بھی شدید نقصان پہنچاتے رہے، وہ اس معاملے پر اندرونی طور پر منقسم ہیں کیونکہ ایک طرف وہ سمجھتی ہیں کہ فن کی کوئی سرحد نہیں ہوتی لیکن دوسری طرف خودداری ہر انسان کے لیے ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی فنکاروں اور فلم سازوں نے برسوں بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کی، بھارتی فلمیں پاکستان میں ریلیز کی گئیں اور ان کے اداکاروں کو مدعو بھی کیا گیا جبکہ پاکستانی ڈرامے آج بھی بھارت میں بے حد مقبول ہیں مگر سیاست ہر بار رکاوٹ بن جاتی ہے۔ سینئر اداکارہ کے مطابق بھارت اب مسلسل پاکستان کے خلاف مواد تیار کر رہا ہے اور پاکستانی فنکاروں کو تنقید اور نفرت کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ثقافتی تبادلہ صرف اسی صورت ممکن ہے جب وہ باہمی ہو، یکطرفہ نہیں۔ عتیقہ اوڈھو نے مزید کہا کہ بھارت نے سیاسی بنیادوں پر پاکستانی فلموں کو ریلیز نہیں ہونے دیا، انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ فلم ’دی لیجنڈ آف مولا جٹ‘ نے عالمی سطح پر شاندار کامیابی حاصل کی مگر اس کے باوجود بھارت میں اسے ریلیز کی اجازت نہیں دی گئی، اسی رویّے کے باعث پاکستان نے بھی بھارتی فلموں پر پابندی عائد کی جو نفرت نہیں بلکہ رویّوں کا ردعمل ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: سینئر اداکارہ عتیقہ اوڈھو پاکستانی فن انہوں نے
پڑھیں:
بھارتی سرپرستی میں ملک دشمن پروپیگنڈا، کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان
سیکیورٹی اداروں نے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے معلومات فراہم کرنے والے شخص کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان کیا ہے، جبکہ ان کی تلاش کے لیے مختلف علاقوں میں کارروائیاں جاری ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران حبیبہ پیرجان کی رہائش گاہ سے ڈائریاں، کالعدم بی ایل اے کے ہلاک دہشتگردوں سے متعلق ریکارڈ، ریاست مخالف مواد اور بھارتی فنڈنگ کے شواہد برآمد ہوئے۔ تحقیقات سے حبیبہ پیرجان کے کالعدم بی ایل اے کے اہم کمانڈروں، خصوصاً رستم پیرجان، کے ساتھ روابط سامنے آئے۔
مزید پڑھیں: آسٹریلیا کی جانب سے بی ایل اے اور 3 سینیئر رہنماؤں پر دہشتگردی کے الزامات کے تحت پابندیاں عائد
سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ ان کی پروپیگنڈا شاعری اور زہریلی سوشل میڈیا سرگرمیاں معصوم نوجوانوں میں ریاست مخالف بیانیے اور باغیانہ سوچ کو فروغ دینے کے لیے استعمال کی جاتی رہی ہیں۔
حبیبہ پیرجان، زوجہ حنیف ضلع کیچ کے علاقے دشت کی رہائشی ہیں۔ انہیں 25 مئی 2026 کو کراچی کے علاقے گلشنِ مزدور میں ایک مشترکہ انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن (آئی بی او) کے دوران ٹریس کیا گیا تھا، تاہم علاقے کا محاصرہ مکمل ہونے سے قبل وہ فرار ہونے میں کامیاب ہوگئیں۔
کارروائی کے دوران ان کی رہائش گاہ کی تلاشی لی گئی جہاں سے ڈائریاں، کالعدم بی ایل اے کے ہلاک شدہ عسکریت پسندوں سے متعلق تحریری ریکارڈ اور دیگر مواد برآمد ہوا۔ سیکیورٹی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ برآمد شدہ مواد میں بھارتی مالی معاونت اور ریاست مخالف سرگرمیوں سے متعلق بعض اہم شواہد بھی شامل ہیں جن کا مزید تجزیہ کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات اور انٹیلیجنس معلومات سے حبیبہ پیرجان کے کالعدم بی ایل اے کے متعدد اہم کمانڈروں، بالخصوص رستم پیرجان، کے ساتھ مبینہ قریبی روابط کی نشاندہی ہوئی ہے۔ انہوں نے ضلع کیچ کے دشت کے پہاڑی علاقوں میں رستم پیرجان سے کم از کم 2 ملاقاتیں کیں، جن میں ایک ملاقات رواں سال 14 فروری کو ہونے کا دعویٰ کیا گیا۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دستیاب ریکارڈ سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ وہ اسلحہ اور دیگر سامان کی ترسیل میں سہولت کاری، بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) سے وابستہ متعدد شخصیات سے روابط اور سوشل میڈیا پر بی ایل اے سے منسلک پلیٹ فارمز کے ذریعے ریاست مخالف مواد کی تشہیر میں سرگرم کردار ادا کرتی رہی ہیں۔
ذرائع کے مطابق حبیبہ پیرجان کی شاعری اور تحریروں کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ دستیاب مواد میں ایسی نظمیں اور اشعار شامل ہیں جن میں مسلح عناصر کی تعریف، ریاستی اداروں کے خلاف بیانیے کی ترویج اور نوجوانوں کو باغیانہ سوچ کی جانب راغب کرنے کے عناصر پائے جاتے ہیں۔
ان کی اکثر نظموں میں مسلح گروہوں اور شدت پسندوں کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا ہے، جبکہ بعض تحریروں میں نوجوانوں کو انتخابی عمل سے دور رہنے، ریاستی اداروں کے خلاف نفرت پیدا کرنے اور مسلح جدوجہد کی حمایت پر آمادہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ کالعدم بی ایل اے کے ایک گروپ کے اشتہاری سربراہ حربیار مری کی تحسین میں بھی ایک نظم لکھی گئی ہے، جس کا اردو ترجمہ اور عکس بھی موجود ہے:
حربیار مری کے نام
ٹوٹا ہوا وطن کا آواز ہے حربیار
کالی رات کا خوف ہے حربیار
پہاڑوں میں کھڑا ہوا ہے اپنی بات کہ اوپر
ایک آگ کی طرح ہے حربیار
اسکو خبر ہے اس راستہ کا
آجاؤ ہمسفر ہماری آواز ہے حربیار
حبیبہ سو دفعہ سوچ چکی ہے
ہر بلوچ کا درد وار ہے حربیار
حکام کے مطابق ایسے مواد کو شدت پسندی اور دہشتگردی کے لیے ہمدردی پیدا کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: بی ایل اے کی محدود کارروائیاں اور سوشل میڈیا پر بڑا تاثر دینے کی ناکام حکمت عملی
سیکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ حبیبہ پیرجان کے خلاف دستیاب شواہد اور برآمد شدہ مواد کا فرانزک و قانونی جائزہ جاری ہے، جبکہ ان کی گرفتاری کے لیے مختلف علاقوں میں کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں۔ حکام کے مطابق مطلوب خاتون کے بارے میں مصدقہ معلومات فراہم کرنے والے شخص کے لیے 10 لاکھ روپے انعام مقرر کیا گیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
10 لاکھ روپے انعام انٹیلیجنس معلومات بلوچ یکجہتی کمیٹی پروپیگنڈا شاعری حبیبہ پیرجان رستم پیرجان سیکیورٹی ادارے عسکریت پسند کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کالعدم بی ایل اے