کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ ایم کیو ایم اور پیپلزپارٹی پر برا وقت آتا ہے تو مصنوعی لڑائی لڑنا شروع کردیتے ہیں، کراچی میں پیپلز پارٹی کو بھی فارم 47 کے ذریعے مسلط کیا گیا، پیپلز پارٹی کراچی دشمن جماعت ہے ان کو کوئی ووٹ نہیں دیتا۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ کراچی منی پاکستان ہے اور پیپلز پارٹی کراچی سے دشمنی کرتی ہے۔ کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکا نے دنیا کے تمام قوانین کو روندتے ہوئے وینزویلا کے صدر اور ان کی اہلیہ کو اغواء کیا، اب امریکا کی جارحانہ پالیسی کا سلسلہ نہیں چلے گا، امریکا میں بھی اب ٹرمپ کے خلاف لہر چلنا شروع ہوگئی ہے، پاکستان کی طرف سے کوئی بیان نہیں دیا گیا۔ حافظ نعیم الرحمان نے پاکستان کی حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی حکومت کو سمجھنا چاہیے، امریکی ایجنڈا پورا کرنے میں خیر نہیں ہوگی۔ اسرائیل سے متعلق انہوں نے کہا کہ اسرائیل جنگ بندی کے بعد بھی خلاف ورزی کر رہا ہے اور امریکا اسرائیل کی پشت پناہی کر رہا ہے، فلسطین میں قتل عام میں امریکا ملوث ہے، غزہ میں اس وقت صورت حال خراب ہے اور وہاں پر موسم خراب ہے اور اسرائیل امدادی کاموں میں رکاوٹ ڈال رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ملک کے چاروں صوبوں میں گورننس کا بحران ہے، پنجاب کا تقابل پنجاب کے فنڈز سے کیا جائے، کراچی کا پنچاب سے موازنہ نہ کیا جائے، پنجاب میں جتنے فنڈز ملتے ہیں اس حساب سے کارکردگی دیکھی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ کہ سندھ کی صورتحال کو دیکھتے ہیں تو دل خون کے آنسو روتا ہے، یہ لوگ غلط بیانی سے کام لیتے ہیں، سندھ کا تو برا حال ہے ہی لیکن پنجاب میں بھی دودھ کی نہر نہیں بہہ رہی، سندھ حکومت کراچی کے 3 ہزار 4 سو ارب کھا گئی ہے، نعمت اللہ خان نے اپنے دور کے آخر میں کے فور پر کام شروع کردیا تھا، 21 سال ہوگئے ابھی تک منصوبہ مکمل نہیں ہوا۔ حافظ نعیم نے کہا کہ ایم کیو ایم اور پیپلزپارٹی پر برا وقت آتا ہے تو مصنوعی لڑائی لڑنا شروع کردیتے ہیں، کراچی میں پیپلز پارٹی کو بھی فارم 47 کے ذریعے مسلط کیا گیا، پیپلز پارٹی کراچی دشمن جماعت ہے ان کو کوئی ووٹ نہیں دیتا، آئین میں ترمیم کرنی ہو تو پیپلز پارٹی حکومت کا ساتھ دیتی ہے، جب عوام کی بات آئے تو بلیم گیم شروع ہو جاتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: پیپلز پارٹی حافظ نعیم کراچی میں اور پیپلز نے کہا کہ ہے اور

پڑھیں:

ایرانی ٹماٹر بھی ریلیف نہ لا سکے، کراچی میں قیمتیں آسمان پر

کراچی کی ایمپریس مارکیٹ کی سبزی منڈی میں صبح سے ہی خریداروں کا رش تھا، مگر ایک چیز ہر چہرے پر مشترک نظر آئی۔۔۔ مایوسی۔

ایک خاتون دکاندار سے ٹماٹر کا ریٹ پوچھتی ہیں۔ جواب ملتا ہے: 500 روپے کلو۔ وہ چند لمحے خاموش رہتی ہیں، پھر بغیر ٹماٹر لیے آگے بڑھ جاتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ٹماٹروں کی فی کلو قیمت 600 روپے سے بھی تجاوز کر گئی، سبب کیا ہے؟

یہ منظر اب کراچی کے کئی بازاروں میں معمول بنتا جا رہا ہے۔

چند ہفتے پہلے امید بندھی تھی کہ ایران سے ٹماٹروں کی آمد شروع ہوگی تو شاید قیمتیں نیچے آ جائیں گی، مگر یہ امید بھی مہنگائی کی نذر ہو گئی۔

آج بھی شہر کے مختلف علاقوں میں ایرانی اور کوئٹہ سے آنے والے ٹماٹر 450 سے 500 روپے فی کلو فروخت ہو رہے ہیں، جبکہ کم معیار کے ٹماٹر بھی 400 روپے سے کم دستیاب نہیں۔

’اب سالن کے لیے ٹماٹر نہیں، دہی اور املی ڈال رہے ہیں‘

کراچی کی تاریخی ایمپریس مارکیٹ میں شہریوں نے بتایا کہ بہت سے گھروں کے لیے ٹماٹر اب روزمرہ کی سبزی نہیں بلکہ ایک سوچ سمجھ کر خریدی جانے والا کچن آئٹم بن چکا ہے۔

ایک شہری نے قدرے مایوس لہجے میں استفسار کیا کہ 500 روپے کلو ٹماٹر غریب آدمی کیسے خریدے۔ ’بیشترلوگ اب سالن میں ٹماٹر کے بجائے دہی یا املی استعمال کر رہے ہیں کیونکہ گھر کا خرچ پورا کرنا مشکل ہو گیا ہے۔

ایک اور بزرگ نے سوالیہ انداز میں کہا کہ مزدور کی دیہاڑی 8 یا 9 سو روپے ہو تو وہ ایک کلو ٹماٹر خریدے یا بچوں کے لیے آٹا، سبزی اور دودھ لے۔

بازار میں موجود کئی خریداروں نے یہی شکایت دہرائی کہ انہیں بتایا گیا تھا کہ ایران سے ٹماٹر آرہے ہیں، لیکن قیمت میں وہ کمی نہیں آئی جس کی امید تھی۔

قیمتیں آخر کم کیوں نہیں ہو رہیں؟

سبزی فروشوں اور تاجروں کے مطابق مسئلہ صرف درآمدات کا نہیں، بلکہ سپلائی چین کا بھی ہے۔

سبزی فروشوں کے مطابق ایران سے روزانہ تقریباً 10 کنٹینرز ٹماٹر کراچی پہنچ رہے ہیں لیکن یہ مقدار شہر کی طلب کے مقابلے میں ناکافی سمجھی جا رہی ہے۔

اس کے علاوہ تقریباً 30 فیصد مال خراب ہو جاتا ہے، جس سے مارکیٹ میں دستیاب مقدار مزید کم ہو جاتی ہے۔

دوسری جانب کوئٹہ سے سپلائی محدود ہے، سندھ کی نئی فصل ابھی مکمل طور پر مارکیٹ میں نہیں آئی، جبکہ حالیہ بارشوں اور نقل و حمل کے بڑھتے ہوئے اخراجات نے بھی قیمتوں کو اوپر رکھا ہوا ہے۔

50 روپے مالیت کے 2 ٹماٹر

چند ماہ پہلے یہی ٹماٹر 80 سے 100 روپے فی کلو میں دستیاب تھے، بعد ازاں قیمت 120، پھر 300، اور اب 500 روپے فی کلو تک جا پہنچی ہے۔

بازار میں اب صورتِ حال یہ ہے کہ 50 سے 60 روپے میں صرف 2 یا 3 چھوٹے ٹماٹر دستیاب ہیں۔

یہ اضافہ صرف ایک سبزی کی قیمت میں نہیں، بلکہ عام آدمی کی قوتِ خرید میں مسلسل کمی کی عکاسی بھی کرتا ہے۔

عوام کو وجوہات نہیں، ریلیف چاہیے

ایمپریس مارکیٹ میں آئے شہریوں کا مؤقف تقریباً یکساں تھا، ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران سے درآمدات ہو رہی ہیں تو اس کا فائدہ بھی صارف تک پہنچنا چاہیے۔

عوام سپلائی، بارشوں یا خراب مال کی وجوہات ضرور سمجھتے ہیں، لیکن ان کے لیے اصل سوال یہ ہے کہ گھر کا بجٹ کیسے چلے؟

مزید پڑھیں: قیمتوں میں ہوشربا اضافہ، ’مرغی میں ٹماٹر ڈالیں یا ٹماٹر میں مرغی‘

ایک شہری نے جاتے جاتے صرف اتنا کہا کہ ٹماٹر پر ہی موقف نہیں، اب تو سبزی، دال اور گوشت، سب کچھ عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتا جا رہا ہے۔

شاید یہی ایک تبصرہ رائے عامہ کا اہم خلاصہ بھی تھا کیونکہ جب روزمرہ کھانے کا بنیادی جزو بھی ایک خاندان کے کچن بجٹ پر بوجھ بننا شروع ہوجائے تو مسئلہ ہر اس خاندان کا بن جاتا ہے جو مہنگائی کے ساتھ روز ایک نئی جنگ لڑ رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آٹا ایران ایمپریس مارکیٹ بارش ٹماٹر دسترخوان دودھ ریلیف سبزی سندھ طلب قوت خرید کچن بجٹ کراچی کنٹینرز مہنگائی نقل وحمل

متعلقہ مضامین

  • امریکا کی مدد کرنے والے ممالک بھی نشانے پر آسکتے ہیں، ایران کی سخت وارننگ
  • ایرانی ٹماٹر بھی ریلیف نہ لا سکے، کراچی میں قیمتیں آسمان پر
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران