ایران پر حملہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں، نیتن یاہو کا پوتن کے ذریعے پیغام، صیہونی میڈیا کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
رپورٹ کے مطابق، صیہونی حکومت کے ریڈیو اور ٹیلی ویژن آرگنائزیشن نے سفارتی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ نتن یاہو نے پوتن کے ساتھ ٹیلی فون پر بات چیت کی اور ان کے ذریعے ایران کو کشیدگی نہ بڑھانے کے پیغامات بھیجے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ صیہونی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ نیتن یاہو نے روسی صدر ولادمیر پوتن کے ذریعے ایران کو پیغام بھیجا ہے کہ اسرائیل کا ایران پر حملہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں۔ رپورٹ کے مطابق، صیہونی حکومت کے ریڈیو اور ٹیلی ویژن آرگنائزیشن نے سفارتی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ نتن یاہو نے پوتن کے ساتھ ٹیلی فون پر بات چیت کی اور ان کے ذریعے ایران کو کشیدگی نہ بڑھانے کے پیغامات بھیجے ہیں۔ سفارتی ذرائع کے مطابق، نیتن یاہو نے پوتن کو بتایا ہے کہ اسرائیل کا ایران پر حملہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ قابض حکومت کے وزیر اعظم نے یہ دعویٰ کیا کہ "اگر اسرائیل پر حملہ کیا گیا تو اس کے بہت سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ اسرائیل کو اس بات کی فکر ہے کہ ایران پہلے ہی اسرائیل پر حملہ کریگا۔"
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کے ذریعے یاہو نے پوتن کے پر حملہ
پڑھیں:
اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل کی عدم آمادگی امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل اس وقت ایسے کسی معاہدے کیلئے تیار دکھائی نہیں دیتا، جس کے تحت لبنان میں جاری کشیدگی اور جنگی کارروائیوں کا خاتمہ ضروری ہو۔ مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اب بھی بعض اختلافات موجود ہیں، تاہم دونوں ممالک ایسے معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں، جسے بعد میں مزید تفصیل کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے وسعت دی جا سکے، حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے پر آمادہ نہ ہونے کی اسرائیلی پالیسی پورے عمل کو سبوتاژ کرنے اور امریکہ ایران معاہدے کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔