پشاور:

پشاور شہر اور نواحی علاقے گہرے بادلوں کے لپیٹ میں ہے جبکہ بادلوں کے ساتھ موسم بھی شدید سرد ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق خیبر پختونخوا کے بیشتر اضلاع میں موسم خشک اور سرد جبکہ بالائی اضلاع میں شدید سرد رہنے کا امکان ہے۔ صوبے کے میدانی علاقوں پشاور، چارسدہ، نوشہرہ، مردان، صوابی، صوابی، کرک اور بنوں میں دھند چھائے رہنے کا امکان ہے۔

لکی مروت، ڈیرہ اسماعیل خان، جی ٹی روڈ  پر صبح سویرے اور رات کے اوقات میں دھند چھائے رہنے کا امکان ہے۔ گزشتہ روز دیر اور باجوڑ میں بعض مقامات پر ہلکی بارش ریکارڈ کی گئی۔

محکمہ موسمیات کے مطابق سب سے زیادہ سردی کالام میں منفی 6 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کی گئی جبکہ پاراچنار اور مالم جبہ میں منفی 3، دیر بالا میں منفی 2، دروش اور چترال میں منفی ایک ریکارڈ کیا گیا۔ پشاور اور ڈیرہ اسماعیل خان کا درجہ حرات 6 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔

دوسری جانب، پی آئی اے کے مطابق باچا خان انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر دھند کے باعث پروازوں کی آمد و رفت متاثر رہی، خراب موسم اور کم حدِ نگاہ کے باعث قطر ایئرویز کی پرواز اسلام آباد منتقل کی گئی۔

سلام ایئر کی مسقط سے آنے والی پرواز خراب موسم کے باعث سیالکوٹ اور فلائی عدیل کی ریاض سے آنے والی پرواز خراب موسم کے باعث کراچی منتقل کی گئی۔ سلام ایئر اور ایئر عربیہ کی پروازیں خراب موسم کے باعث تاخیر کا شکار ہے۔

پی اے اے کے مطابق دھند کے باعث حدِ نگاہ 300 سے 360 میٹر تک محدود ہوئی۔ ایئرپورٹ پر صبح 08:45 تک ناقص حدنگاہ ناقص رہنے کا امکان ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: رہنے کا امکان ہے ریکارڈ کی میں منفی کے مطابق کے باعث کی گئی

پڑھیں:

کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔

اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔ 

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔ 

خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔ 

خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔  

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں ہواؤں کی رفتار کم ہوگئی، درجہ حرارت بڑھنے کا امکان
  • لاہور میں آج موسم ابرآلود، بارش کا کتنا امکان؟
  • خیبر پی کے میں بلدیاتی انتخابات 2 مراحل میں ہونے کا امکان 
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن