کراچی: کورنگی میں خاتون اور بچوں سمیت 5 افراد کنویں میں گرگئے
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260105-08-27
کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) کراچی کے علاقے کورنگی مہران ٹاؤن میں سیوریج کے کئی فٹ گہرے خشک کنویں کی چھت ٹوٹنے سے2 خواتین اور2 کم عمربچوں سمیت 5 افراد گر گئے جنہیں زخمی حالت میں نکال کر جناح اسپتال منتقل کردیا گیا ، جہاں شدید زخمی ایک خاتون کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ خشک کنویں میں گرکرزخمی ہونے والوں میں 40 سالہ دلشاد زوجہ شوکت ،55 سالہ شمیم ، 60 سالہ اعظم خان اور 2 کم عمر بچوں 15 سالہ مریم خان اور12 سالہ عثمان شامل ہیں۔ انچارج ریسکیو1122 علی رضا کے مطابق سیوریج کے خشک کنویں میں گرنے والے افراد قریب ہونے والی شادی کی تقریب میں شرکت کے لیے آئے تھے اورگاڑی کے وزن سے خشک کنویں کی چھت ٹوٹ گئی اور گاڑی سے اترتے ہی تمام افراد خشک کنویں میں گرگئے تھے جنہیں بحفاظت نکال کراسپتال منتقل کردیا گیا۔ علاقہ مکینوں نے بتایاکہ حادثے میں زخمی ہونے والے اعظم خان کوہاٹی کے بیٹے کی شادی تھی اورباراتی شادی ہال جا رہے تھے باراتیوں کو شادی ہال لیجانے کے لیے ایک بڑی گاڑی آئی تھی اور گاڑی کے وزن سے خشک کنویں کی چھت ٹوٹ گئی جس کے نتیجے میں بس سے اترنے والی 2 خواتین اور2 بچے خشک کنویں میں جا گرے۔ علاقہ مکینوں نے بتایا کہ خشک کنویں 60 سے 70 فٹ گہرا تھا کنویں میں گرنے والے افراد کوبچانے کے لیے اعظم کوہاٹی نے بھی کنویں میں چھلانگ لگادی۔ پانچوں افراد کوعلاقہ مکینوں کی مدد سے نکال کر اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔ ایس ایچ او نے بتایا کہ علاقے میں گٹرلائن ڈلنے سے قبل علاقے میں واقع مدرسے کی انتظامیہ کی جانب سے سیوریج کا کنویں کھودا گیا تھا علاقے میں سیوریج لائن ڈلنے کے بعد سیوریج کنویں کو بند کردیا گیا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: خشک کنویں میں کردیا گیا
پڑھیں:
کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
کراچی کے ساحلی علاقے کیماڑی میں پولیس نے ایک 6 سالہ بچی کے اغوا اور سفاکانہ قتل میں ملوث مرکزی ملزم کو مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
پولیس ترجمان کے مطابق یہ پیش رفت جیرکسن تھانے کی حدود میں پیش آئی، جہاں مبینہ ملزم کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس پارٹی نے مبارک مسجد کے قریب چھاپہ مارا۔ پولیس کو دیکھتے ہی ملزم نے اہلکاروں پر براہِ راست فائرنگ شروع کر دی، جس پر پولیس نے بھی جوابی فائرنگ کی۔ اس تبادلے میں ملزم گولی لگنے سے شدید زخمی ہوا اور بعد میں دم توڑ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم تک رسائی مختلف علاقوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی تفصیلی جانچ پڑتال اور دیگر تکنیکی و جغرافیائی شواہد کی مدد سے ممکن ہوئی۔ اس سے قبل، معصوم بچی کی لاش منوہرہ کے قریب جھاڑیوں سے برآمد ہوئی تھی۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے میڈیکو لیگل کا جائزہ لینے کے بعد تصدیق کی کہ بچی کو بدترین جنسی تشدد اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ اس کے پورے جسم پر تشدد کے واضح نشانات موجود ہیں۔ بچی کی موت کی حتمی وجہ کا تعین فارنسک لیبارٹری کو بھیجے گئے نمونوں کی رپورٹ آنے کے بعد کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور: 8 سالہ بچی مبینہ زیادتی کے بعد قتل، لاش ہمسائے کے صندوق سے برآمد
پولیس کے مطابق جیرکسن تھانے میں پہلے ہی بچی کے اغوا اور قتل کے حوالے سے پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 364-A اور 302 کے تحت مقدمہ (FIR No. 265/2026) درج تھا۔ اب پولیس مقابلے کا ایک الگ کیس بھی اسی تھانے میں درج کیا جا رہا ہے اور کرائم سین کو سیل کر کے تمام سائنسی و فارنسک ثبوت تحویل میں لے لیے گئے ہیں۔
اس واقعے سے چند ہی دن قبل بھی کراچی میں 6 سالہ بچے کے اغوا، زیادتی اور قتل کے الزام میں ایک 20 سالہ نوجوان کو گرفتار کیا گیا تھا، جس کی لاش بوری میں بند کر کے ویران پلاٹ پر پھینکی گئی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پولیس مقابلہ زیادتی قتل کراچی کمسن بچی ملزم ہلاک