چین کا امریکہ سے وینزویلا کے صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کی رہائی کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 4th, January 2026 GMT
چین کا امریکہ سے وینزویلا کے صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کی رہائی کا مطالبہ WhatsAppFacebookTwitter 0 4 January, 2026 سب نیوز
بیجنگ (سب نیوز) چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے امریکہ کی جانب سے وینزویلا کے صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کو زبردستی حراست میں لینے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کا یہ اقدام واضح طور پر بین الاقوامی قوانین اور بین الاقوامی تعلقات کے بنیادی اصولوں نیز اقوام متحدہ کے منشور کے مقاصد اور اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔
چین امریکہ سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کے تحفظ کو یقینی بناتے ہوئے انہیں فوری طور پر رہا کرے، وینزویلا کی حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش بند کرے اور بات چیت اور مذاکرات کے ذریعے مسئلے کو حل کرے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرجب بالادستی قوانین پر حاوی ہو جائے: مادورو کی گرفتاری اور امریکی رویے کا خطرناک اشارہ جب بالادستی قوانین پر حاوی ہو جائے: مادورو کی گرفتاری اور امریکی رویے کا خطرناک اشارہ وینزویلا پر امریکی کارروائی کے بعد عالمی تشویش، سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب روسی وزارتِ خارجہ کی وینزویلا کے خلاف امریکی مسلح کارروائی کی شدید مذمت چین کی وینزویلا پر امریکی فوجی حملے کی شدید مذمت وینزویلا میں امریکی حملے میں گرفتار صدر نکولس مادورو نیویارک پہنچا دیا گیا وینزویلا کسی کی کالونی نہیں بنے گا، امریکی کارروائی پر نائب صدر کا دو ٹوک اعلانCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: صدر مادورو اور ان کی اہلیہ وینزویلا کے
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔