Express News:
2026-07-24@08:25:12 GMT

عوام اور حکومت

اشاعت کی تاریخ: 4th, January 2026 GMT

ریاست اور شہری کے درمیان تعلق ایک معاہدے کی طرح ہے۔ شہری قانون کی پابندی کرتا ہے، ٹیکس دیتا ہے، نظم و ضبط قبول کرتا ہے اور بدلے میں ریاست اسے تحفظ، انصاف اور روزگار کے مساوی مواقع کی ضمانت دیتی ہے۔

جب یہ تعلق کمزور پڑ جائے تو بظاہر یہ لگتا ہے کہ حالات ٹھیک ہیں لیکن عملاً صورتحال مختلف ہوتی ہے، اس کا مطلب ہے کہ حکومتی نظام درست کام نہیں کررہا اور یہی وہ نکتہ ہے جس سے مسائل جنم لیتے ہیں۔

دنیا میں بہت سے ملک یسی ہی صورتحال سے دو چار نظر آتے ہیں۔ جہاں عوام کا نظام پر اعتماد کمزور نظر آتا ہے۔ ایسے ممالک کے شہری خود کو معاشی، سماجی اور نفسیاتی طور پر غیر متعلق محسوس کرتے ہیں۔ قانون موجود ہوتا ہے مگر عملاً انصاف یا تو دستیاب نہیں یا تاخیر سے ملتا ہے۔

ایک عام شہری کو سرکار نظر آتی ہے مگر اکثر دور اور کبھی کبھار ناکام ۔ حکومتیں اگر شہری کو مطمئین دیکھنا چاہتی ہیں تو انھیں شفافیت، جوابدہی اور انصاف کے تقاضے بھی پورے کرنا ہوتے ہیں۔

بدقسمتی سے پاکستان میں بھی طبقہ اشرافیہ کے لیے نرمی، کمزور کے لیے سختی کا تصور ملتا ہے۔ یہ تاثر چاہے درست ہو یا غلط لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ تاثر موجود ہے ۔

عام شہری جب یہ دیکھتا ہے کہ اس کی آواز مؤثر نہیں، شکایت کے ازالے کا راستہ پیچیدہ اور مہنگا ہے ، تو وہ لاتعلق ہو جاتا ہے ۔ یہ لاتعلقی بظاہر سکون کو ظاہر کرتی ہے مگر طویل مدت میں تک برقرار نہیں رہتی ہے۔

تاریخ اقوام عالم کا مطالعہ بتاتا ہے کہ جہاں پالیسی سازی میں شہری کی رائے شامل ہوتی ہے وہاں ریاست اور شہری کا رشتہ بحال رہتا ہے۔

بد قسمتی سے پاکستان میں اس رشتے کی بحالی کے لیے عملی اقدامات کی بجائے محض نعروں اور بیانات سے کام لیا جاتا ہے۔ یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ سیاسی تنقید دشمنی نہیں ہوتی، اختلاف رائیکا مطلب انتشار بھیلانا نہیں ہوتا بلکہ حزب اقتدار کو رہنمائی فراہم کرنا ہوتا ہے۔

ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اعتماد صرف حکومتی اقدامات سے نہیں پیدا ہوتا بلکہ اس میں اپوزیشن کا اہم کردار ہوتا ہے کہ وہ بھی انتشتار پھیلانے سے گریز کرے ۔

اگر ہم واقعی ایک مستحکم پاکستان چاہتے ہیں توحزب اقتدار اور حزب اختلاف کو شہریوں کے مفاداتکو مزید مضبوط کرنا ہوگا اور یہ صرف قانون کی شفافیت اور غیرجانبدار انصاف اور مکالمے کے ذریعے ہی مضبوط کیا جا سکتا ہے۔

تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ آج کے ترقی یافتہ ممالک میں سے بھی کئی ایسے ہیں جو ہم سے ملتے جلتے حالات کا شکار رہے ہیں اور پھر کامیابی سے اپنے حالات بدلنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

ان ممالک نے اپنی سمت درست کی، ابتدا میں خود احتسابی کا راستہ اپنایا اور پھر اصلاحات کا عمل شروع کیا اور منزل کو پا لیا۔ برطانیہ بھی انیسویں صدی میں صنعتی انقلاب کے بعد اسی نوعیت کے مسائل سے دوچار ہوا تھا۔

مزدور اور غریب کے درمیان فرق بہت زیادہ تھا، قانون امیروں کا محافظ سمجھا جاتا تھا۔ پھر ریاست نے مقامی حکومتوں اور آزاد عدالتی نظام کو مضبوط کیا، جس سے شہری کو یہ احساس ہوا کہ قانون اس کے ساتھ کھڑا ہے۔

اسی طرح دوسری جنگ عظیم کے بعد جاپان میں ریاستی ڈھانچہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھا اور شہری شدید بداعتمادی کا شکار تھے۔ جاپانی ریاست نے طاقت کے بجائے کارکردگی اور شفافیت کو بنیاد بنایا، بیوروکریسی کو جوابدہ کیا گیا، تعلیم اور مقامی نظام حکومت یا بلدیاتی ڈھانچے کو مضبوط بنایا گیا، شہریوں کو فیصلہ سازی کے عمل میں شریک کیا گیا۔

نتیجتاً اعتماد بحال ہوا اور ریاست مضبوط ہوئی۔ اسکینڈینیوین ممالک خصوصاً سویڈن، ڈنمارک اور ناروے جو اس وقت دنیا بھر کی مثالی ویلفیئر ریاستیں ہیں، وہاں کے شہری بھی ماضی میں ریاستی طاقت اور شہری آزادی کے توازن میں بحران کا شکار رہے۔

ان ممالک نے بحران سے نکلنے کے لیے قانون کی بالادستی کو کو یقینی بنایا، ٹیکس دینے والوں کے لیے معیاری سہولیات فراہم کیں اور شفافیت کو حکمرانی کا بنیادی اصول بنایا۔ سویڈن، ناروے اور ڈنمارک اس کی مثال ہے۔

ان تمام مثالوں سے یہی سبق ملتا ہے کہ اعتماد بیانات اور نعروں سے نہیں بلکہ عمل سے بحال ہوتا ہے۔ جب شہری کو بینادی ضروریات میسر آتی ہیں، اس کی عزت نفس کا خیال رکھا جاتا ہے اور قانون سب کے لیے برابر ہوتا ہے تو عوام کا حکومت پر اعتماد بحال ہوجاتا ہے۔
’’صلائے عام ہے یاران نکتہ داں کے لیے‘‘

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: سہیلیوں کے قصے اور شہری ہوتا ہے شہری کو جاتا ہے کا شکار کے لیے

پڑھیں:

رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے اور ان کی خواہش ہے کہ وزیراعظم پاکستان ہی آزاد کشمیر کا وزیراعظم منتخب کرے۔آزاد کشمیر کے علاقے میرپور میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے ایک بار پھر حق  حکمرانی، مالکیت اور حق روزگار کا انتخابی ایجنڈا دہراتے ہوئے کہا کہ اگر کشمیریوں نے انتخابات میں ووٹ دے کر اکثریت دلوائی تو یہ تینوں مسائل حل کردیں گے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ کشمیر میں گزشتہ چھ ماہ سے ہماری حکومت ہے اور یہاں پر جو کام کیے اُن پر فخر ہے۔ انہوں نے کہا کہ سڑکوں کی بات کرنے والوں کو پنجاب کی سڑکیں ہی ٹھیک لگتی ہیں اور کہتے ہیں کہ صوبے سے نکلتے ہی سڑکیں خراب ہیں۔ انہوں نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ رائیونڈ کو پنجاب سمجھتے ہیں کیونکہ اندرون صوبے کی حالت بہت بری ہے اور انہیں اس کی کوئی پرواہ بھی نہیں ہے۔ بلاول کا کہنا تھا کہ اب یہ چاہتے ہیں کہ وزیراعظم آزاد کشمیر کا فیصلہ اسلام آباد سے ہو اور رائیونڈ کا ایک شہر اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننے کا خواہش مند ہے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

مزید :

متعلقہ مضامین

  • پیٹرول مہنگا، کیا دفتروں کے لیے ہفتہ دوبارہ 3 یا 4 روز پر مشتمل ہوسکتا ہے؟
  • نیب کیسز کی مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ  جاری کردیاگیا
  • پٹرول کی قیمت میں 4 روپے اضافے پر شہری مایوس، فوری ریلیف کا مطالبہ
  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ، شہری پھٹ پڑے
  • حکومت نے یومیہ بنیادوں پر آج پھر عوام پر پیٹرول بم گرا دیا
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن